کوئی دوسرا ہماری جنگ نہیں لڑے گا

کوئی دوسرا ہماری جنگ نہیں لڑے گا

مکرمی! السلام علیکم! وزیراعظم عمران خان کا دورہ امریکہ کشمیر میں بھارت کے غلبہ کا سبب بنا۔ ٹرمپ نے دانہ ڈالا کہ مودی کشمیر کے معاملہ میں کوئی تصفیہ چاہتا ہے اور مجھے ثالث بننے کا کہہ رہا ہے۔ عمران خان نے سوچے سمجھے بغیر ٹرمپ کے ثالث بننے کی حامی بھر لی۔مودی کی پہلے ہی ملی بھگت تھی اس نے فوراً کشمیر پر قبضہ کر لیا۔ اب جبکہ پوری دنیا کشمیر میں قتل و غارت اور غیر انسانی پابندیوں سے آگاہ ہو چکی ہے اور کشمیر عالمی سطح پر متنازعہ علاقہ تسلیم کیا جا چکا ہے اور نوے لاکھ مسلمان کھانے، دوائی، صحت، ٹیلی فون اور ٹی وی کی سہولت سے محروم ہیں اور ان پر ہرطرح کے ظلم ڈھائے جا رہے ہیں اور قتل و غارت کا بازار گرم ہے اور پاکستان صرف سفارتی اور زبانی جمع خرچ میں لگا ہوا ہے۔ کشمیری صرف پاکستان سے الحاق کی وجہ سے قربانیاں دے رہے ہیں۔ بھارت چونکہ متنازعہ علاقہ میں گھسا ہے۔پاکستان کا فوری حق تھاکہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لئے فوری عملی اقدام کرتا۔

پاکستان صرف اقوام عالم کو کشمیر میں ہونے والے ظلم اور زیادتی سے آگاہ کر رہا ہے۔مودی صرف کشمیر پر ہی قبضہ برقرار نہیں رکھے گا،بلکہ وہ قرارداد پاکستان اور مسلمانوں کے لئے وبال جاں بن جائے گا اور پاکستان کے لئے نت نئی مصیبت کھڑی کرے گا۔پاکستان مصالحت سے کام لے رہا ہے۔ ایسا نہیں چلے گا۔ڈر کے آگے جیت ہے۔ اس وقت لوہا گرم ہے اور پاکستانی قوم فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ہر مشکل وقت میں اپنی فوج کی مدد کرنے کو تیار ہے، لہٰذا حکومت وقت کو کوئی جرات مندانہ قدم اٹھانا پڑے گا۔ جب جنگ ہوتی ہے تو دونوں طرف تباہی ہوتی ہے تو اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد…… یہ وقت ہے بھارت کو سبق سکھانے کا۔ اگر ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔اس وقت پوری دنیا کو معلوم ہے کہ زیادتی بھارت کر رہا ہے، لہٰذا جنگ کی تباہی کا ذمہ دار بھی بھارت ہی ہو گا، کیونکہ اس نے پہل کی ہے۔ ہماری جنگ ہم نے خود لڑنی ہے، کوئی دوسرا ہماری جنگ نہیں لڑے گا۔

جنگ کے دوران مدد کرنے والے ملک دوست ہوتے ہیں اور ایک حد تک مدد کر سکتے ہیں۔ ہمیں اللہ پر بھروسہ ہونا چاہیے اور کشمیری مسلمانوں کے ساتھ زیادتی پر جہاد ہم پر فرض ہو جاتا ہے، لہٰذا اسلحہ کی امپورٹ کو فوری کھولا جائے اور ملک کے جوانوں کو فوری اسلحہ کی ٹریننگ دی جائے۔ بذریعہ ریٹائرڈ فوجی صاحبان، تاکہ اپنی فوج کے ساتھ مل کر اپنے ملک کا دفاع کر سکیں، باقی رہا ایٹم بم تو اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔مرنا تو گولی کے ساتھ بھی ہے اور طبعی موت بھی مرنا ہے۔ ایک دن تو مرنا ہی ہے۔ بھیڑ بکریوں کی طرح مرنے کی بجائے شہادت کی موت کیوں نہ قبول کی جائے۔تباہی آئے گی تو دونوں طرف آئے گی، لیکن قبضہ کرنے کے لئے انسانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایٹم بم سے تباہی آتی ہے اور دونوں ایٹمی طاقت ہیں امریکہ افغانستان میں اٹھارہ سال اتحادیوں کی مدد سے لڑتا رہا۔ کروڑوں ڈالر کا نقصان کیا، لیکن ایٹم استعمال نہیں کیا اور طالبان کے آگے بے بس نظر آیا۔ طالبان عوام میں ریگولر فوج نہیں ہے۔ صرف جرات دلیری اور پختہ عزم کی وجہ سے مردانہ وار 18سال دشمن کا مقابلہ کیا اور امریکہ صلح کرنے پر مجبور ہوا۔ بھارت سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آخر مسلمانوں نے بھارت پر ایک ہزار سال حکومت کی ہے۔

پرانی تاریخ ہے سندھ کے ڈاکوؤں نے کراچی کی بندرگاہ پر مسلمانوں کا تجارتی سمندری جہاز لوٹ لیا اور ایک لڑکی طاہرہ ہندوؤں نے یرغمال بنا لی۔ اس لڑکی نے کسی طرح کوفہ کے گورنر حجاج بن یوسف کو خط پہنچایا اور اپنی رہائی کے لئے درخواست دی۔ حجاج بن یوسف نے فوری اپنے بھتیجے محمد بن قاسم کو فوج کشی کا حکم دیا، اس نے حملہ کر دیا اور ملتان تک علاقہ فتح کر لیا اور لڑکی کو بھی بازیاب کرا لیا۔

کشمیر میں نوے لاکھ مسلمان غیر مسلموں کی قید میں ہیں اور ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے اور پاکستان کی مسلمان ریاست جو کہ ایٹمی طاقت بھی ہے اور دنیا کی بہترین فوج اس کے پاس ہے اور صرف بات چیت کے ذریعے مسئلہ کا حل ڈھونڈ رہی ہے، جبکہ بھارت مذاکرات پر کسی حالت میں تیار نہیں۔ وہ مفرور اور طاقت کے نشے میں ہے اور لاکھوں جوان لڑکیاں اور لڑکے بچے اور بوڑھے ناگفتہ بہ حالت میں ہیں اور زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔ ان حالات میں اس کا حل صرف جنگ ہے، اگر نہ ہوئی تو آہستہ آہستہ ہمیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ اللہ کی مدد اس وقت آتی ہے جب مسلمان میدان جنگ میں اسلحہ کے ساتھ داخل ہوتا ہے اور اللہ اکبر کا نعرہ گونجتا ہے اور شوق شہادت میں بے جگری، شجاعت، دلیری اور اعتماد کے ساتھ ہے تو اس کو فتح نصیب ہوتی ہے۔اللہ پاکستان کی فوج،عوام اور ملک کا حامی و ناصر ہو اور حکمرانوں کو جرات اور دلیری نصیب فرمائے۔

فقط……استاد غلام حسین(پاپولر پائپس، لاہور)

مزید : رائے /اداریہ


loading...