پلاسٹک بیگ پر پابندی سے 8ہزار فیکٹریاں بند، لاکھوں افراد بیروزگار ہونگے: ماہرین

    پلاسٹک بیگ پر پابندی سے 8ہزار فیکٹریاں بند، لاکھوں افراد بیروزگار ہونگے: ...

لاہور(نیوزرپورٹر) پلاسٹک بیگز کے متعلق ڈرافٹ ایکٹ پر مشاورت کے لیے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں ایک مشاورت اجلاس ہوا جس میں پلاسٹک بیگز ایسوسی ایشن، لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی، محکمہ ماحولیات، متعلقہ حکومتی اداروں کے نمائندوں اور کاروباری برادری کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پلاسٹک بیگ پر پابندی سے 8ہزار فیکٹریاں بند، لاکھوں افراد بیروزگار ہونگے۔

 لاہور چیمبر کے صدر الماس حیدر، سینئر نائب صدر خواجہ شہزاد ناصر، نائب صدر فہیم الرحمن سہگل، جہانزیب جیلانی، فیصل ملک، علیم احمد، فیصل قادری،معظم رشید و دیگرنے اس موقع پر خطاب کیا۔ مشاورتی اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ پلاسٹک بیگز کی موٹائی پینتالیس تا پچاس مائیکرون جبکہ سائز بارہ بائی پندرہ انچ ہوگا۔ اس پر بھی اتفاق کیا گیا کہ اس کی ری سائیکلنگ پر توجہ دی جائے گی، لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی، پلاسٹک بیگز ایسوسی ایشن اور محکمہ ماحولیات اس سلسلے میں مل کر کام کریں گے۔ لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر خواجہ شہزاد ناصر اور نائب صدر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ حکومت اس صنعت و بند کرنے کے بجائے قواعد و ضوابط وضع کرے کیونکہ بالواسطہ اور بلاواسطہ ہزاروں لوگوں کا روزگار اس سے وابستہ ہے جبکہ یہ حکومت کو روزگار کی فراہمی کا بھی بڑا ذریعہ ہے۔ اگر اس انڈسٹری کو بند کیا گیا تو بے روزگاری اور دیگر مسائل بڑھیں گے۔ پلاسٹک بیگ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے کہا کہ پلاسٹک بیگز کی 8000 فیکٹریاں لاکھوں افراد کو بلاواسطہ یا بالواسطہ روزگار مہیا کررہی ہے جبکہ یہ رینیو دینے والے پانچ بڑے سیکٹرز میں بھی شامل ہے، پلاسٹک بیگز انڈسٹری ایس ایم ایز اور کاٹیج انڈسٹری کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پلاسٹک بیگ ایسوسی ایشن کی اپنی آر اینڈ ڈی اور انوائرمنٹ اسٹینڈنگ کمیٹی ہے جس نے حکومت کو مذکورہ قانون سازی کے لئے موزوں تجاویز اور منصوبے دیئے ہیں۔ انہوں نے۔انہوں نے کہا کہ پولیتھیلن بیگ پوری دنیا میں ایف ڈی اے کی منظور شدہ پروڈکٹ ہے۔امریکہ، یورپ، آسٹریلیا، کینیڈا جیسے ترقی یافتہ ممالک نے پلاسٹک کے تھیلے پر پابندی نہیں عائد کی ہے بلکہ ہماری پلاسٹک بیگ ایسوسی ایشن کی تجاویز کی طرح باقاعدہ منظم طریقہ اپنایا ہے۔ پولی تھیلین شاپنگ بیگ کے استعمال کو منظم انتظام کرنے کے طور پر دنیا کے دس ممالک نے 30 مائیکرون سے بھی کم سنگل استعمال والے شاپنگ بیگ پر پابندی عائد کررکھی ہے، جبکہ پندرہ ممالک نے 50 مائیکرون سے بھی کم سنگل استعمال والے شاپنگ بیگ پر پابندی عائدکر رکھی ہے۔ کینیا کے علاوہ دنیا کے کسی بھی ملک نے شاپنگ بیگ پر پابندی نہیں عائد کی اور اس سے ریوینیو میں کمی، بے روزگاری اور فیکٹریوں کی بندش کی صورت میں کینیا کی معیشت کو نقصان پہنچا ہے۔

  

 چونکہ کینیا میں وافر جنگل ہیں، لہذا وہ کاغذ کے تھیلے برداشت کرسکتے ہیں۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ حکومت صورتحال کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے پلاسٹک بیگز انڈسٹری کے تحفظ کے لیے اقدامات اٹھائے گی۔ 

 لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے محمد ظفر، لمز سے ڈاکٹر عبدالباسط، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب، سیکریٹری انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ، سیکریٹری ایل جی اینڈ سی ڈی، سیکریٹری HUD&PHED، سیکریٹری فوڈ ڈیپارٹمنٹ، سیکریٹری قانون اور پارلیمانی امورڈیپارٹمنٹ، سیکریٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ، سیکریٹری انفارمیشن اینڈ کلچر ڈیپارٹمنٹ، سیکریٹری امپلیمنٹیشن اینڈ کوآرڈینیشن ڈیپارٹمنٹ، سیکریٹری فنانس، سیکریٹری پی اینڈ ڈی، سیکریٹری ہائیر ایجوکیشن،ڈائریکٹر جنرل ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان، صدر پلاسٹک مینوفیکچرر ایسوسی ایشن، مس عمرانہ ٹوانہ، ڈاکٹر توقیر کنزیومر فورم، پروفیسر ڈاکٹر آصف علی قیصر پولیمر ڈیپارٹمنٹ یوای ٹی، ڈاکٹر سائرہ تاج پی سی ایس آئی آر لیبارٹریز، ڈائریکٹر جنرل ای پی اے پنجاب، ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی، ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنزپنجاب، ڈپٹی کمشنر، ڈاکٹر ساجد رشید، کالج آف ارتھ اینڈ انوائرنمنٹل سائنسز، پنجاب یونیورسٹی، ابوذر سلمان خان نیازی (ایڈووکیٹ)، ایڈووکیٹ عمران عباس، ایڈووکیٹ یاسین عاطف، بیرسٹر مومن ملک، صدر امل فار لائف سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن،احسن اعجاز، عبدالر?ف، ڈپٹی رجسٹرار (جیوڈیشیل) لاہور ہائی کورٹ، پی ایس او چیف سیکریٹری پنجاب، پی ایس ٹو ایڈیشنل چیف سیکریٹری پنجاب، پی ایس ٹو آئی اینڈ سی پنجاب، پی ای ایس ٹو سیکریٹری ای پی ڈی پنجاب نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ 

مزید : کامرس


loading...