”اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں“

”اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں“
”اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں“

  


تحریک انصاف کی حکومت کا ایک سال پورا ہو گیا۔ حکومتی ترجمان کامیابیوں کے بلند بانگ دعوے کررہے ہیں جبکہ اپوزیشن والے کہہ رہے ہیں کہ ”کچھ بھی تو اچھانہیں کیا“ ہم بھی کھڑے حساب کررہے ہیں اور لال چند یملا جٹ کا گیت دل سوز آواز میں گا رہے ہیں،”دس میں کی پیار وچوں کھٹیا“ یعنی مجھے پیار کرنے کا کیا صلہ ملا۔ ہم یعنی ایک خاموش اکثریت کہلانے والے ایک عام شہری کا تازہ ”پیار“ عمران خان کے نام کی وجہ سے تحریک انصاف سے تھا۔اس سے پہلے ہمارا پیار”ن لیگ“ اور اس سے پہلے بے نظیروالی ”پیپلز پارٹی“ سے تھا کیونکہ اس سے پہلے والے زمانے میں ہم نابالغ تھے،ہمارا ووٹ نہیں بنا تھا۔ تین تین پیار کا اعتراف کرنے سے آپ ہمیں بے وفا نہ سمجھ لیں بلکہ ہم تو سراپا عشق تھے۔ ہم وہ بدقسمت عاشق ہیں جس کو ہر بار معشوق ہی لات مار کرحلقہ عاشقی سے باہر کر دیتا ہے۔ ضیاالحق کے زمانے میں ہم گنگنایا کرتے،”وہ صبح کبھی تو آئے گی،جب سکھ کا ساغر چھلکے گا“ ایک دن بجائے ”آیت الکرسی“ کے یہی گیت گنگنا کر جب ہم سوئے تو جناب فیض احمد فیض نے خواب میں آکربڑے پیار سے ہمیں خواب ہی سے جگا یا اور کہا،بیٹا”جاگو ہوا سویرا“ واقعی نئے سویرے کے ساتھ پیپلز پارٹی کی حکومت آگئی اور بجائے ہمارے یعنی عوام کے مسائل حل کرنے کے ”چھانگا مانگا“ کھیل کھیلنے لگی۔

ہم انتظار کرتے رہے کب ایسے کھیل ختم ہوں اور ہماری باری آئے یعنی عوام کے بارے میں کچھ کیا جائے ان کے مسائل اور مصائب پر غور کیا جائے لیکن حکومت نے سوائے اس کے باقی ہر کام کیا۔ جو بڑا ظلم ہوا وہ اس آس کے ٹوٹنے کا ہوا جو ہم نے عوامی حکومت سے وابستہ کرلی تھی۔ سویرا تو نکلا،نہ جانے سرخ سویرا تھا یا سبز،نیلا یا پیلا، ہمارے لئے تو کالا سویرا ثابت ہوا،”دل کے ارماں آنسوؤ ں میں بہہ گئے“سارا رومانس غارت ہو گیا۔ معشوق کی لات اور سو جوتے کھانے کے بعد اب ہماری سو پیاز کھانے کی باری آئی اور ہم ”ن لیگ“ کے عاشق ہو گئے۔ ہمارے عشق اور ووٹوں کی بدولت ن لیگ کی حکومت آگئی۔ ہمارے نام سے حکومت کرنے والوں کے پاس بھی سب کے لئے وقت تھا سوائے ہمارے لئے۔

پرویز مشرف کی حکومت آئی تو ہم نے ”وہ صبح کبھی تو آئے گی“ جیسے فضول گیت گانے چھوڑ دیے کیونکہ ہم زمینی حقائق سے واقف ہو چکے تھے اور جانتے تھے کہ”دستیاب سیاسی خام مال“ کی موجودگی میں ایسی کسی نام نہاد صبح کا تصور بھی پاگل پن کی علامت گنا جائے گا۔ نصیب میں ابھی مزیدسو جوتے اورسو پیاز کھانے باقی تھے سو ایک ایک دفعہ پھر پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی حکومت کو بھگتایا۔ پھروہ ہوا جس کا تصور بھی نہیں تھا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے علاوہ کوئی اور پارٹی بھی برسر اقتدار آسکتی ہے لیکن انہونی ہو گئی اور ہمارے تازہ عشق کی بدولت تحریک انصاف کی حکومت آگئی لیکن اس ایک سال کی حکومت کا حاصل تجزیہ یہ ہے کہ اب ہم سو پیاز اور سو جوتے دونوں کھا رہے ہیں اور وہ بھی مسلسل۔ وزیر اعظم کے ارد گرد ”پورس کے ہاتھی“ کھڑے ہیں جو اپنی ہی فوج کو روندتے رہتے ہیں۔ وہ عوام کی طرف منہ کرکے ڈرائے جارہے ہیں کہ ”کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔“

