وزیراعظم عمران خان، کاریگر مشیروں سے بچیں

وزیراعظم عمران خان، کاریگر مشیروں سے بچیں
وزیراعظم عمران خان، کاریگر مشیروں سے بچیں

  


بڑے صنعت کاروں کو208 ارب روپے معاف کرنے کا صدارتی آرڈیننس وزیراعظم عمران خان نے واپس لینے کا حکم دے دیا۔اب اپوزیشن بجا طور پر اسے اُن کا یوٹرن کہہ رہی ہے،کیونکہ صدارتی آرڈیننس،وزیراعظم کی منظوری کے بغیر جاری ہو ہی نہیں سکتا،اِس لئے یہ کہنا کیا معنی رکھتا ہے کہ وزیراعظم کو اس کے مضمرات سے بے خبر رکھ کر اسے جاری کروایا گیا۔ خود وزیراعظم عمران خان نے کابینہ کے اجلاس میں اپنی معاشی ٹیم سے کہا تھا کہ وہ عوام کے سامنے اس کی وضاحت کریں،جو منفی تاثر پھیلایا جا رہا ہے، اُسے روکیں،مگر یہ ٹیم بھی پریس کانفرنس میں ٹھس ہو گئی اور صحافیوں کو مطمئن کرنے میں ناکام رہی، جس پر وزیراعظم کو یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ اسے واپس ہی لے لیا جائے۔عمومی طور پر وزیراعظم کے اس یو ٹرن کو سراہا جا رہا ہے، کیونکہ ٹی وی پر اُن کی اپنی ہی کہی ہوئی باتوں کے کلپ چل رہے تھے،جن میں پچھلے حکمرانوں سے کہتے ہیں کہ اربوں روپے کیا تمہارے باپ کا پیسہ ہے جو تم نے معاف کر دیا۔

اب یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ وزیراعظم کے اردگرد ایسے لوگ موجود ہیں،جن کا کام ہی ایسے کام کرانا ہے،جن سے بعض طاقتور طبقوں کے مفادات وابستہ ہیں۔ایسے ایسے پھنسے ہوئے کیسز ڈھونڈ کر وزیراعظم کے سامنے رکھتے ہیں،جنہیں پچھلی حکومتیں بوجوہ ٹالتی آئی ہیں،کیونکہ ان سے الزامات کی پٹاری کھلنے کا اندیشہ تھا۔اب اسی معاملے کو لیجئے،جس میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے208 ارب روپے معاف کئے گئے۔ 2011ء میں اس گیس انفراسٹرکچر سرچارج کا نفاذ ہوا،جو عوام سے لیا جانا تھا اور لینے والی کھاد فیکٹریاں اسے قومی خزانے میں جمع کرانے کی پابند تھیں،لیکن اس سرچارج کو عدالتوں میں چیلنج کیا گیا،حکم امتناعی حاصل کئے گئے، تاہم حکم امتناعی یکطرفہ تھے کہ بااثر صنعت کار یہ سرچارج تو وصول کرتے رہے،مگر حکم امتناعی کی آڑ لے کر اسے حکومتی خزانے میں جمع نہ کرایا۔یہ معاملہ 2019ء میں اس طرح حل کرنے کی راہ نکالی گئی کہ ”کچھ لو کچھ دو“ کی بنیاد پر صنعت کاروں کے ساتھ اس معاملے کو طے کیا جائے اور اس کے تحت 208ارب روپے معاف کرنے کا صدارتی آرڈیننس جاری کروایا گیا،اسے کیسے جائز قرار دیا جا سکتا ہے کہ جو پیسہ کھاد فیکٹری مالکان نے غریب کسانوں سے حاصل کیا،اُسے معاف کر دیا جائے اور وہ بھی فرانزک آڈٹ کے بغیر۔

