مظلوم کشمیری اور عالمی طاقتیں

مظلوم کشمیری اور عالمی طاقتیں
مظلوم کشمیری اور عالمی طاقتیں

  


جنت نظیر وادی میں جاری بھارتی مظالم کے خلاف بھر پور احتجاج کر کے بھارتی قیادت کو واضح پیغام دیا گیا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں تمام پاکستانی اپنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ ویسے تو بیچارے کشمیری بہتر سال سے بھارتی جبر کا شکار ہیں اور جدوجہد آزادی کے لئے ان گنت قربانیاں دے چکے ہیں، لیکن گزشتہ دنوں مودی سرکار نے آرٹیکل 370اور 35 اے کا خاتمہ کر کے نہ صرف کشمیریوں کی الگ شناخت ختم کرنے کی مذموم کوشش کی ہے، بلکہ کرفیو کا نفاذ کر کے جس طرح نہتے کشمیریوں پر زندگی تنگ کر دی ہے اس سفاکیت کی مثال نہیں ملتی۔اس وقت صورت حال یہ ہے کہ کرفیو کو چار ہفتے گزر چکے ہیں،ہر طرف ہو کا عالم ہے، جگہ جگہ بھارتی فوجی دندناتے پھر رہے ہیں، لاچار کشمیری گھروں میں محصور ہو چکے ہیں،کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات تک ختم ہو چکی ہیں، کمزور کشمیریوں کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور زندگی کی رمق دم توڑ رہی ہے، لیکن دوسری طرف ذرائع کے مطابق گجرات کے بے رحم قصائی نے کشمیریوں کی نسل کشی کے لئے تیاریاں شروع کر دی ہیں،تاکہ اکثریت کو اقلیت میں بدل کر مطلوبہ مقاصد حاصل کیے جائیں۔ نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق حریت راہنماوں کے علاوہ ہزاروں کشمیری نو جوانوں کو گرفتار کر کے بھارت کے مختلف حصوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ آبادی کے تناسب کو اس طرح بدلنے کا یہ منصوبہ جنیوا کنونشن کے تحت ایک طرح کا جنگی جرم ہے،لیکن شرانگیز مودی تمام انسانی حدیں پار کر چکا ہے۔

دوسری طرف عالمی برادری کی طرف سے خاموشی کے بادل چھائے ہیں جو کافی معنی خیز ہیں۔ سفارتی سطح پر پاکستان کی بھرپور کاوشوں کے بعد جب سلامتی کونسل نے پچھلے پچاس برس میں کشمیر کے معاملے پر پہلی مرتبہ خصوصی اجلاس بلایا تو اسے خوش آئند قرار دیا گیا۔ اقوام متحدہ کے پاس یہ ایک بہترین موقع تھا کہ وہ اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کروا کر کشمیر کے تنازع کاحل کروا دیتی،لیکن یہاں بھی بد قسمتی سے سلسلہ چندمذ متی بیانات سے آگے نہ بڑھ سکا۔ مسلم ممالک کا اس معاملے میں کیا کردار رہا جس بے حسی کا مظاہرہ مسلم ممالک نے کیا ہے اس پر اب بھی یقین نہیں آتا۔مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کی نمائندہ تنظیم او آئی سی نے صرف چند بیانات دینے پر اکتفا کیا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ مسلمان ممالک میں کام کرنے والے لاکھوں ہندوستانیوں کو وہاں سے نکال دیا جاتا تو مودی کی عقل ٹھکانے آجاتی، لیکن یہاں تو الٹی گنگا بہہ گئی کچھ مسلمان ممالک نے اپنی سرمایہ کاری اور تجارتی مفادات کو ترجیح دی اور متحدہ عرب امارات نے تو کشمیریوں کے قاتل مودی کو اپنے ملک کا سب سے بڑا سول ایوارڈ تک دے دیا۔مسلمان ممالک کے اس طرز عمل پر میری ذاتی رائے کے مطابق تو مزید کوئی تبصرہ نہیں کیا جا سکتا ۔ البتہ اگریہ سب انفرادیت کا شکار ہو کر مرنا چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے پھر دنیا کی کون سی طاقت ان کو مرنے سے روک سکتی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سردست کشمیر کے معاملے کا حل کیا ہے؟ سفارتی سطح تک تو پاکستانی قیادت نے اس معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کروانے کے لئے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ پاکستانی وزیراعظم نے عالمی طاقتوں کو واضح پیغام دیا ہے کہ ان کے پاس بہت بڑا موقع ہے کہ وہ اس معاملے کا تصفیہ طلب حل نکلوائیں اور اگر خدانخواستہ جنگ شروع ہو گئی تو اس کے تباہ کن نتائج آدھی دنیا کو بھگتنا ہوں گے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستاں آخری وقت تک کوشش کر رہا ہے کہ جنگ کی بجائے معاملات مذاکرات سے حل کئے جائیں، کیونکہ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتیں، یہ تو مسائل کو جنم دیتی ہیں،لیکن اب یہاں عقل کے اندھے مودی اور اس کے ساتھیوں کو کون سمجھائے کہ دو ایٹمی صلاحیتوں کے حامل ممالک کے درمیان جنگ کتنے انسانی المیوں کو جنم دے گی، کتنے کروڑ افراد لقمہ اجل بنیں گے اور نسل انسانی اس کے کیا نتائج بھگتے گی؟

فی الوقت ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور انسانی حقوق کے علمبر دار کشمیر ی عوام کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کریں اور بے بس کشمیری عوام کو مودی کی وحشت و درندگی سے نجات دلوانے کے لئے اپنا اثرو رسوخ استعمال کریں،اگر حالات جوں کے توں رہے اور دنیا تماشہ دیکھتی رہی تو تمام ممالک یاد رکھیں کہ پھر خطے میں جنگ کے بادل آئے روز گہرے ہوتے جارہے ہیں، جن کی لپیٹ میں بہت سارے ممالک آئیں گے۔ امید واثق ہے کہ سلامتی کونسل اور دوسری عالمی طاقتیں اس مسئلے کے حل کے لئے فی الفور عملی اقدامات اٹھائیں گی۔

مزید : رائے /کالم


loading...