تاریخ کی پاکیزگی

تاریخ کی پاکیزگی
تاریخ کی پاکیزگی

  


یوم دفاع، پاکستان کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ صدر جنرل ایوب خان کا قوم سے اچھوتا خطاب۔ افواج پاکستان کا جذبہ ء قربانی و شہادت، ہلِ وطن کی جرات و جوانمردی، شعراء کے انقلاب آفرین نغمات و ترانے، گلوکاروں کی فطری مہک و آواز کا جادو اور میجر عزیز بھٹی شہید کے لئے تمغہ ء نشانِ حیدر!صدر ایوب خان کی تقریر کا لفظ لفظ گویا ان کے دل سے نکلا اور سیدھے سبھاؤ قوم کے دل میں اتر گیا۔ زندہ دلان پاکستان نے جنگ کو ایک کھیل جانا اور لمحہ لمحہ بہادری و پامردی کا مطاہرہ کیا۔ پاک سپاہ نے اپنا فریضہ خوب نبھایا۔ بری، بحریہ اور فضائیہ کا رنگ و ترنگ قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کا سا تھا۔ وطن عزیز کا فرد فرد تحفظ گلشن کے نشہ میں چُور تھا۔ عرصہ ء جنگ، جو سترہ روز پر مشتمل تھا، میں جس نے دیکھا اور جہاں دیکھا، سربلند دیکھا۔ وہ ایک عجب ایمان پرور ماحول تھا۔ ہمت و حوصلہ، شجاعت و بسالت اور فداکاری و جاں سپاری! یہ معرکہ ء تاریخ پاکستان کی متاعِ گرانمایہ ہے۔ غازیوں کی روایت سازی اور شہیدوں کی روایت سازی!

صد حیف کہ اگلے چند برس میں معاملہ بالکل اُلٹ گیا۔ سترہ روز جنگ کے بعد پھر ایک تاریخ آئی۔ دسمبر 1971ء یوم دفاع کے بجائے یوم ندامت! ایسا کیوں ہوا؟ یہ بات بے موقع و بے محل ہے۔ واقعہ مگر یہ ہے کہ ہم لمبی تان کر سو گئے تھے۔ نتیجہ؟ قائداعظمؒ کا ایک بازو کٹ یا کاٹ دیا گیا۔اب کے یوم دفاع کی اہمیت پہلے سے بھی کہیں بڑھ گئی ہوئی ہے۔ قریباً ایک ماہ ہوتا ہے کہ مسلمانانِ مقبوضہ و جموں کشمیر قید و بند میں ہیں۔ وہ کون سا ظلم ہے، جو ان پر روا نہیں رکھا جا رہا۔

یہ درست ہے کہ دو قومی نظریہ ان لوگوں پر بھی ثابت ہو چکا ہے، جو اس کے قائل نہیں تھے، لیکن اس کا دوسرا رخ؟ پاکستان کا وجود برصغیر پاک و ہند کے کلمہ گوؤں کے تحفظ کی علامت قرار پایا ہوا ہے۔ کیا ہم اس ضمانت کے معیار پر پورا اترتے ہیں؟ سوال یہ نہیں کہ پاکستانی حکومت اور عوام کوئی کسر باقی نہیں چھوڑ رہے۔ سوال یہ ہے کہ قائداعظمؒ کا پاکستان دنیا میں بھکاری کے طور پر جانا پہچانا جاتا ہے۔ ایک گداگر کی کیا عزت ہوتی ہے یا معاشرے میں ہونی چاہیے؟ واقعہ یہ ہے کہ پاک وطن اس جہت سے عبرت کی تصویر ہے۔میرے ملک کو اس انجام تک کس نے پہنچایا۔کس نے نہیں پہنچایا؟ مجھے اس سود و زیاں کا حساب چاہیے!

خداگواہ! پاکستان کا مقروض ہونا حکمرانوں کی عیاشی اور اللے تللوں کا ماحاصل ہے۔ وہ حکمران؟ جن کو حکمران کہنے پر بھی شرم آتی ہے۔ یہ ملک اوپر کو جا رہا تھا کہ ایک مرحلے پر نیچے کو آنا شروع ہو گیا۔ ”شاہدولہ کے چوہوں“ نے دیس کا ستیاناس کرکے رکھ دیا۔ ان قومی مجرموں کے بارے میں بھی ”تاریخ کی پاکیزگی“ کے لئے ایک کمیشن تشکیل دیا جانا ناگزیر ہے۔”یوم دفاع“ کے بعد کیا کیا نازک مرحلے نہیں آئے؟ ہمارا وہ جوش و جذبہ کہاں اور کیوں کھو گیا؟ وہ ”کاروان“ سرِراہ لُٹ چکا۔ لازم ہے کہ اہل وطن کو 1965ء کی پاک و بھارت جنگ کے مناظر دکھاتے اور بتلاتے رہنا چاہیے، کیونکہ جو قوم اپنی تاریخ کو بھلا دیتی ہے، جغرافیہ بھی اس قوم کو فراموش کر دیا کرتا ہے۔ یہ قانونِ قدرت ہے جو کبھی بدلا ہے اور نہ بدلے گا۔

جغرافیے کے تحفظ و بقا کے لئے تاریخ کا ازبر ہونا ضروری ہے! ہم یہ کیوں بھول گئے تھے اور ابھی تک بھول جاتے ہیں کہ جو کوئی ترقی یافتہ کسی پسماندہ ملک کو امداد یا قرض فراہم کرتے ہیں، اس کی پشت پر کوئی جذبہ ء نیکی و خیر خواہی موجود نہیں ہوتا۔ بین الاقوامی تعلقات میں جذبات نہیں مفادات کارفرما ہوتے ہیں۔ وہ قرض یا مدد دے کر اس ملک اور قوم کا سب کچھ لے لیتے ہیں۔

ایک بیدار مغز شخص کا تجزیہ صد فیصد سچ ہے۔ ”پسماندہ ممالک کی قوت خرید کم ہونے کی وجہ سے ترقی یافتہ اقوام کی مصنوعات خریدنے والا کوئی نہیں رہتا، جس کی وجہ سے انہیں اقتصادی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لہٰذا اس مشکل کا حل وہ یہ تلاش کرتے ہیں کہ پسماندہ ممالک کو امداد فراہم کرکے اسی امدادی رقم سے انہیں اپنی مصنوعات خریدنے پر مجبور کر دیتے ہیں“۔آیئے! یوم دفاع کے موقع پر یہ عہد کریں کہ آئندہ ہم قرض کی مئے بالکل بھی نہیں پئیں گے، بلکہ گردنوں میں پڑے قرض کے پٹے اتار پھینکیں گے۔ نہیں تو دفاع کیا، اور یوم دفاع کیا؟ آزاد غلام اور غلام آزاد نہیں ہوتے! میں چاہتا تھا کہ اہلِ وطن کو یومِ دفاع پر مبارک پیش کروں، مگر یہ کیا کہ میں نے اس موقع پر بھی آنسو بہا دیئے،میں اس گستاخی اور طرزِ فکر کی معافی کا خواستگار ہوں، یوم دفاع مبارک!

مزید : رائے /کالم


loading...