داستان گوئی

داستان گوئی
داستان گوئی

  

میَں آپ کو زمانہ قبل از مسیح لے جانا نہیں چاہتا حالانکہ داستان سُنانے کا رواج اُس دور سے بھی پہلے کا تھا۔ اِنسان نے سب سے پہلے اپنا اظہار دیواروں پر پینٹنگز(تصویروں)کے ذریعے کیا۔ اُن پینٹنگز سے ہی رسمِ تحریر ایجاد ہوا جسے Cuneiform کا نام دیا گیا۔ پینٹنگز کے بعد اِنسانوں نے پتلیوں کے ذریعے کہانیاں سُنانی شروع کر دیں۔ پتلیاں بھی قسم قسم کی بننی شروع ہوئیں۔ پتلیوں کے تماشے کے ساتھ اُوٹ پٹانگ کہانیاں کبھی گا کر اور کبھی لہک لہک کر نثری انداز میں سُنائی جاتی تھیں۔ پتلیوں کو بچے اور بزرگ سبھی شوق سے دیکھتے تھے۔ برِصغیر جس میں خطہِ پاکستان بھی شامل ہے، کا معاشرہ زرعی معاشرہ رہا ہے جو آج بھی ہے۔ صرف ڈیڑھ سو سال قبل ہندوستان میں شہری زندگی کے آثار نظر آنے شروع ہوئے۔ بجلی کی روشنی کی وجہ سے نوٹنکیاں اور تھیٹرشہروں کی رونق بن گئے۔ اِن تھیٹروں اور نوٹنکیوں میں جو ناٹک کھیلے جاتے تھے وہ لوک قصے اور ہندؤں کے دھارمک (مذہبی)کہانیوں سے ماخوذ ہوتے تھے۔ اِن ناٹکوں کے کِردار اپنے ڈائیلاگ متطوم طریقے سے ادا کرتے تھے۔ بیک گراؤنڈ میں ہلکا سا میوزک بجتا رہتا تھا۔ دراصل یہ تھیٹر کی ابتداء کا زمانہ تھا۔ اُس ابتدائی دور میں خواتین کا کِردار بھی مرد ہی ادا کرتے تھے۔ ایسے تھیٹر میَں نے بچپن میں خود دیکھے ہیں۔ میرا بچپن مشرقی پنجاب کے دیہات میں گذرا ہے۔ میرے زمانے میں عوامی تفریح کا ذریعہ چلتا پھرتا سینما گھر اور گشتی سرکس، نوٹنکیاں، پتلُی تماشے اور داستان گوئی ہوا کرتے تھے۔ یہ تمام کھیل تماشے زمین پر بیٹھ کر دیکھے جاتے تھے۔رام لیلا کے ناٹک میں بعض دفعہ ہمارے دیہات میں خوبصورت مسلمان لڑکے سیتاجی کا رول ادا کرتے تھے۔دیہاتوں کی نوٹنکیاں زمین پر بیٹھ کر دیکھی جاتی تھیں۔ ڈائیلاگ بڑا Loud اور جذبات سے بالکل عاری ہوتا تھا۔ کِرداروں کا میک اپ چہرے پر خوب تھوپا ہوا ہوتا تھا۔زرعی ممالک کی کسان آبادی کے پاس سورج کے غروب ہوتے ہی فراغت ہی فراغت ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں پاکستان مین دیکھ لیں۔ 50 فیصد سے زیادہ آبادی ابھی بھی زراعت پیشہ ہے۔ جب ریڈیو اور ٹیلی ویژن ہماری زندگی میں ابھی نہیں آئے تھے تو اُس وقت عوامی تفریح کا ذریعہ پتلُی تماشہ یا نوٹنکی ہوتے تھے۔ لیکن اِن تما شوں کو دیکھنے کے لئے پیسے خرچ کرنے پڑتے تھے۔ 

