مقبوضہ کشمیر میں پابندیاں دوسرے ماہ میں داخل، کرفیو جاری 

    مقبوضہ کشمیر میں پابندیاں دوسرے ماہ میں داخل، کرفیو جاری 

سرینگر (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) مقبوضہ کشمیرمیں کرفیو کاآج 33واں روز ہے،وادی کے باسیوں کے رابطے بدستور معطل، انہیں کھانے پینے کی اشیا اور ادو یات کی قلت کا سامنا ہے،دوسری طرف مسلسل جبری پابندیوں کے باوجود سرینگر اور دیگر شہروں میں احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے۔وادی میں جگہ جگہ بھارتی فوجی تعینات ہیں جنہوں نے خاردار تاریں لگا کر رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں، کشمیری اپنی سر زمین پر قیدیوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، لوگ اپنے پیاروں کی خیریت جاننے کیلئے ترس گئے۔وادی کا بیرونی دنیا سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہے، انٹرنیٹ، موبائل سروس، لینڈ لائن اور ٹی وی چینلز بند ہیں۔ حریت رہنماؤں سمیت ہزاروں کشمیری بدستور جیلوں میں بند ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بڑی تعداد میں کشمیریوں کو اتر پردیش، لکھنو کی مختلف جیلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں سخت کرفیو اور مواصلاتی بلیک آؤٹ کا سلسلہ دوسرے مہینے میں داخل ہونے کے باعث انسانی بحران روز بہ روز سنگین شکل اختیار کر رہا ہے۔ گزشتہ ماہ پانچ اگست کو بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی معطلی کے بعد سے قابض انتظامیہ نے وادی کشمیر اور جموں کے پانچ اضلاع میں مسلسل کرفیو نافذ اور انٹرنیٹ، موبائل فون اور لینڈ لائن سروسزسمیت تمام مواصلاتی ذرائع معطل کر رکھے ہیں۔ وادی کشمیر کا گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہونے کے بعد رہائشیوں کو شدید مشکلات،روزمرہ استعمال کی اشیاء اور زندگی بچانیوالی ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ادھر معروف بھارتی صحافی نروپما سبرامنیم نے جو حال ہی میں مقبوضہ کشمیر کا دورہ کر کے نئی دلی واپس پہنچی ہیں بھارت کے دعوے کو مستر د کرتے ہوئے کہا وادی کشمیر کی صورتحال قطعی طور پر معمول کے مطابق نہیں۔ٹویٹر پر جاری پیغامات میں انہوں نے مقبوضہ کشمیرکے عوام کیساتھ اپنی گفتگوکا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کشمیری عوام بھارت سے سخت ناراض ہیں، وادی میں کوئی بھی ایساسیاستدان موجود نہیں جو لوگوں کے سامنے بھارت کا موقف پیش کر سکے۔الجزیرہ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کرفیو زدہ وادی جموں وکشمیر کے مسلم اکثریتی اضلاع میں بھارتی فورسز نے ہزاروں شہریوں کو گرفتار کرنے کے بعد تشددکا نشانہ بنایاہے،رپورٹ میں مقامی افراد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے بہت لوگوں کو بھارتی فورسز نے حراست میں لے رکھا ہے جبکہ ان کے والدین کو ان کا اتہ پتہ معلو م نہیں۔ ادھر حریت کارکنوں نے مقبوضہ کشمیرکی سڑکوں پر آویزاں کئے گئے پوسٹروں اور پمفلٹوں کے ذریعے کہاہے کشمیری عوام کسی کو مقبوضہ علاقے میں آنے اور ہندتواکانظریہ اپنے ساتھ لانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ حریت کارکنوں نے یہ بات بھارتی ریاست مہاراشٹرا کی حکومت کے اس اعلان کہ وہ مقبوضہ علاقے میں دو تفریحی مقامات کیلئے اراضی خریدنے کا ارادہ رکھتی ہے کے جواب میں کہی۔ادھرمقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کیخلاف بھمبر آزاد کشمیرمیں سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کے گروپوں کے زیر اہتما م ایک بڑااحتجاجی مظاہرہ کیاگیا۔  مظاہرے کی قیادت انجینئر مشتاق محمود، ایڈووکیٹ محمود قریشی، محمداسلم ملک اور پاک کشمیر سولیڈیرٹی فورم کے ماجد ارشادسمیت حریت رہنماؤ ں اور کارکنوں نے کی۔

مقبوضہ کشمیر

نئی دہلی(آئی این پی) ایمنسٹی انڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی رابطوں پر پابندی اور لاک ڈاؤن کے خاتمے کی مہم شروع کردی۔ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے مقبوضہ کشمیر کے گورنر ستیاپال ملک کو خط لکھتے ہوئے ریاست سے پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انڈیا نے لاک ڈاؤن کے خاتمے کے لیے ایک مہم بھی شروع کردی ہے جس کے تحت اس کے پیج پر جاکر کوئی بھی شخص اپنے نام اور ای میل ایڈریس کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کے گورنر ستیاپال ملک کو ای میل کریگا اور ان سے کشمیر میں پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کرے گا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے سربراہ آکار پٹیل نے کہا کہ ایک مہینہ ہونے کو آیا ہے جب سے کشمیریوں کی خیریت کی کوئی خبر نہیں سنی، ذرائع مواصلات پر مکمل پابندی کے باعث وہاں کے 80لاکھ افراد کی زندگی پٹری سے اتر گئی ہے، رابطوں پر پابندی کشمیریوں کی شہری آزادی پر بدترین حملہ ہے، لاک ڈان سے ہونے والے انسانی نقصان کو اجاگر کرنے    کیلئے آج سے ایک عالمی مہم شروع کی جارہی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے کہا کہ ایک مہینے سے جاری کرفیو اور دیگر پابندیوں نے کشمیریوں کی روز مرہ زندگی، جذبات، ذہنی حالت، طبی سہولیات تک رسائی اور دیگر ضروریات زندگی تک رسائی کو بری طرح متاثر کیا ہے، ان پابندیوں کا دورانیہ اب مزید طویل نہیں ہونا چاہئے،نقل و حرکت پابندی لگانا خطے کو تاریک دور میں دوبارہ دھکیلنے کے مترادف ہے۔ایمنسٹی انڈیا نے کہا کہ نیا کشمیر کشمیریوں کے بغیر نہیں بنایا جا سکتا، مقبوضہ کشمیر میں صرف مواصلاتی نظام کو ہی نہیں، بلکہ کشمیریوں کے دل و دماغ کو بھی بند کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ایمنسٹی انڈیا

مزید : صفحہ اول


loading...