خطرناک راستے

خطرناک راستے
خطرناک راستے

  


بھارت کے مظالم اور ہٹ دھرمی نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر ایک مرتبہ پھر زندہ کردیا ہے۔ عالمی میڈیا اب اس پر خوب توجہ دے رہا ہے۔ امریکہ، یورپ اور باقی دنیا کے لوگ بھارتی دہشت گردی سے آگاہ ہو رہے ہیں۔یہ مسئلہ یورپی یونین کی پارلیمنٹ میں اٹھایا گیا اور پارلیمینٹ نے مودی کو پاکستان سے مذاکرات کے لئے کہا۔ امریکی کانگریس میں بھی اس پر بحث ہونے والی ہے۔ بھارت کی تمام تر کوششوں کے باوجود مسئلہ کشمیر دوبارہ عالمی مسئلہ بن گیا ہے۔بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کر رکھا ہے۔

اس سے انسانی المیے جنم لے رہے ہیں۔غذا اور ادویات کی قلت کشمیریوں کے لئے گھمبیر مسائل پیدا کررہی ہے۔ نیویارک ٹائمز جیسے معتبر اخبار بتا رہے ہیں کہ کس طرح بڑی تعدادمیں نوجوانوں کو گرفتار کیا جارہا ہے اور انہیں دوسرے صوبوں کی جیلوں میں منتقل کیا جارہا ہے۔ آہستہ آہستہ عالمی میڈیا مسئلہ کشمیر پر زیادہ فوکس کر رہا ہے اور بھارت کا مکروہ چہرہ دُنیا کے سامنے بے نقاب ہو رہا ہے۔ کشمیریوں پر انسانیت سوز تشدد ہو رہا ہے، نوجوانوں کو اُلٹا لٹکایا جا رہا ہے، انہیں بجلی کے جھٹکے دیئے جا رہے ہیں۔ عالمی میڈیا بچوں کی پکڑ دھکڑ کے دِل دہلادینے والے منظر دکھا رہا ہے۔ وزیراعظم پاکستان کہہ رہے ہیں کہ کشمیریوں پر بھارتی یلغار نہ روکی گئی تو جوہری ریاستوں میں محاذ آرائی سے دنیا متاثر ہوگی۔انہوں نے عالمی برادری سے مفادات سے ماورا ہو کر سوچنے کی اپیل کی ہے۔

پاکستان اور بھارت میں ایسے دانشوروں کی کمی نہیں ہے،جو مسائل کا حل جنگ میں تلاش کرتے ہیں۔ایک بھارتی رہنما تو ایٹمی حملے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں،مگر جنگ مسئلہ کشمیر کاکوئی حل نہیں۔ جنگ اور ایٹمی جنگ ہونے کی صورت میں یہ خطہ جس تباہی و بربادی کا شکار ہوگا اس کا تصور ہی انتہائی بھیانک ہے۔ 1965ء کی جنگ اور کارگل کی جنگ کشمیر کے مسئلے کا کوئی حل تلاش کرنے میں ناکام ہوئی تھیں۔ 1965ء کی جنگ کو سابق وزیراعظم پاکستان چودھری محمد علی ایک بڑی غلطی قرار دیتے تھے اور بعض دانشوروں کا خیال ہے کہ اگر 1965ء کی جنگ نہ ہوتی تو شایدسانحہ 1971ء پیش نہ آتا کیونکہ یہ 1965ء کی جنگ ہی تھی جس نے مشرقی پاکستان میں یہ احساس پیدا کیا تھا کہ مرکزی حکومت کو ان کی کوئی پروا نہیں اور دفاع کی پالیسی کا مقصد صرف مغربی پاکستان کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

آج 2019ء میں جنگ کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا حل ممکن نظر نہیں آتا، لیکن اگر بھارت پاکستان پر جنگ مسلط کرتا ہے توافواج پاکستان اس کا پوری طرح سے مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے۔ نریندر مودی نے کشمیر میں جو کچھ کیا ہے اس پر فی الحال عالمی رائے عامہ بھارت کے لئے کوئی بڑا مسئلہ پیدا کرتی ہوئے نظر نہیں آرہی ہے۔ متحدہ عرب امارات میں مودی کو اعزاز دیا گیا، سعودی عرب میں ان سے محبت کا اظہار کیا گیا ہے اور امریکہ کے صدر ٹرمپ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان اور بھارت مسئلہ حل کرسکتے ہیں۔ مودی نے مسئلہ کشمیر پر ٹرمپ کی ثالثی کی پیش کش کو ایک مرتبہ پھر مسترد کر دیا ہے۔

مودی کی اسلام دشمنی بے لگام ہو چکی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے بعد وہ آسام میں لاکھوں مسلمانوں کو بھارتی شہریت سے محروم کر رہے ہیں۔وہاں ممکنہ احتجاج کے باعث سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ بھارتی حکومت نے یہ عندیہ دیا ہے کہ وہ اس کا تجربہ مغربی بنگال میں بھی دہرائیں گے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بھارت کی زمین مسلمانوں پر تنگ کی جارہی ہے۔ ایک طرف مودی کے خلاف بھرپور احتجاج ہورہا ہے تو دوسری طرف انتہا پسند ہندو بھارتی وزیراعظم کے اقدامات کو سراہ رہے ہیں۔ ہندوستانی حکومت بھارت کی سیاست کو آر ایس ایس کے نظریات کے مطابق چلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ مودی کا خیال ہے کہ انہیں مسلمانوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

