مسئلہ کشمیر،بدستور سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر

مسئلہ کشمیر،بدستور سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر

  

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا ہے کہ کشمیر کو سلامتی کونسل کے ایجنڈے سے نہیں نکالا جا سکتا،عالمی ادارہ کشمیر کا مسئلہ،کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کرانے کے اپنے اعلان کا پابند ہے،ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کا ایجنڈا طے شدہ ضابطوں کے تحت بنایا جاتا ہے اور اس میں تبدیلی متفقہ فیصلے کے ذریعے ہی کی جا سکتی ہے،سلامتی کونسل کا رُکن کوئی  مُلک یک طرفہ طور پر ایجنڈا تبدیل نہیں کر سکتا،بھارت نے اس ہفتے کے شروع میں سلامتی کونسل سے کہا تھا کہ وہ کشمیر کو اپنے ایجنڈے سے نکال دے تاکہ پاکستان جنرل اسمبلی کے ستمبر میں ہونے والے اجلاس میں یہ مسئلہ نہ اُٹھا سکے،سلامتی کونسل کی2019ء کی رپورٹ پر اپنے بیان میں بھارت نے کہا تھا کہ پاکستان سلامتی کونسل میں کشمیر کے ”متروک ایجنڈے“ پر بحث کے لئے کہتا رہتا ہے اِس لئے اس مسئلے کو مستقل طور پر ایجنڈے سے نکالنے کی ضرورت ہے،5اگست2019ء کے بعد سے جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی متنازع حیثیت کے باوجود اسے بھارت کا حصہ بنانے کا اعلان کیا تھا، پاکستان تین مرتبہ سلامتی کونسل  میں اس مسئلے کو اٹھا چکا ہے، بھارت کا موقف یہ ہے کہ کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کے اس کے فیصلے سے کشمیر کی متنازع حیثیت ختم ہو گئی ہے،اِس لئے اسے سلامتی کونسل کے ایجنڈے سے نکال دینا چاہئے،اس کے برعکس اقوام متحدہ بھارتی دعوے کو قبول نہیں کرتی وہ نہ صرف اسے متنازع سمجھتی ہے،بلکہ اس نے کشمیر کی کنٹرول لائن کے دونوں طرف اپنے فوجی مبصرین بھی تعینات کر رکھے ہیں۔ہر سال سلامتی کونسل کشمیر کے مسئلے کو اپنے ایجنڈے پر رکھتی ہے،جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کشمیر دونوں ممالک کے درمیان متنازع ہے،جس کا حل تلاش کیا جانا چاہئے۔

کشمیر1948ء سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل  کے ایجنڈے پر ہے اور عالمی ادارہ کشمیر کو ایک متنازع مسئلہ سمجھتا ہے،جس کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں  نکالا جانا چاہئے، بھارت خود ہی اس معاملے کو سلامتی کونسل میں لے کر گیا تھا،اِس وقت سے اب تک یہ نہ صرف ایجنڈے پر ہے، بلکہ اقوام متحدہ بار بار اِس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ دونوں مُلک اس تنازعے کو حل کریں، موجودہ سیکرٹری جنرل نے بھی اس سلسلے میں اپنی خدمات پیش کی ہیں،پاکستان کے دورے کے دوران بھی سیکرٹری جنرل انتونیو گوترس نے کہا تھا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں تاہم بھارت نے پہ پیشکش مسترد کر دی،انہوں نے اِس بات پر بھی زور دیا تھا کہ تنازعے کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں پُرامن طور پر نکالا جانا چاہئے۔بھارت اِس جانب تو نہیں آتا،لیکن اب اس نے یہ چال چلی ہے کہ کشمیر کو سلامتی کونسل کے ایجنڈے سے نکلوا دیا جائے،لیکن جو ایجنڈا متفقہ طور پر طے ہوتا ہے اسے ایک رکن کیسے نکلوا سکتا ہے یا نکلوانے کے لئے کہہ سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے مستقل مندوب نے صاف طور پر کہا ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ ایک اور سفارت کار کا کہنا تھا کہ جو مُلک سلامتی کونسل کا دو سال کے لئے غیر مستقل رکن بنا ہے اور مستقل رکنیت کے لئے کوششیں کرتا رہتا ہے افسوسناک امر یہ ہے کہ اُسے ان ضابطوں کا بھی علم نہیں، جس کے تحت اقوام متحدہ کے ادارے کام کرتے ہیں۔بھارت کو معلوم ہونا چاہئے کہ ایجنڈا کیسے تیار ہوتا ہے اور کسی آئٹم کو نکالنے کے لئے کیا طریق ِ کار اختیار کیا جاتا ہے، کسی مُلک کی خواہش پر تو ایسا نہیں ہو سکتا۔