اب بقول ان کے کرپشن کی گاڑی رک چکی ہے۔ عوام کا لوٹا پیسہ بھی واپس آرہا ہے لیکن جواب میں عوام کو کیا مل رہا ہے؟ مہنگائی اور مسلسل بڑھتی مہنگائی۔ کسی زمانے میں اشیائے صرف کے دام صرف بجٹ میں بڑھائے جاتے تھے مگر اب جب بھی دال، چینی،پتی لینے جاؤ،دام پہلے سے بڑھے ہوتے ہیں۔ ”کرے کوئی بھرے کوئی“ کیا کبھی کسی ملک کی تاریخ میں ایسا ہوا ہے کہ بجلی اور گیس کی قیمت پانچ یا دس فیصد کی بجائے سو فیصد سے بھی زیادہ بڑھا دی جائے۔ جو لوگ راشی ہیں، رئیس ہیں یا کاروباری ہیں، ان کو تو فرق نہیں پڑتا،فرق عام لوگوں کو پڑتا ہے وہ کدھر جائیں۔ عمران خان سے گزارش ہے کہ ایک خصوصی اجلاس عوام کے لئے بھی کرلیں کہ کیسے عام آدمی کو سہولت دی جائے۔ بلاول زرداری اور مریم نواز سے بھی گزارش ہے کہ ایک ملاقات خالص صرف عوام کے لئے بھی کرلیں۔ ایک نیا میثاق عوام کے نام پر کرلیں کہ اگر اب کے قسمت نے موقع دیا تو ہم میرٹ پر کام کریں گے، کاروبار نہیں کریں گے، ریلیاں نکال کر عوام کے راستے بند نہیں کریں گے۔

جناب غلام محمد قاصر کا شعر ہے۔

کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام

مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

ہمارا حال بھی اس شعر جیسا ہے۔ تین پارٹیوں سے عشق کے بعد ہمیں امید ہے کہ کوئی چوتھی پارٹی بھی سیاست اور اقتدار میں آسکتی ہے۔اللہ کرے کہ کوئی محب وطن گروپ بھی آگے آجائے کیونکہ خلا تو پیدا ہوتا جارہا ہے۔ ہمارے پاس انتخاب کے لئے پیپلز پارٹی، ن لیگ اور تحریک انصاف کے سوا فی الحال اور کوئی نہیں، بہر حال ”صلائے عام ہے“ ہم بھی چوتھے عشق کے لئے تیار ہیں،”تیری راہوں میں کھڑے ہیں دل تھام کے“

ایک اور شعر سنئے۔ شعیب بن عزیز فرماتے ہیں۔

اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں

اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں

ہوا یوں کہ ہمارا بجلی کا بل جو عموماً پانچ سے آٹھ ہزار کا آتا ہے مسلسل تین ماہ سے بیس سے پچیس ہزار کا آرہا ہے۔ ہمارے پاس جو”قارون کاخزانہ“ تھا،وہ پہلے دو بلوں کی نذر ہوگیا،تیسرے بل کے لئے ہم اپنے دو تین دوستوں کے پاس گئے تو وہ بھی اپنے ”حسب حال“ نکلے۔ ایک دوست کے ہاں گئے تو ٹی وی لگا ہوا تھا،اچانک ٹی وی پر جناب آصف زرداری نمودار ہوئے اور فرمانے لگے کہ ”اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں“ اب شعر کی تشریح سمجھ میں آئی کہ جب ہم لوگ خود میرٹ کا خیال نہیں کریں گے، اچھے لوگوں کی جگہ برے لوگوں کا انتخاب کریں گے تو پھرہاتھوں میں بل پکڑ کر یہی صدائیں سنیں گے کہ ”اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔“

مزید : رائے /کالم


loading...