اگر ہندو ان کا ساتھ دیں تو وہ کامیابی کے ساتھ حکومت کرسکتے ہیں۔ مودی نے گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کرکے وزارت اعلی کی کرسی حاصل کی تھی۔ اس پر خوشنونت سنگھ نے End of Indiaکے نام سے ایک کتاب لکھی تھی، جس میں انہوں نے کہا کہ گجرات میں مسلمانوں کے خاتمے کی سوچ سے بھارت کا خاتمہ ہوجائے گا۔بھارت میں ہندو انتہا پسندی کا بخار چڑھا ہوا ہے۔انتہا پسند ہندو مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کو انسان کہنے کے لئے تیار نہیں۔وہ اس دھرتی کو ان سے پاک کرنے کے عہد کا اظہارکررہے ہیں۔

گاندھی، نہرو اور دوسرے اکابرین نے سیکولر بھارت کا جو خواب دیکھا تھا وہ چکنا چور ہوچکا ہے۔ بھارت کی حالیہ پالیسی سے پورے ملک میں بے چینی کی لہر دوڑ رہی ہے۔ سکھ پوری دنیا میں کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور بھارتی مظالم کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ کشمیریوں کے حق میں چھتیس گڑھ سے آواز بلند ہورہی ہے۔ ناگالینڈ والے ان کی حمایت کر رہے ہیں۔مودی اور ان کے رفقائے کار کا خیال ہے کہ وہ اکھنڈ بھارت کے فلسفے پر عمل کر کے خالص ہندو راج قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، مگر ایسا کرتے ہوئے وہ بھارت کے متعلق حقائق کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ تازہ ترین تخمینے کے مطابق بھارت کی آبادی ایک ارب 36کروڑ سے زائد ہے اور یہ دنیا کی کل آبادی کا 17.71فیصد ہے۔

اور یہ آبادی کے لحاظ سے دُنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ مگر بھارت صرف ہندوؤں کا ملک نہیں ہے۔ اس میں مسلمانوں کے علاوہ بدھ، سکھ، عیسائی اور دوسرے بے شمار مذاہب سے تعلق رکھنے والے آباد ہیں۔کسی زمانے میں ہندو کی یہ تعریف کی گئی تھی کہ جس شخص کا نام ہندوؤں جیسا ہو گا وہ ہندو ہو گا۔بھارتی آئین کے مطابق انڈیا ایک سیکولر ملک ہے، جس کا کوئی سرکاری مذہب نہیں ہے۔ 2011 ء کی مردم شماری کے مطابق بھارت میں 79.8فیصد ہندو، 14.2 فیصد مسلمان، 2.3فیصد عیسائی اور 1.7فیصد سکھ آباد ہیں۔ اس کے علاوہ ہندوستان میں یہودی، بہائی، زرتشتی اور دوسرے مذاہب کے لوگ بھی آباد ہیں۔ بی جے پی کا فارمولا یہ ہے کہ اگر تقریبا 80فیصد ہندوان کی حمایت کریں تو وہ حکومت بنا سکتے ہیں، مگر یہاں ایک اہم سوال سے ملاقات ہوتی ہے؟ کیا 80فیصدہندوؤں میں اتفاق ہے۔ اس کا جواب نہیں میں ملتا ہے۔ مثلا رام شمالی بھارت میں ہیرو ہے اور راون ولن ہے، جبکہ جنوبی بھارت میں رام ولن ہے اور راون ہیرو ہے۔

بھارت میں لاکھوں دیوتاؤں کی پوجا کی جاتی ہے۔ بی جے پی نے تمام ہندوؤں کو مسلمان دشمنی کے حوالے سے اکٹھا کرلیا ہے، لیکن اگر بھارت میں سیاسی عمل موجودہ صورت حال میں جاری رہتا ہے تو اگلے چند سال میں ہندوؤں کے فرقے ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں گے اور اس کا نتیجہ انتشار کی صورت میں نکلے گا۔ اس وقت بھی شمال اور جنوب کے ہندوازم میں شدید اختلافات کی نشاندہی کی جاسکتی ہے۔2011ء کی مردم شماری کے مطابق بھارت میں دلت مسلمانوں سے بھی زیادہ ہیں۔ ان کی تعداد 20کروڑ سے زائد ہے اور وہ بھارتی آبادی کا 16فیصد ہیں۔اس مردم شماری کا ذکر ہو تو دلتوں کو بھی ہندوؤں میں شامل کیا جاتا ہے، جبکہ اس کا اصل مقام شودروں سے بھی بدتر ہے۔

دلت اپنی علیحدہ پہچان بناتے رہے ہیں اور ہندوؤں کے خلاف علم بغاوت بھی بلندکرتے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت میں علیحدگی پسند تحریکیں بھی زور پکڑ رہی ہیں۔من موہن سنگھ نے اپنے دور اقتدار میں نکسل باڑیوں کو بھارتی ریاست کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔ بھارت اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ قرار دیتا ہے، مگر اس کی سوچ اور عمل میں جمہوریت کو تلاش کرنا ممکن نہیں۔مقبوضہ کشمیر، مشرقی پنجاب، ناگا لینڈ، مغربی بنگال، آسام اور دوسری بہت سی ریاستوں میں بھارت نے سیاسی مسائل کے لئے جمہوری راستے تلاش نہیں کئے۔ بھارت نے فورسز کے بلا دریغ استعمال سے اختلاف رائے کو کچلنے کی کوشش کی، جبکہ جمہویت کو جمہوری طریقے سے مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔مودی جس راہ پر چل نکلا ہے اس کا نتیجہ بھارت کی سلامتی کے لئے بڑے خطرات کی صورت میں نکلے گا۔ بھارتی دانشور بھی ان خطرات کی نشاندہی کررہے ہیں، مگر مودی نوشتہ دیوایر پڑھنے سے انکار کررہے ہیں۔ وہ نہ صرف بھارت کو بلکہ پوری دُنیا کو ہولناک خطرات کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...