سابق چیف انجینئر اسرار سعید4روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

     سابق چیف انجینئر اسرار سعید4روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

  

لاہور(نامہ نگار)احتساب عدالت کے جج محمد اکمل خان نے نیب کی جانب سے گرفتارکئے جانے والے سابق چیف انجینئر ایل ڈی اے ملزم اسرار سعید کو 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں دے دیا،عدالت نے ملزم کودوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے مزید سماعت 19ستمبر تک ملتوی کردی،عدالت نے کچھ دیرکے لئے ملزم کے جسمانی ریمانڈ پر اپنا فیصلہ محفوظ کیا جو بعدمیں سنا دیاگیا،کیس کی سماعت شروع ہوئی توگرفتارملزم اسرار سعید کونیب کی جانب سے عدالت میں جسمانی ریماند کے لئے عدالت میں پیش کیاگیا،ملزم وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ملزم کا پاسپورٹ پہلے ہی سرنڈر ہے، ملزم آشیانہ اقبال کیس میں وعدہ معاف گواہ ہے،نیب کی ایک مس کال پر ان کے پاس پیش ہوتاہے،گورننگ باڈی نے منظوری دی جس میں ملزم کا کوئی کردار نہیں، نیب کی طرف سے پوائنٹ اسکورنگ کی جارہی ہے،کیا تمام باتوں کے لئے گرفتار کرنا ضروری تھا؟ عدالت سے استدعاہے کہ ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں اسے ڈسچارج کیا جائے، فاضل جج نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ کنسلٹنٹ نے ملزم کے خلاف بیان دیا ہے

،  نیب کو گرفتار کرنا مناسب لگا انہوں نے کیا، آپ ان کو ثبوت فراہم کریں، ملزم کے وکیل نے کہا کہ نیب یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ملزم نے پورا پاکستان بیچ دیا ہے، لیکن یہ صرف وہی کرسکتا ہے جو اسکی ڈیوٹی ہے، پراجیکٹ کی نیچر تبدیل نہیں ہوئی، اسکے کام میں توسیع ہوئی، نیب پراسیکیوٹر وارث علی جنجوعہ نے عدالت کو بتایا کہ ملزم پر مختلف پراجیکٹس میں مبینہ کرپشن کے الزامات ہیں، ملزم اسرار سعید کو 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پرنیب کے حوالے کیاجائے،دوران سماعت ملزم اسرار سعید نے بیان دیا کہ میرا کرپشن میں کوئی کردار نہیں، مختلف پراجیکٹس کی منظوری اعلی اتھارٹی دیتی تھی، میں بطور چیف انجینئر پراجیکٹس پر عملدرآمد کرواتا تھا، اگر کوئی مالی بدعنوانی ہوئی ہے تو وہ گورننگ باڈی کے ممبران نے کی ہوگی، ملزم کے وکیل نے کہا کہ ایل ڈی اے کے ڈی جی اور بورڈ نے اسکی منظوری دی، گورننگ باڈی نے اسکی باقاعدہ منظوری دی تھی، اگر کوئی مالی بدعنوانی ہوئی تو گورننگ باڈی نے کی، گورننگ باڈی میں 11 ممبران تھے، گورننگ باڈی ڈی سی او کی زیر نگرانی تھی، ڈی جی ایل ڈی اے، ایم ڈی واسا، ایم ڈی ٹیپا، سیکرٹری فنانس، سیکرٹری پی اینڈ ڈی، سیکرٹری ہاؤسنگ اور 3 ایم پی اے بھی اسکے ممبران تھے، عدالت نے نیب سے استفسار کیا کہ گورننگ باڈی کے کسی ممبر کو گرفتار کیا ہے؟ جس پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ ابھی کسی ممبر کو گرفتار نہیں کیا، نیب کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں ابھی یہ پہلے ملزم کو گرفتار کیا ہے، ملزم کے وکیل نے کہا کہ نیب نے صرف ایک بار کال اپ نوٹس بھیجا اور پھر گرفتار کرلیا، ملزم کا اس میں کوئی کردار نہیں، ملتان روڑ سے فیروز پور روڈ تک مختلف سٹرکوں کو تعمیر کیا گیا، مقامی ایم پی اے اور ایم این اے نے شکایت کی کہ برسات کے موسم میں گندے نالے کا پانی گھروں میں داخل ہوجاتا ہے، ایم پی اے اور ایم این اے نے کہا کہ نالے کو پورا کور کیا جائے، جس کے بعد دوبارہ سے پراجیکٹس میں تبدیلی کی گئی، نیب کے تفتیشی افسر نے عدالت کوبتایا کہ پہلے صرف 630 ملین کا پراجیکٹ تھا، ملزم کی جانب سے مبینہ طور پر متعدد مرتبہ منصوبہ میں ردوبدل سے تعمیراتی لاگت میں 7 گنا اضافہ ہوا، اس پراجیکٹ کو ری ٹینڈر کرنا چاہیے تھا، عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد ملزم کے جسمانی ریمانڈ کے حوالے سے اپنا فیصلہ محفوظ کیا جس کے بعد فاضل جج نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کو جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کرنے کاحکم دے دیا۔

مزید :

علاقائی -