ایک کروڑ پاکستانی روزگار کیلئے بیرون ملک مقیم ہیں‘ جویریہ سلطان

  ایک کروڑ پاکستانی روزگار کیلئے بیرون ملک مقیم ہیں‘ جویریہ سلطان

ملتان(نیوز رپورٹر)پاکستان جنوبی ایشیاء کا افرادی قوت فراہم کرنے والا دوسرا بڑا ملک ھے. بیوروآف امیگریشن اینڈ اوو سیز ایمپلائنمنٹ کے مستند سروے کی رپورٹ کے مطابق 2016میں 839353, 2017 میں 496286 اور 2018 میں 346467 پاکستانی ملازمت/کاروبار کیلئے بیرون ملک گئے. بیرون ملک مقیم پاکستانیوں میں %6 اعلء تعلیم یافتہ, %11 اعلء ہنر (بقیہ نمبر38صفحہ12پر)

رکھنے والے, %40نرمند, %2 سیمی ہنر مند اور %41 غیر ہنرمند افراد ہیں. تقریباً 1کروڑ پاکستانی روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک مقیم ہیں. جن میں سے %75 افراد گلف ممالک میں قیام پزیر ہیں. ان افراد کی بھجی جانے والی رقوم سے ملک کے لئے خاطر خواہ زرمبالہ حاصل ھوتا ھے. ان خیالات کا اظہار مس جویریہ سلطان کونسلرمائیگرنٹ رسورس سنٹر نے گزشتہ روز بسلسلہ روزگار گلف ممالک ملازمت کے خوائیشمند افراد اور ان کے اہل خانہ کی راہنمائی کیلئے میرا مان اور یوتھ ایپلائی ایبیلٹی نیٹ ورک کے زیر اہتمام ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کے دوران کیا۔ اس ورکشاپ میں محفوظ اور باخبر لیبر مائیگریشن کے حوالے سے راہنمائی فراہم کی گئی. ورکشاپ سے اپنے الگ اظہار خیال میں ٹرینر شھزاد مرتضٰے لنگاہ نے شرکاء کو غیر رسمی اور غیرقانونی طریقہ سے بیرون ملک جانے سے پاکستانیوں کو درپیش مسائل اور دشواریوں سے آگاہ کیا. مائیگریشن کی دنیا کا احوال بتایا اوراس بات پر زور دیا گیا کہ بیرون ملک جانے کیلیے رسمی طریقہ مائیگریشن اختیار کیا جا ئے. شرکائے کرام کو مائیگرنٹ رسورس سنٹر, بیوروآف امیگریشن اینڈ اوور سیز ایمپلائنمنٹ,اوور سیز ایمپلائنمنٹ پروموٹرز, اوور سیز ایمپلائنمنٹ کارپوریشن, اوور پاکستانی فاؤنڈیشن اور دیگر اداروں کے کردار کو بھی اجاگر کیا گیا. ورکشاپ سے سیدہ عروج فاطمہ, رضوانہ ملک, ایڈوکیٹ فیاض, حسین محمد عبدللہ اور دیگر نے بھی خطاب کیا. ورکشاپ میں شریک نوجوانوں نے اسے سراہا, بیرون ملک مشکلات سے بچنے اور اچھی ملازمت حاصل کرنے کے راہنما اصولوں کے بارے میں سوالات کیے اور مزید اسطرح پروگرام کرانے کی ضرورت پہ زور دیا۔

جویریہ سلطان

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...