ختم نبوت کا قانون چھیڑا گیا تو عوام سڑکوں پر ہونگے ‘ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر

    ختم نبوت کا قانون چھیڑا گیا تو عوام سڑکوں پر ہونگے ‘ ڈاکٹر ابوالخیر محمد ...

ملتان (سپیشل رپورٹر )جمیعت علمائے پاکستان (نورانی) کے سربراہ و ملی یکجہتی کونسل کے مرکزی صدر ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر نے کہا ہے کہ اگر قادیانیوں کو تحفظ دینے کے لئے حکومت نے ختم نبوت کے قانون میں ترمیم یا تبدیلی کی کوشش کی تو پاکستان کے عوام سڑکوں پر ہوں گے جبکہ سابق صوبائی وزیر حافظ اقبال خاکوانی نے انکشاف کیا ہے کہ قادیانی ربوہ کی لیز ختم ہو نے کی وجہ سے سرگودھا میں سستی زمینیں(بقیہ نمبر39صفحہ12پر )

مہنگے داموں خرید کر اپنا مرکز بنانے کی سازش کر رہے ہیں جبکہ جمیعت علمائے پاکستان کے رہنما محمد ایوب مغل نے ایک قرارداد کے زریعے مطالبہ کیا ہے کہ قادیانیوں کو فوری طور پر کلیدی عہدوں سے ہٹایا جائے ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمیعت علمائے پاکستان (نورانی) کے زیراہتمام ختم نبوت و استحکام پاکستان کانفرنس میں خطاب میں کیا ڈاکٹر محمد ابوالخیر محمد زبیر نے کہا کہ اسرائیل میں مسلمانوں کا نہ تو کوئی دفتر ہے اور نہ ہی کوئی مرکز جبکہ قادیانیوں کا اسرائیل میں مرکز موجود ہے جو ان کی اسلام دشمن سرگرمیوں کا سب سے بڑا ثبوت ہے انہوں نے کہا کہ قادیانیوں نے ٹرمپ سے ملاقات کرکے پاکستان کے خلاف جو ہرزہ سرائی کی ہے وہ ان کی پاکستان دشمنی کا منہ بولتاثبوت ہے سرگودھا کے علاوہ قادیانی مختلف علاقوں میں زمینیں خرید رہے ہیں جمیعت علمائے پاکستان اس پر خاموش نہیں ہے اور اس پر اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہے ختم نبوت کانفرنسوں کا انعقاد ثابت کررہا ہے کہ قوم جاگ رہی ہے اگر حکمرانوں نے ختم نبوت کے قانون میں ترمیم یا تبدیلی کی کوئی کوشش کی تو قوم سڑکوں پر ہوگی اور حکمرانوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جائے گی انہوں نے مزید کہا کہ سکھوں کے نام پر کرتار پور بارڈر کھولنے کا اصل مقصد قادیانیوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے جو پاکستان آکر دہشت گردی کریں گے ہم ہر حالات کا مقابلہ کرنے کو تیار ہیں لیکن حکمرانو ں کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہیئں سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت ہمارے ایمان کا حصہ ہے ختم نبوت کی تحریکوں میں قوم نے جانوں کے نذرانے پیش کئے جس کے بعد قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا اور آج بھی یہ قانون موجود ہے لیکن قادیانیوں کو تحفظ دینے کی جو سازشیں کی جارہی ہیں وہ کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوں گی سابق وفاقی وزیر مذہبی امور سید حامد سعید کاظمی نے کہا کہ قادیانی کیونکہ جہاد کی نفی اور اسلام کے منکر ہیں اور مسلمانوں میں جذبہ جہاد ختم کرنا چاہتے ہیں جو لوگ ختم نبوت کا قانون ختم کرنا چاہتے ہیں وہ جان لیں کہ قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کے بغیر یہ قانون تبدیل نہیں ہوسکتا اور موجودہ حکومت اکیلے ایسا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے کیونکہ اپوزیشن کبھی بھی اس مسئلے پر حکومت کا