اب یہ کہا جا رہا ہے کہ سپریم کورٹ سے درخواست کی جائے گی کہ وہ اس کیس کی جلد سماعت کر کے فیصلہ دے تاکہ عوام کو ریلیف دیا جا سکے……کیا وزیراعظم عمران خان کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ انہوں نے آرڈیننس واپس لینے کا حکم دے دیا، کیا انہیں اپنے اردگرد موجود ان ”کاریگروں“ کو بھی فارغ نہیں کرنا چاہئے، جنہوں نے اس آرڈیننس کے مضمرات اور عمران خان کی پالیسیوں میں تصادم کی نشاندہی نہیں کی، پھر اُن کے پاس کوئی ایسی شفاف دلیل بھی نہیں تھی کہ عوام اور میڈیا کو مطمئن کر سکتے۔ ندیم بابر جیسے غیر نمائندہ افراد سیاسی اثرات کو کیا جانیں، انہیں تو صرف اپنے مفاد سے غرض ہو سکتی ہے۔ مثلاً وہ میڈیا پر بیٹھ کر یہ کہتے رہے کہ وزیراعظم عمران خان کو اس آرڈیننس کا پوری طرح علم تھا،خود انہوں نے دو ذاتی ملاقاتوں میں انہیں سب کچھ بتایا تھا۔ گویا وہ اپنے ہی وزیراعظم کو غلط ثابت کر رہے تھے۔

وزیراعظم عمران خان ہر ایسی بات سنتے ہیں جو ڈیڈ لاک میں پھنسے ہوئے مسائل کو حل کرنے میں مدد دے،مگر تصویر کا ایک رخ دکھا کر ان سے منظوری لینے والے اس زمینی حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ عوام نے ان پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔ کوئی بھی ایسا کام جو وزیراعظم کے وعدوں سے متصادم ہو، اس پر اس کا ردعمل شدید ہوتا ہے، یہی حال میڈیا کا بھی ہے جو کپتان کے ہر قدم کا تنقیدی جائزہ لیتا ہے۔ قرضے معاف کرنے کا معاملہ تو وزیراعظم عمران خان کی الیکشن مہم کا جزو لازم رہا ہے۔یکدم 208 ارب معاف کرنے کا معاملہ ایک بڑا خود کش دھماکہ ثابت ہوا، جس نے طوفان برپا کر دیا۔ ہاتھ دکھانے والوں نے کپتان کی مثبت سوچ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ باور کرایا ہو گا کہ یہ معاملہ حل ہو جائے تو قومی خزانے کی سالانہ آمدنی بڑھ سکتی ہے۔ یہ تیر نشانے پر لگا اور آرڈیننس جاری ہو گیا،مگر یہ کام کرانے والے کاریگر وزیراعظم کے حکم سے قوم کو مطمئن نہ کر سکے، کیونکہ اس بات کا ان کے پاس کوئی جواب ہی نہیں تھا کہ عوام کی جیبوں سے نکلا ہوا پیسہ کھربوں پتی لوگوں کو معاف کیسے کیا جا سکتا ہے۔

اسی طرح کا ایک معاملہ نیب قوانین میں تبدیلی کا بھی ہے جو کام پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے دور میں نہ ہو سکا، وہ تحریک انصاف کے دور میں کیوں کرایا جا رہا ہے،حالانکہ عمران خان تو خود نیب قوانین میں تبدیلی کے سخت خلاف رہے ہیں۔ اگر یہ تبدیلی ہو جاتی ہے تو سیاسی طور پر عمران خان کو بہت نقصان ہوگا۔ یہ ان کے بنیادی نظریئے کی نفی ہے، جس میں وہ ایک بے لاگ اور سخت احتساب کو اپنا اولین ایجنڈا قرار دیتے ہیں۔اگر احتساب کو ڈھیلا ڈھالا بنانا ہے تو پھر عمران خان کے لئے سخت مشکل پیدا ہو جائے گی۔ یہ کام ان سے کون لوگ کرانا چاہتے ہیں،کیا وہ تحریک انصاف میں موجود ہیں اور اس خوف کا شکار ہیں کہ نیب قوانین نہ بدلے گئے تو ان کی باری بھی آ سکتی ہے، ترمیم کا معاملہ یہیں تو نہیں رکے گا، اپوزیشن تواسے مؤثر بہ ماضی چاہتی ہے۔ کیا عمران خان اس کے لئے تیار ہیں؟

