’کشمیر کو بولنے دو‘ ایسے ادارے نے مہم شروع کردی کہ مودی سرکار کی بھی پریشانی کی حد نہ رہے گی

’کشمیر کو بولنے دو‘ ایسے ادارے نے مہم شروع کردی کہ مودی سرکار کی بھی ...
 ’کشمیر کو بولنے دو‘ ایسے ادارے نے مہم شروع کردی کہ مودی سرکار کی بھی پریشانی کی حد نہ رہے گی

  


نئی دہلی(ویب ڈیسک)  ایمنسٹی انڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی رابطوں پر پابندی اور لاک ڈاؤن کے خاتمے کیلئے ’کشمیر کو بولنے دو‘ کے نام سے مہم شروع کردی۔ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے مقبوضہ کشمیر کے گورنر ستیاپال ملک کو خط لکھتے ہوئے ریاست سے پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انڈیا نے لاک ڈاؤن کے خاتمے کے لیے ایک مہم بھی شروع کردی ہے جس کے تحت اس کے پیج پر جاکر کوئی بھی شخص اپنے نام اور ای میل ایڈریس کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کے گورنر ستیاپال ملک کو ای میل کرے گا اور ان سے کشمیر میں پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کرے گا۔

تفصیلات کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے سربراہ آکار پٹیل نے کہا کہ ایک مہینہ ہونے کو آیا ہے جب سے کشمیریوں کی خیریت کی کوئی خبر نہیں سنی، ذرائع مواصلات پر مکمل پابندی کے باعث وہاں کے 80 لاکھ افراد کی زندگی پٹری سے اتر گئی ہے، رابطوں پر پابندی کشمیریوں کی شہری آزادی پر بدترین حملہ ہے، لاک ڈاؤن سے ہونے والے انسانی نقصان کو اجاگر کرنے کیلیے آج سے ایک عالمی مہم شروع کی جارہی ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے کہا کہ ایک مہینے سے جاری کرفیو اور دیگر پابندیوں نے کشمیریوں کی روز مرہ زندگی، جذبات، ذہنی حالت، طبی سہولیات تک رسائی اور دیگر ضروریات زندگی تک رسائی کو بری طرح متاثر کیا ہے، ان پابندیوں کا دورانیہ اب مزید طویل نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اس سے خاندانوں کے خاندان ایک دوسرے سے بچھڑ رہے ہیں، پوری کی پوری آبادی سے آزادی اظہار رائے کو چھیننا اور غیر معینہ مدت کے لیے نقل و حرکت پر پابندی لگانا خطے کو تاریک دور میں دوبارہ دھکیلنے کے مترادف ہے۔ایمنسٹی انڈیا نے کہا کہ نیا کشمیر کشمیریوں کے بغیر نہیں بنایا جا سکتا، مقبوضہ کشمیر میں صرف مواصلاتی نظام کو ہی نہیں، بلکہ کشمیریوں کے دل و دماغ کو بھی بند کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، حکومت ٹیلی فونز کو بحال کرنے کا دعوی کر رہی ہے لیکن 80 لاکھ کشمیریوں کو جھوٹے دعوؤں سے نہیں بہلایا جاسکتا، گورنر ستیاپال ملک انسانیت کو ترجیح دیں اور مقبوضہ کشمیر سے ذرائع مواصلات پر پابندی ختم کریں۔

مزید : اہم خبریں /بین الاقوامی /انسانی حقوق


loading...