کشمیر کا مسئلہ پہلی مرتبہ20جون1948ء کو سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر باقاعدہ طور پر رکھا گیا تھا اس وقت سے لے کر آج تک سلامتی کونسل نے کشمیر کے متعلق سولہ قراردادیں منظور کی ہیں، پاکستان ہر سال سلامتی کونسل سے کہتا ہے کہ ایجنڈے کی یہ آئٹم برقرار رکھی جائے،جس کا عنوان ہوتا ہے ”پاک بھارت سوال“ اسی کے تحت ہر سال اس مسئلے پر بات چیت ہوتی ہے، اب بھارت اسے ”متروک“ قرار دے کر ایجنڈے سے نکلوانے کے لئے کوشاں ہے، بھارت کی  یہ کوشش پاکستان کے مستقل مندوب نے ناکام بنا دی ہے، یہ مسئلہ اس بار بھی ایجنڈے کا حصہ رہے گا اور وزیراعظم عمران خان جب جنرل اسمبلی کے اجلاس سے وڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے، تو وہ اس معاملے پر بھی روشنی ڈالیں گے۔گذشتہ برس بھی انہوں نے جنرل اسمبلی میں یہ مسئلہ اٹھایا تھا، بھارت نے اگرچہ غیر قانونی طور پر کشمیر کو اپنا حصہ بنا لیا ہے،لیکن  اقوام متحدہ اب بھی اسے متنازع قرار دیتی ہے،اس لئے یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک تنازع جو48ء سے سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے اور حل طلب مسئلہ سمجھا جاتا ہے اسے کوئی رکن مُلک محض اِس لئے نکلوانے کی کوشش کرے تاکہ جنرل اسمبلی میں اس کا ذکر نہ ہو،بھارتی اقدام کو کشمیریوں نے بھی تسلیم نہیں کیا اور آج تک وہ بھارت کے اس فیصلے کی مزاحمت کر رہے ہیں۔اسی کے خوف سے بھارت نے ریاست میں مسلسل کرفیو لگا رکھا، اور انٹرنیٹ سمیت موبائل سروسز بھی بند کر دیں، جو اب تک بند چلی جا رہی ہیں،بھارت نے اسی فیصلے کے تحت لداخ کی حیثیت بھی تبدیل کی تھی، جس پر چین کے ساتھ تنازع چلا جا رہا ہے اور اسی وجہ سے بھارت اور چین کے درمیان کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

بھارت اگر عالمی اداروں میں اس معاملے پر خفت سے بچنا چاہتا ہے تو اس کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ چور دروازے سے اس معاملے کو سلامتی کونسل کے ایجنڈے سے نکلوانے کی کوشش کی جائے، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ بھارت عالمی ادارے کی قراردادوں پر عمل کرے، کشمیریوں کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق ِ خود ارادیت دے اور اس معاملے پر استصواب رائے کرائے۔ کشمیر میں جو الیکشن ہوتے ہیں وہ استصواب رائے کا نعم البدل نہیں ہیں اور ان میں کشمیریوں کی بہت کم تعداد حصہ لیتی ہے، ان انتخابات کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ بہت کم ووٹر ریاستی انتخابات میں ووٹ ڈالتے ہیں اب تو کشمیر کی اسمبلی ہی ختم کر دی گئی ہے اور ریاست میں مسلمانوں کی اکثریت ختم کرنے کے لئے پورے مُلک سے ہندوؤں کو لا کر آباد کیا جا رہا ہے۔ایسے اقدامات سے نہ تو کشمیر کی متنازع حیثیت ختم کی جا سکتی ہے اور نہ ہی کشمیر کے مسئلے کا حل نکلتا  ہے،حل وہی ہے جو اقوام متحدہ نے تجویز کر رکھا ہے،یعنی حق ِ خود ارادیت، بھارت جتنی جلدی اس فیصلے کو تسلیم کر لے اس کے لئے اتنا ہی اچھا ہے، تاخیر نے معاملے کو پہلے ہی اُلجھا رکھا ہے اور مزید تاخیر سے مزید اُلجھنیں پیدا ہوں گی، جس کا نقصان بھارت ہی کو ہو گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -