شہید کی جو موت ہے!یاد جنگ ِ ستمبر کی!

شہید کی جو موت ہے!یاد جنگ ِ ستمبر کی!
شہید کی جو موت ہے!یاد جنگ ِ ستمبر کی!

  

خوبصورت، بیوہ ماں کے اکلوتے نوجوان شہید لیفٹیننٹ ناصر خالد کو مظفر آباد میں سپردِخاک کر دیا گیا، ناصر خالد دو روز قبل شمالی وزیرستان میں بارودی سرنگ پھٹنے سے شہید ہوئے،ان کی گاڑی گشت کے دوران دہشت گردوں کی طرف سے بچھائی گئی بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ ہوئی تھی، نوجوان ناصر خالد کی اپنی والدہ کے ساتھ تصویر وائرل ہوئی۔مَیں نے اب تک سوشل میڈیا پر ایسی کوئی تصویر نہیں دیکھی جو اتنی وائرل ہوئی ہو، جتنی بار یہ ہوئی اور لوگوں کی طرف سے دُکھ اور درجات کی بلندی کا اظہار کیا گیا۔یہ شہادت یوں بھی اپنی نوعیت کی حامل ہے کہ ناصر خالد بہت ہی خوبصورت اور نوجوان وردی میں جچا ہوا ہے اور والدہ ساتھ کھڑی مسکرا رہی ہیں، جو سپوت کے لئے فخریہ سی مسکراہٹ  ہے اس نوجوان نے آسٹریلیا سے گریجوایشن کر کے کمشن حاصل کیا اور بطور لیفٹیننٹ اس کی پہلی تقرری تھی، شہید ناصر خود بھی شہید باپ کا بیٹا تھا کہ اس کے والد ایک پولیس افسر کی حیثیت سے شہید ہوئے،اس کا کوئی اور بھائی، بہن بھی نہیں، اور والدہ شہید کی بیوہ کے ساتھ شہید کی ماں کا درجہ پا کر اکیلی رہ گئی۔ اللہ اس نوجوان کے درجات بلند کرے، کہ ایسے ہی جوانوں کے جذبہ ئ جہاد سے قوم کی حیات ہے۔

