نااہل زندہ باد؟

نااہل زندہ باد؟
نااہل زندہ باد؟

  

کیا اقتدار کی غلام گردشوں میں کچھ ہونے جا رہا ہے؟ ”ہاں!“ کہا جا سکتا ہے اور ”نہیں“ بھی۔ درحقیقت پاکستان کی سیاست کا موسم بے اعتبارا ہے،  لہٰذا کوئی سو فیصد پشین گوئی ممکن نہیں، کالی گھٹائیں کب اٹھیں گی اور ہمارے سیاست دانوں کا رویہ کیا ہوگا اور جانے نیت کہاں کہاں بھٹکتی پھرے گی؟واقعہ یہ ہے کہ سیاسی عدم استحکام اور معیشت کی بدحالی اپنے عروج پر ہے، حکومت کی ناقص کارکردگی کے بارے میں کسی بھی سنجیدہ ادارے یا فرد میں شاید ہی کوئی اختلاف پایا جاتا ہو۔ نتیجتاً اسمبلی کے اندر و باہر بیٹھی اپوزیشن چاہتے نہ چاہتے باہم قریب آ رہی ہے۔ خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق کی درخواست ضمانت کے تفصیلی فیصلہ میں عدالت عظمیٰ کی آبزرویشن گویا ایک چارج شیٹ ہے! کتنے ہی تلخ مسائل سلگ رہے ہیں۔ حمزہ شہباز کے خلاف انتقامی کارروائی، میرِصحافت میر شکیل الرحمن کا گناہ بے گناہی اور متروکہ وقف املاک کے سابق اعزازی چیئرمین سید آصف ہاشمی کے خلاف نیب کی انتقامی کارروائیاں،میاں شہباز شریف سے متعلق نیب حکومت گٹھ جوڑ آخر کہاں تک چلے گا اور کیوں؟

تحریک انصاف کا ہنی مون پیریڈ ختم ہوئے ایک عرصہ گزر چکا ہے۔ بیچارے عوام پر ایک ایک لمحہ بھاری اور کاری ہے، قوم کو  سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی بہت سے زیادہ یاد آ رہی ہے، ایک سے بڑھ کر ایک پچھتاوا۔ آنے اور لانے والوں کے لئے مخلوقِ خدا ہاتھ اٹھا اور جھولیاں پھیلا کر بد دعائیں کر رہی ہے۔

حکومت کی غیر قانونی اور انتقامی کارروائیوں کے خلاف مسلم لیگی کارکن اور لیڈر پورے قد اور وقار سے کھڑے ہیں۔ ان کی استقامت بتاتی ہے کہ یہ مستقبل قریب کے لئے بھی ناگزیر ٹھہر چکے ہیں۔ چودھری کبیر احمد خان جو سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کے گھر شریف فارم ہاؤس کے پرسنل سٹاف آفیسر (اعزازی) ہوتے ہیں کی طرف سے حال میں ہی راقم السطور کو خط موصول ہوا ہے، جس میں انہوں نے ”بولتی تصویریں“ کے تناظر میں میری بے باکانہ کاوشوں کو سراہا ہے، مطلب؟ ان کا پورا ”نیٹ ورک“ جاگ رہا ہے! تنویر ضیا بٹ، جو معتبر سیاسی و صحافتی حلقوں میں سندر نام ہے، یہ صوبائی الیکشن کمیشن،جوائنٹ سیکرٹری الیکشن کمیشن سمیت متعدد اہم عہدوں پر سرفراز رہ چکے ہیں۔ وکالت ان کا طرہئ امتیاز کہا جا سکتا ہے۔ انہیں آمدہ لوکل باڈی الیکشن کی خاطر فوکل پرسن مقرر کر دیا گیا ہے۔ موصوف محترمہ مریم نوازشریف صاحبہ کے سیاسی مشیر بھی ہوتے ہیں۔ یہ مسلم لیگی قیادت کا ایک نہایت ہی اہم فیصلہ ہے، ہم دیکھیں گے کہ اس امر و عمل کے کتنے مثبت نتائج برآمد ہوتے ہیں!

حالات گواہی دیتے ہیں کہ تبدیلی کی ہوا چل پڑی ہے۔ وہ تبدیلی نہیں جو وزیراعظم عمران خان  نے لانی تھی بلکہ وہ تبدیلی جو عمران خان کو تبدیل کر دے گی۔ واقعات  ایک ایک لمحے کی گود میں تلخ یادیں چھوڑ جاتے ہیں۔ لگتا ہے کہ جیسے تاریخ موجودہ حکمرانوں کو ہمیشہ نا اہلی اور صرف نااہل کے حوالے سے  یاد رکھے گی!!اگلے چند دِنوں کی آغوش میں جانے کیا کیا کچھ چھپا ہوا ہے۔ محترمہ مریم نواز صاحبہ کے حوالے سے نیب کی کئی کہانیاں منظر عام پر آیا چاہتی ہیں۔ایک نہتی لڑکی نیب کے تمام نقاب نوچ رہی ہے اور بھی بہت کچھ دیکھنا باقی ہے۔ آنکھیں  سلامت رہیں، جاگتے میں اَن گنت خواب دیکھنا باقی ہے!

مزید :

رائے -کالم -