شہر کی مارکیٹوں کی جو صورتحال ہے وہ ناقابل بیان ہے،آل کراچی تاجر اتحاد

  شہر کی مارکیٹوں کی جو صورتحال ہے وہ ناقابل بیان ہے،آل کراچی تاجر اتحاد

کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی کے تاجروں نے شہر کی مارکیٹوں میں صفائی ستھرائی اور سیوریج کی خراب صورتحال پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ مارکیٹوں میں سیوریج، کچرا اور تعفن پھیلا ہوا ہے۔وبائی امراض کا شدید خطرہ پیدا ہوچکا، بارشیں ہر ملک میں ہوتی ہیں مگر ہمیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ بلدیاتی ادارے اس قدر غفلت کا مظاہرہ کریں گے، اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے ساتھ شکایات کرنے پر جواب آتا ہے کہ ہماری کوئی نہیں سنتا، یہ نظام مکمل طور پر ناکام ہوچکا، یہ جانتے ہوئے بھی کہ قانون ایسا بنا دیا گیا کہ میئر کراچی کی یہ ذمہ داری نہیں مگر شہری مجبور ہیں کہاں جائیں، اس لئے میئر کراچی کے پاس ہی آتے ہیں، سمجھ نہیں آتی کس سے شکایت کریں، ان خیالات کا اظہار تاجر رہنماؤں کے ایک وفد نے آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر کی قیادت میں میئر کراچی سے ملاقات کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی میئر کراچی سید ارشد حسن، میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن اور دیگر افسران بھی موجود تھے، عتیق میر نے کہا کہ اس وقت شہر کی خصوصاً مارکیٹوں کی جو صورتحال ہے وہ ناقابل بیان ہے ہم نے ہر محکمے کا دروازہ کھٹکھٹایا مگر کوئی بہتری نہیں ہوئی، باب السلام مسجد میں ایک وقت میں چار ہزار سے زائد نمازی داخل ہوتے ہیں مگر صدر دروازہ سیوریج سے بند ہے، اردو بازار، سوبھراج میٹرنٹی ہوم، سول اسپتال حتیٰ کہ ایم اے جناح روڈ بھی سیوریج سے تباہ ہوچکا مگر کوئی بات سننے کے لئے بھی تیار نہیں، انہوں نے کہا کہ ہم ہر جگہ مطالبہ کرتے ہیں کہ میئر کراچی اور بلدیاتی نمائندوں کو یہ اختیار ہونا چاہئے کہ وہ عوام کے مسائل حل کریں، سیوریج، پانی، صفائی ستھرائی یہ بنیادی سطح کی بلدیاتی اداروں کی ذمہ داری ہوتی ہے، قانون میں ان کا اختیار ہی نہیں تو عوام کہاں جائیں، میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ تاجر رہنماؤں نے جو بات آج کی میں تین سال سے کہہ رہا ہوں میں نے تاجروں کی ایک ایک انجمن کے پاس جا کر بتایا کہ موجودہ بلدیاتی قانون کراچی جیسے بڑے شہر کے مسائل حل کرنے کے تقاضوں کے مطابق نہیں مگر کراچی کے مسائل پر کوئی بولتا ہی نہیں اور ہماری بات کو سیاست کہا جاتا ہے حالانکہ میں اس پر سیاست نہیں کر رہا بلکہ کراچی کے عوام کی آواز حکومت تک پہنچا رہا ہوں اب بارش اور عیدالاضحی ایک ساتھ آئی تو شہریوں کو اندازہ ہوا کہ اصل مسائل کیا ہیں۔ بنیادی سطح کے نمائندوں کو اختیار اور وسائل دیئے بغیر آپ بنیادی مسائل حل نہیں کرسکتے، میئر کراچی نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محدود وسائل سے ہم نے سیوریج کی درستگی پر زیادہ وسائل خرچ کئے ورنہ آج شہر کی صورتحال اور زیادہ خراب ہوتی، بلدیہ عظمیٰ کراچی میں پہلے ہی 8 کروڑ روپے کا شارٹ فال ہے جبکہ ہمارے پاس ریونیو کے محکمے بھی نہیں تاکہ وسائل جمع کریں یہ حالت ہوگئی ہے کہ شہر کے تاجر سڑکوں پر آگئے ہیں میں تو یہ کہہ سکتا ہوں کہ جو مسائل آپ بتا رہے ہیں سیوریج اور گندگی کے یہ میری ذمہ داری نہیں مگر میں کراچی کے عوام کو اس طرح تنہا اور تکلیف میں نہیں چھوڑ سکتاؒ، میں بلدیہ کے محدود وسائل میں بھی آپ کے مسائل حل کرنے کی کوشش کروں گا ہم نے شہر میں سڑکوں کی مرمت کا کام شروع کردیا ہے تاکہ ٹریفک مسائل کو کم سے کم کیا جائے، میئر کراچی نے کہا کہ میں شہر کے ہر طبقے کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ ایس ایل جی اے 2013 ء کا خود مطالعہ کریں، کراچی سے 300 ارب روپے کا ریونیو جمع ہوتا ہے اس شہر پر بھی کچھ لگنا چاہئے، انہوں نے کہا کہ ادارے وسائل اور اختیارات کے ساتھ کام کرتے ہیں اختیارات اور وسائل ہی نہ دیں تو لوگوں کا کام کیسے ہوسکتا ہے۔ بعدازیں میئر کراچی نے تاجر رہنماؤں کے ہمراہ برنس روڈ، فریسکو چوک اور اطراف کے علاوں کا دورہ کیا اور وہاں سیوریج، پانی کی نکاسی کے حوالے سے ہدایات دیں۔ایم ڈی واٹر بورڈ اسد اللہ خان بھی اس موقع پر پہنچ گئے اور انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ سیوریج مسائل کو جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...