18فیکٹریوں کو زیر زمین پانی کو آلود ہ کرنیکا اعتراف، ہاؤسنگ سوسائٹیز بھی شامل 

      18فیکٹریوں کو زیر زمین پانی کو آلود ہ کرنیکا اعتراف، ہاؤسنگ سوسائٹیز بھی ...

لاہور(نامہ نگارخصوصی)اٹھارہ فیکٹریوں نے لاہورکاپانی آلودہ کرنے کااعتراف کرلیا،لاہور ہائیکورٹ نے صاف پانی کو محفوظ کرنے کے لئے دائر درخواست پر واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ نصب نہ کرنے والی فیکٹریوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا حکم دے دیا، عدالت نے اے سی سٹی کوسیکورٹی فراہم کرنے کے بھی احکامات جاری کر دیئے ہیں،عدالت نے درآمدی میٹروں پرڈیوٹی کم کرنے سے متعلق ایف بی آرسے رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔ جسٹس شاہدکریم نے واٹرکمیشن کی سفارشات پرعمل درآمدسے متعلق کیس کی سماعت شروع کی توایم ڈی واساسیدزاہدعزیز سمیت دیگرافسران پیش ہوئے۔ واٹرکمیشن کی جانب سے سیدکمال حیدرایڈووکیٹ نے رپورٹ عدالت میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں اورفیکٹریوں کے آلودہ پانی کی وجہ سے زیرزمین پانی خراب ہو رہا ہے،شہرمیں 42 فیکٹریوں میں سے18نے زیرزمین آلودہ پانی پھینکنے کابیان حلفی دیا ہے،واٹر ٹریٹممنٹ پلانٹ نصب کرنے والی سیکڑوں فیکٹریوں کو سیل کیا گیا تاہم واٹر ٹریٹممنٹ پلانٹ نصب کرنے کی یقین دہانی پر انہیں ڈی سیل کر دیا گیا،عدالتی حکم پرایم ڈی واسانے بھی پانی کے تحفظ کے حوالے سے تجاویزدیں، جس پرعدالت نے ایم ڈی واساکی کارکردگی کی تعریف کی،ایم ڈی واسانے بتایاکہ حکومت نے پانی کے بلوں کے ٹیرف بڑھائے ہیں، جس سے واسالاہورکوبھی 10ملین کی اضافی رقم برداشت کرنا پڑے گی۔عدالت نے ایم ڈی واساکوہدایت کی کہ وہ اضافی ٹیرف کے حوالے سے علیحدہ درخواست دائر کریں۔عدالت نے ایم ڈی واساکوہدایت کی کہ پانی کومحفوظ بنانے کے حوالے سے مزیدتجاویزدیں۔عدالت نے واٹرکمیشن کی سفارشات پر عمل درآمدکروانے والے متعلقہ افسر کوسکیورٹی فراہم کرنے کابھی حکم دیاہے۔عدالت نے آئندہ سماعت پرصاف پانی کو محفوظ کرنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے متعلق رپورٹ طلب کر لی ہے،درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کررکھاہے کہ پنجاب حکومت صاف پانی کو محفوظ کرنے کے لئے اقدامات نہیں کر رہی کراچی کی طرح لاہور میں صاف پانی کی قلت پیدا ہونے خدشہ ہے، عدالت سے استدعا ہے کہ صاف پانی کو محفوظ کرنے کے لئے اقدامات کا حکم دیا جائے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...