یہ تو ایک طرح سے این آر او ہوگا جو وہ ہمیشہ دینے سے انکار کرتے ہیں۔ کیا وزیراعظم یہ داغ اپنے ماتھے پر لگوانا چاہتے ہیں کہ انہوں نے احتساب کے تمام تر دعوؤں کے باوجود نیب قوانین کو اس طرح تبدیل کیا کہ احتساب کی روح ہی ختم ہو گئی۔ اس سے پہلے کہ اس معاملے میں بھی عوام کی طرف سے تنقید سامنے آئے اور ہاہا کار مچے، وزیراعظم عمران خان کو ایک بار پھر سوچ لینا چاہئے۔ حکومت کی کارکردگی پہلے ہی اچھی نہیں، ہر معاملے میں عوام خود کو مشکلات میں گھرا محسوس کر رہے ہیں، صرف ایک بات ہے جس پر عوام اطمینان کا اظہار کرتے ہیں کہ ملک میں احتساب ہو رہا ہے۔ابھی اس احتساب کو مزید تیز اور سخت کرنے کی ضرورت ہے، اس کی زد میں اگر حکومت میں شامل لوگ بھی آتے ہیں تو انہیں آنا چاہئے، انہیں بچانے کے لئے نیب کو کمزور کرنا ایک بڑی غلطی ہو گی۔

عمران خان کو پیسے معاف کرنے یا نیب کے پَر کاٹنے جیسے معاملات میں الجھنے کی بجائے گڈ گورننس کو یقینی بنانے پر توجہ دینی چاہئے۔ خاص طور پر پنجاب کی بُری حالت کا سارا الزام اُن پر آتا ہے، کیونکہ انہوں نے عثمان بزدار کی شکل میں جو وزیراعلیٰ دیا، وہ پرفارم نہیں کر پا رہا۔سب سے بُری حالت امن و امان کی ہے۔پنجاب پولیس نے عمران خان کے سارے دعوؤں کو ہوا میں اُڑا دیا ہے،ہر وہ کام کر رہی ہے،جسے روکنے کا عمران خان اپنے انتخابی جلسے میں دعویٰ کیا کرتے تھے۔ایک ہفتے میں پولیس تشدد سے چار بے گناہ افراد موت کے گھاٹ اُتر گئے۔وزیراعلیٰ نے اُف تک نہیں کی، کسی مظلوم کے گھر نہیں گئے۔آئی جی کو ملاقات کے لئے طلب تک نہیں کیا۔لاہور میں یہ تاثر ہے کہ آئی جی اور چیف سیکرٹری وزیراعلیٰ کی بات نہیں سنتے،اپنے فیصلے آپ کرتے ہیں یا انہیں مرکز سے ہدایات موصول ہوتی ہیں ……معاملہ پس پردہ چاہے کچھ بھی ہو،لیکن پنجاب کی ذمہ داری بالواسطہ طور پر وزیراعظم عمران خان ہی پر عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے ایک ناتجربہ کار نوجوان کو پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ سونپی اور یہ یقین بھی دلایا کہ وہ سب سے بہترین وزیراعلیٰ ثابت ہوں گے،جبکہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ پنجاب میں عملاً پولیس اور بیورو کریسی راج کر رہی ہے۔انہیں اس کا ذرہ بھر خوف نہیں کہ پنجاب میں ایک منتخب وزیراعلیٰ بھی بیٹھا ہے۔بیورو کریسی اور پولیس بے شک راج کرے، لیکن یہاں تو وہ عوام کو اچھوت سمجھ رہی ہے۔ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ڈپٹی کمشنر نے غریب لوگوں کے ساتھ جو کیا، کیا وہ شہباز شریف کے دور میں کر سکتا تھا۔ اُس نے ایمبولینس کو صرف اِس لئے رکوا دیا کہ اُس نے ڈپٹی کمشنر بہادر کی گاڑی اوور ٹیک کی تھی،اُس میں موجود نوجوان مریض تڑپتا اور ہلکتا رہا،مگر پولیس نے انہیں جانے نہ دیا۔آج سوشل میڈیا پر ڈپٹی کمشنر کے رویے پر اُن کی جو گت بن رہی ہے، کیا وہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی نظروں سے گزری ہے،کیا اس ڈپٹی کمشنر کو اپنے عہدے پر رہنا چاہئے، جو اپنے عمل کی وجہ سے بے حس اور سنگدل ثابت ہو چکا ہے۔ عمران خان ملک کے سب سے بڑے صوبے کی طرف سے آنکھیں بند نہ کریں، اس کے بارے میں کوئی فوری قدم اٹھائیں، وگرنہ پچھتاوے کے سوا کچھ باقی نہیں رہ جائے گا۔

مزید : رائے /کالم


loading...