امریکی وزیر خارجہ کا طالبان کیساتھ معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار، کابل میں خودکش کار بم دھماکہ امریکہ، رومانیہ کے 2فوجیو ں سمیت 12افراد ہلاک 

  امریکی وزیر خارجہ کا طالبان کیساتھ معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار، کابل میں ...

واشنگٹن(اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) موقر امریکی ہفت روزہ جریدے ”ٹائم“ کی اطلاع کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے امریکہ اور طالبان کے درمیان امن سمجھوتے کے مسودے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ افغان نژاد امریکی مندوب زلمے خلیل زاد کی تقریباً ایک سال کی مسلسل سفارتکاری کے نتیجے میں دونوں فریقوں کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات کے نویں دور کے بعد افغانستان میں قیام امن کے سمجھوتے کے مسودے پر متفق ہو گئے تھے۔ ”ٹائم“ میگزین کی رپورٹ کے مطابق سمجھوتے میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء اور ایک غیر مقبول جنگ کے خاتمے پر رضا مندی کا اظہار موجود ہے لیکن اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ طالبان امریکی حمایت سے قائم افغان حکومت کو قائم رہنے دیں گے یا دنیا کے سب سے خطرناک ملک میں تشدد کو کم کر دیں گے۔ ”ٹائم“ نے اپنی تازہ اشاعت میں لکھا ہے کہ طالبان نے مبینہ طور پر امریکی وزیر خارجہ پومپیو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسلامی امارات افغانستان کے ساتھ سمجھوتے پر دستخط کریں۔ 1996ء میں جب طالبان افغانستان میں برسراقتدار آئے تھے تو انہوں نے اس ملک کا یہ سرکاری نام رکھا تھا۔ امریکی وزیر خارجہ کے اس مسودے پر دستخط کرنے کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ طالبان کی جائز حیثیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ ”ٹائم“ میگزین کی اطلاع کے مطابق امریکی وزیر خارجہ نے ایک طویل عرصے پر محیط مذاکرات کے نو ادوار کے خاتمے پر تیار ہونے والے اس مسودے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں زلمے خلیل زاد کی قیادت میں امریکی وفد نے طالبان کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات میں جو سمجھوتہ تیار کیا ہے اس میں افغانستان سے امریکی افواج کا مرحلہ وار انخلاء شامل ہے۔ ”ٹائم“ نے مزید لکھا ہے کہ امریکی وزیر دفاع مارک اسپر صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کر کے اس معاہدے کے بارے میں بات چیت کرنے والے ہیں۔ اگر اس معاہدے پر دستخط ہو جاتے ہیں تو پھر امریکہ کے 5400 فوجی 135 دنوں کے اندر افغانستان سے چلے جائیں گے۔ تاہم ”ٹائم“ کی رپورٹ کے مطابق اس سمجھوتے میں امریکی حمایت سے قائم موجودہ افغان حکومت کے برقرار رہنے کی کوئی ضمانت نہیں ہے جسے طالبان کٹھ پتلی حکومت قرار دیتے ہیں اور امریکہ کی توقع ہے کہ سمجھوتہ مکمل ہونے کے بعد طالبان اوسلو میں افغان انتظامیہ سے مذاکرات کریں گے۔ ”ٹائم“ لکھتا ہے کہ اگر افغان حکومت برقرار بھی رہتی ہے تو مذاکرات کے بعد اس حکومت کے امریکہ کے ساتھ تعلقات مستقل طور پر خراب ہو جائیں گے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے پر رضا مندی کا اظہار کیا ہے اور وہ ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں بات چیت کیلئے اپنا وفد بھیجنے کو تیار ہیں۔ امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد نے انہیں سمجھوتے کا مسودہ دکھانے سے انکار کر دیا ہے۔ افغان حکومت کے ایک باخبر نمائندے نے ”ٹائم“ کو بتایا ہے کہ سب کچھ امید پر مبنی ہے۔ اعتماد کا فقدان ہے۔ اعتماد کی کوئی تاریخ نہیں ہے۔ طالبان کی طرف سے دیانتداری اور خلوص کی کوئی شہادت موجود نہیں ہے۔ سرکاری نمائندے کے مطابق طالبان سمجھتے ہیں کہ انہوں نے امریکہ کو بیوقوف بنایا ہے جبکہ امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ اگر طالبان نے دھوکہ دیا تو اس کی انہیں بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ ”ٹائم“ لکھتا ہے کہ معاہدے میں اس امرکی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ امریکہ کی انسداد دہشت گردی کی فورسز امریکہ پر چڑھائی کرنے کے اصل مقصد القاعدہ کے ساتھ لڑنے کیلئے امریکہ میں ٹھہر سکیں گی اور نہ ہی اس کی ضمانت ہے کہ معاہدے کے نتیجے میں افغانستان سے تشدد کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ”ٹائم“ کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ کے معاہدے پر دستخط نہ کرنے کی صرف یہی وجہ نہیں ہے بلکہ طالبان چاہتے ہیں کہ امریکہ جس معاہدے پر دستخط کرے اس میں دوسرے فریق کا نام ”اسلامی امارات افغانستان“ ہو جو طالبان کی اس حکومت کا سرکاری نام تھا جو انہوں نے 1996ء میں قائم کی تھی۔ امریکی وزیر خارجہ کے ایسے مسودے پر دستخط نہ کرنے کا مطلب طالبان کو افغانستان کی حکومت تسلیم کرنے سے انکار ہو۔ ”ٹائم“ میگزین کی رپورٹ میں مزید لکھا ہے کہ طالبان کو اپنی فتح کا یقین ہے اور انہوں نے پیروکاروں کو بتایا ہے کہ غیر ملکی فوجیں ایک سال کے اندر افغانستان سے نکل جائیں اور معاہدے پر دستخط ہو گئے تو پھر غیر ملکی فوجوں کو دوبارہ واپس آنے کا موقع نہیں ملے گا اور معاہدے پر اتفاق کے بعد بھی طالبان نے افغانستان کی سکیورٹی فورسز پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ 

پومپیو انکار     

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان کے خودکش کار بم دھماکے کے نتیجے میں امریکا اور رومانیہ کے 2 فوجی اہلکاروں سمیت 12 افراد ہلاک ہوگئے۔ خودکش کار بم دھماکا مصروف سفارتی علاقے میں کیا گیا جہاں امریکی سفارتخانہ بھی واقع ہے، جبکہ ایک ہفتے کے دوران یہ اس نوعیت کا دوسرا حملہ تھا۔نیٹو ریزولیوٹ مشن کے بیان کے مطابق دو سروس اراکین 'کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے'، بیان میں ہلاک اراکین کے نام یا دیگر تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی نے کہا کہ خودکش دھماکے میں 42 افراد زخمی بھی ہوئے جبکہ 12 گاڑیاں تباہ ہوئیں۔چند گھنٹے بعد طالبان نے پڑوسی صوبے لوگر میں افغان ملٹری بیس کے باہر کار بم دھماکا کیا جس میں 4 شہری ہلاک ہوئے۔طالبان نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے 'غیر ملکیوں ' کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا جو کابل میں سخت سیکیورٹی والے علاقے شاشدرک میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے جہاں افغان قومی سلامتی کے حکام کے دفاتر ہیں۔دھماکے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے جن کا کہنا تھا کہ ان کا ٹارگٹ غیر ملکی فورسز کا قافلہ تھا

کار بم حملہ

مزید : صفحہ اول


loading...