ساتھ نہیں دے گی انہوں نے کہا کہ قادیانی روزگار دلانے کے بہانے لوگوں کو بیرون ملک لے جاتے ہیں ایسے لوگوں کو قادیانیوں کے دھوکے میں نہیں آنا چاہیئے جمیعت علمائے پاکستان کے مرکزی جنرل سیکریٹری قاری محمد زوار بہادر نے کہا کہ جمیعت علمائے پاکستان اپنے قائد علامہ شاہ احمد نورانی ؒ کے مشن پر گامزن ہے اگر قادیانیوں کو تحفظ دیا گیا تو ملک میں تحریک کا راستہ نہیں روکا جاسکے گاتحریک بحالی امن کے چیئرمین مخدوم سید غلام یزدانی گیلانی اور سابق ایم پی اے سید احمد مجتبی گیلانی نے کہا کہ قادیانیوں کی سرگرمیوں کا راستہ روکنے کے لئے ہمیں متحد ہونا ہو گا حافظ اقبال خاکوانی نے کہا کہ ہماری مذہبی قیادت کو قادیانیوں کا راستہ روکنے کے لئے جاگنا ہو گا اور اس بات کا عہد کرنا ہو گا کہ 12ربیع الاول کو سرگودھا، ربوہ سمیت قادیانیوں کے دیگر علاقوں میں حضور اکرم کے میلاد کے جلوس نکالے جائیں اور ختم نبوت کے پیغام کو عام کیاجائے قادیانیوں کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کیاجائے جمیعت علمائے پاکستان کے سینئر نائب صدر سید صفدر حسین گیلانی نے کہا کہ جمیعت علمائے پاکستان کی قادیانیوں کے خلاف تحریک جاری ہے اب ملی یکجہتی کونسل بھی اس تحریک کا حصہ بن چکی ہے جماعت اہلسنت کے صوبائی ناظم اعلی ٰ علامہ حافظ محمد فاروق خان سعیدی نے کہا کہ قادیانی اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں ان کی سرگرمیوں سے ہمیں جو نقصان پہنچ رہا ہے اس کا نوٹس لیاجائے معروف مذہبی سکا لر ڈاکٹر محمد صدیق خان قادری نے کہا کہ 1974کی تحریک ختم نبوت میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد مولانا شاہ احمد نورانی ؒ نے قومی اسمبلی میں پیش کی تھی جس کی تائیدقومی اسمبلی کے اندر اور باہر تمام مذہبی اور سیاسی قوتوں نے کی جس کے نتیجے میں ایک سوسال دیرینہ مسئلہ حل ہوا اور قادیانیوں کو متفقہ طور پر غیر مسلم قراردیا گیا اس موقع پر محمد ایوب مغل نے ایک قرارداد میں مطالبہ کیا کہ ہمیں افسوس ہے کہ ملک میں قادیانیوں کی سرگرمیاں زور پکڑ رہی ہیں جن کا راستہ روکنے کے لئے اقدامات کئے جائیں اور قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے ہٹانے کے ساتھ ساتھ آئندہ کسی قادیانی کو کلیدہ عہدوں پر نہ لگایا جائے مدرسہ ہدایت القرآن کے مفتی محمد عثمان پسروری نے کہا کہ آج بھی قوم ممتاز قادری اور غازی علم دین شہید کے جذبے سے سرشار ہے ضرورت پڑی تو قربانی کے لئے تیار ہیں کانفرنس میں پیپلز پارٹی کے سابق ایم پی اے بابو نفیس احمد انصاری، جماعت اسلامی کے آصف اخوانی، عوامی تحریک کے راﺅ عارف رضوی، رکن الدین حامدی، متحدہ مسلم موومنٹ کے ڈاکٹر محمد اکمل مدنی، ممتاز قانون دان حافظ اللہ دتہ کاشف بوسن،چوہدری ذوالفقار سدھو، درگاہ حضرت نواب سخی ؒ کے سجادہ نشین مخدو م زوہیب گیلانی، قومی تاجر اتحاد کے چیئرمین سلطان محمود ملک، جمیعت اہلحدیث کے علامہ خالد محمود ندیم، علامہ عبد الحنان حیدری، علامہ سبطین، صہیب خان اظہری، علامہ ڈاکٹر ارشد بلوچ، مجلس احرار اسلام کے مولانا اکمل سمیت تمام مکاتب فکر کے علمائ، وکلاءاور دیگر رہنماﺅں نے شرکت کی اختتام پر ڈاکٹر علامہ ابوالخیر محمد زبیر نے دعا کرائی۔

کانفرنس

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...