مَیں جنگ ِ ستمبر1965ء کے حوالے سے لکھنا چاہتا تھا کہ یہ پہلی پاک بھارت جنگ تھی، اور مَیں نے اس کی کوریج بطور صحافی کی تھی۔ ناصر خالد کی شہادت نے موضوع کا رخ تھوڑا تبدیل کر دیا کہ مجھے جنگ ِ ستمبر میں 3بلوچ رجمنٹ کے وہ سب نوجوان یاد آ گئے، جن کے دِلوں میں جذبہ ئ جہاد اور شوقِ شہادت کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا،اور ان نوجوانوں نے آگے بڑھ کر دشمن کا مقابلہ کر کے وطن کا دفاع کیا تھا۔ ناصر کی وجہ سے3بلوچ کے اس وقت کے کمانڈر کرنل تجمل ملک کے سٹاف آفیسر خالد انور یاد آ گئے، وہ بھی ایسے اگلے مورچوں پر رہتے تھے،ان حضرات کے دِل و دماغ میں دشمن تو دشمن موت کا بھی خوف نہیں تھا۔ بی آر بی نہر کی قدرتی آڑ میں برکی پل سے سائیفن تک کا علاقہ پنجاب، بلوچ اور فرنٹیئر فورس رجمنٹوں کی دفاعی ذمہ داری میں تقسیم تھا، دایاں بازو میجر عزیز بھٹی شہید والی،درمیان میں تجمل ملک(میجر جنرل (ر) مرحوم) والی3بلوچ اور سائیفن کے علاقے میں فرنٹیئر فورس متعین تھی۔5-6 ستمبر65ء  کی درمیانی شب جب دشمن نے واہگہ سرحد پار کر کے حملہ کیا اور پاک بھارت جنگ چھڑ گئی تو ملک کے اندر کیفیت ہی الگ سی پیدا ہو گئی، قوم جذبات سے معمور سڑکوں پر نکل آئی، اکثریت کی خواہش بارڈر پر جانے کی تھی، لیکن امن اور جنگ کی لڑائی مختلف ہوتی ہے، پُرجوش شہریوں کو روکا گیا، ہم بھی جوان تھے اور صحافتی زندگی میں یہ پہلا موقع تھا، اِس لئے بار بار سرحد کی طرف جاتے اور ہر بار سیکیورٹی اداروں کی طرف سے نیک نصیحت کے ساتھ واپس بھیج دیئے جاتے، چنانچہ یہ عرصہ شہر میں ہی رہ کر رپورٹنگ کی اور سول ڈیفنس میں شامل ہو کر راتوں کو پہرے بھی دیتے۔ اللہ درجات بلند فرمائے، امین الحسنات، سید خلیل احمد قادری کے، وہ بھی سول ڈیفنس کی وردی زیب تن کر چکے تھے اور یوں ہمارا تعلق اس حوالے سے بھی رہا، جنگ ِ ستمبر65ء  کے حوالے سے بہت کچھ لکھا گیا۔ مَیں نے بھی اپنا حصہ ڈالا، قریباً ہر سال ہی کالم ضرور لکھتا اور احوال بیان کرتا رہا ہوں،لیکن تشنگی ہی رہتی ہے۔ 3بلوچ رجمنٹ کا ذکر بار بار یوں آ  جاتا ہے کہ جنگ بندی(فائر بندی) کے بعد سے ہمارا زیادہ وقت اسی رجمنٹ کے نوجوان افسروں کے ساتھ گذرتا تھا اور ایسی دوستی بھی ہو گئی کہ ایک چکر تو روزانہ لگ ہی جاتا تھا۔ اسی حوالے سے نوجوان سٹاف افسر خالد انور کا     ذکرکیا،جو بہت ہونہار اور سنجیدہ تھے اور ان کے  بشرے ہی سے ظاہر ہوتا کہ وہ بڑے مقام کے حامل ہیں۔ ان کے ساتھ میری اور میرے فوٹو گرافر یعقوب بھٹی(مرحوم) کی ملاقات71ء کی لڑائی کے دوران برکی سیکٹر میں ہڈیارہ گاؤں میں بھی ہوئی، ہم دونوں (رپورٹر+ فوٹو گرافر) کوئیکلی پر خبروں کی تلاش میں تھے، چلتے چلتے برکی کے نہر والے پل کے قریب پہنچے تو ایک بھارتی ہوائی جہاز نے حملہ کیا اور بم پھینکا، جو پل کے اس پار(ہڈیارہ کی طرف) کھیتوں میں گر کر پھٹا، زور دار دھماکہ نے قریبی لوگموں کو حواس باختہ کیا، ہم بھی سڑک کنارے لیٹ گئے اور تھوڑی دیر بعد اُٹھ کر اس مقام کی طرف روانہ ہوئے جہاں بم گرا تھا کہ تصاویر بھی بنائی جا سکیں،ان دِنوں یہ جدید ڈیجیٹل (مووی) کیمرے نہیں تھے۔  بھٹی کے پاس یوشیکا تھا، ہم پل کے قریب پہنچے تو جہاز نے ایک اور چکر لگایا، چنانچہ پناہ کے لئے قریبی فوجی چوکی  چلے گئے، وہاں ایک نوجوان بنگالی لہجے میں اپنے کمانڈر کو حملے کی اطلاع دے رہا تھا، وائرلیس پر جب افسر کا نام  میجر خالد معلوم ہوا تو ہم نے نوجوان سے استفسار کیا یہ3بلوچ والے ہی ہیں، اثبات میں جواب پا کر بات کرانے کی درخواست کی جو مان لی گئی۔ میجر صاحب سے با ت ہو ئی انہوں نے پوچھا ”آگے آؤ گے“ نیکی اور پوچھ پوچھ، ہم نے فوراً ہاں کر دی اور ان کی ہدایت کے بعد نوجوانوں نے ہم دونوں کو ایک ٹرک میں بٹھا دیا، جس میں ڈرم لدے تھے اور غالباً تیل لے جا  یا جا رہا تھا، ہم بے خوف اس سواری پر چلے اور ہڈیارہ گاؤں پہنچے،آبادی سے خالی پاک فوج کے کنٹرول میں تھا۔ ایک اونچی حویلی میں کمانڈ آفس تھا، وہیں میجر خالد انور سے ملاقات ہوئی اور ہم نے دوپہر کا کھانا بھی کھایا۔انہوں نے بتایا کہ اس بار اگلی نہر(جاہمن والی) سے اس پار دشمن کو نہیں آنے دیا گیا، تاہم یہاں جنگ شدید نہیں، کبھی کبھار فائرنگ اور توپوں کے گولوں کا تبادلہ ہو جاتا ہے اس حد تک یاد داشت کھنگالنے کا مقصد یہ ہے کہ یہی میجر خالد انور یا محترم تجمل ملک کے سٹاف افسر بطور لیفٹیننٹ جنرل ریٹائر ہوئے اور جنرل (ر) پرویز مشرف سے سینئر تھے، جبکہ ان سے سینئر علی قلی تھے۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کے چیف آف آرمی سٹاف تعینات ہونے کے بعد فوج کی روایات کے پیش نظر یہ دونوں ریٹائر ہو گئے تھے۔ کبھی کبھی مَیں سوچتا ہوں کہ اگر اُس وقت محمد نواز شریف اگر علی قلی خان صاحب پر یقین نہیں کر سکے  تو ان کے بعد والے خالد انور ہی کو چیف بنا دیتے تو شاید تاریخ ہی مختلف ہوتی کہ وہ اپنے خیالات و نظریات کے حوالے سے خالص سولجر تھے اور ہیں۔

جنگ ِ ستمبر65ء کی تفصیلات اتنی ہیں کہ لکھتے لکھتے صفحات کم پڑ جاتے ہیں،مَیں دو باتیں عرض کرتے یہ تحریر مکمل کرتا ہوں۔ ایک تو یہ کہ مجھے جنگ ِ ستمبر65ء میں 3بلوچ کی کارکردگی کا پورا علم ہے، لیکن حیرت ہے کہ اس رجمنٹ کے کمانڈر کے حصے میں  صرف ایک تمغہ بسالت آیا، اور پچھلے مورچوں والے بڑے انعام سے نوازے گئے۔ شاید3بلوچ اور دوسری رجمنٹوں والے دفاع میں مصروف تھے اور اپنے کارنامے لکھ کر نہیں بھیج سکے۔ دوسرے قومی جذبہ یہ تھا کہ جنگ کے دوران جرائم صفر ہو گئے۔ ٹیڈی پیسہ ایک ٹینک سکیم نے گھروں کے زیور تک حاصل کئے اور پھر ہم نے یہ بھی دیکھا کہ راوی کے پل پر شاہدرہ(جی ٹی روڈ) کی طرف جانے والی کاروں کا ہجوم تھا اور ان کی پچھلی ونڈ سکرینوں پر لکھا تھا۔

CRUSH INDIA

مزید :

رائے -کالم -