بغیر کوئی دھیلا پیسہ خرچ کئے تفریح کا ذریعہ ایک ہی تھا اور وہ تھا کہانیاں یعنی داستانیں سُننا۔ سورج ڈھلتے ہی چوپال سجائی جاتی۔ بزرگ اور ذراحیثیت والے زمیندار چارپائیوں پر حقے سمیت براجمان ہو جاتے باقی”لُنڈی بُچی“عوام زمین پر بیٹھ جاتی۔ داستان گو عموماً گشت پرآیا کرتے تھے۔ 15-20 دن ایک دیہات میں گذارے اور پھرآگے دوسرے گاؤں میں پڑاو ڈال دیا۔ یہ داستان گوبلّاکا حافظہ رکھتے تھے۔ درجنوں داستانیں اِن لوگوں کو ازبر ہوتی تھیں۔ کہانی میں جہاں جہاں جذباتی مرحلے آتے وہاں یہ کہانی کار اپنا لہجہ اور اپنی آواز کا اُتار چڑھاؤ ڈرامائی اَنداز میں تبدیل کرتے رہتے۔ جتنے روز یہ کسی دیہات میں قیام رکھتے اِن کے کھانے پینے کا اہتمام گاؤں کے نمبردار کے ذمّے ہوتا۔ ہر شام کہانی یوں شروع ہوتی    ”ایک تھا بادشاہ، ہمارا تمھارا خدا بادشاہ،“۔ یہ جملہ ہر کہانی کے شروع میں ضرور بولا جاتا خواہ کہانی میں آگے چل کر بادشاہ کا کِردار نہ بھی آئے، کہانی اِسی جملے سے شروع ہوتی تھی۔ ایک تھا بادشاہ جس کی سلطنت دور دُور تک پھیلی ہوئی تھی۔ یوں سمجھ لو کہ بادشاہ کی مملکت خداداد کے ایک کنارے کوئی گھڑ سوار صبح فجر کی نماز کے بعد اپنے گھوڑے کو دوڑاتا ہوا مغرب کی نماز کے وقت بھی بادشاہت کے دُوسرے کنارے کو نہیں چُھو سکتا تھا۔ بادشاہ کے 3 بیٹے تھے۔ بڑا شہزادہ تلوار بازی کا ماہر تھا۔ منجھلا شہزادہ آنکھیں بند کر کے بھی تیر اندازی کر سکتا تھا۔ چھوٹا شہزادہ پہلوانی اور کبڈی کا ماہر تھا۔۔۔۔۔۔۔قصہ گوئی کا یہ ایک کلاسک نمونہ ہے۔ جس میں قصہ گو اپنی مرضی سے توڑ مروڑ اور رد و بدل کر سکتا تھا۔ ایسی کہانیاں قصہ گو خود ہی اپنے ذہن سے گھڑتے جاتے تھے اور اُن کو حسبِ ضرورت طول دے کر کئی راتوں تک پھیلا دیتے تھے۔ پشاور کے قصہ خوانی بازار نے اپنی 4 سو سالہ تاریخ میں سینکڑوں داستان گو پیدا کئے۔ دُور دُور سے مسافر اس بازار کی سراؤں میں ٹہرتے تھے۔ ایک رات میں درجنوں قصہ گو اپنی اپنی ٹولیوں کو اپنی سحر انگیز داستان گوئی میں مگن رکھتے۔قصہ گو اپنی کہانی پر پوری گرفت رکھتے تھے۔ وہ وقت کے لحاظ سے یا سامعین کی عدم دلچسپی کے لحاظ سے کہانی کو مختصر کر دیتے تھے یا اُس کہانی میں دوسری کہانی کو اس طرح جوڑ دیتے تھے کہ اَن پڑھ قسم کے سامعین کو کہانی بے ربط نظر ہی نہیں آتی تھی۔ بادشاہوں کے قصےِ میں کِسی جن بھوت یا ڈاکوں کے خطرناک گروہ کو گُھسیڑدینے کا ہنر کہانی کاروں کو بڑے سلیقے سے آتا تھا۔ کہانی رات کے 10-11 بجے تک چلتی تھی۔ سامعین تو زیادہ دیر تک کہانی سننے کو تیار رہتے تھے لیکن چوپال کے چوہدری کا حکم ہوتا تھا کیونکہ کہانی سُننے والوں نے صبح ہی صبح اپنے کاموں میں لگ جانا تھا۔ زرعی معاشرے میں دیر تک سونے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ 

کہانیوں کے موضوع کا اِ نحصار تو علاقے کے مطابق ہوتا تھا۔ مجھے یوپی(U.P. India) اپنے بچپن میں جانے کا اِتفاق ہوا۔ گاؤں کا نام تھا پیلی بھیت(Peeli Bheet) وہاں نمبر دار کو پردھان کہتے ہیں۔ ہم اُن کے ہی مہمان تھے۔ پردھان صاحب نے میرے دادا جی اور دوسرے عزیزوں کی تفریح کے لئے عشاء کی نماز کے بعد قصہ گو کو بُلوایا اور اُس نے دو کہانیاں سُنائیں۔ ایک تھی قصہ یوسف و  زلیخا۔ میری سمجھ میں تو کچھ آیا نہیں تھا سوائے یہ کہ وہ کبھی گانے کی طرح، کبھی آواز کو اُونچا کبھی دھیمی کر کے قِصہ گوئی کر رہا تھا۔ سُننے والے ضرور لُطف اندوز ہو رہے تھے۔ ہم چھوٹے لڑکوں کے لئے اُس نے دوسری کہانی ”سُلطانہ ڈاکو“کی سُنائی۔ اُس میں ہمارے لئے Thrill  کی وجہ یہ تھی کہ ہم نے اپنے محلّے کی پیسہ لائبریری سے سلطانہ ڈاکو کے معرکوں کی کہانیاں پڑھ رکھی تھیں۔ سلطانہ ڈاکو دراصل تمام شمالی ہندوستان کا رابن ھڈ تھا جو امیروں کو لوٹتا تھا اور غریبوں کی مدد کرتا تھا۔اَب جب میَں عمر میں بڑا ہو چکا ہوں اور انگریزی ادب کے علاوہ دوسری زبانوں کا ادب بھی پڑھا ہے تو پتہ چلا کہ رابن ھڈ اور سلطانہ ڈاکو جیسے عوامی ہیرو ہر معاشرے میں رہے ہیں۔ پنجاب کا دُلا بھٹی  ایک معمولی کِسان اپنے علاقے کے مغل منصب داروں کا باغی تھا لیکن اس مقامی سے باغی کے اِردگرد اِتنے قصے کہانیاں بُن دی گئی تھیں کہ اَب دُلا بھٹی انسانی قد سے بہت بڑا کِردار بن چکا تھا۔ اُس پر فلمیں بن چکی ہیں۔ قِصہ گوئی ہر معاشرے، ملک اور کلچر کا حصہ رہی ہے۔ CHARLEMGNE(شارلین)جسے انگریزی زبان میں چار لس دی گریٹ کہتے ہیں، فرانسیسی زبان کے سٹوری ٹیلرز کا مشہوہیرو تھا۔ 

ہندو قِصہ گوئی کے مشہور موضوع مہابھارت، رامائن، چتر لیکھا اور دیوداس تھے۔ اِن تمام قصوں کے کِردار شائد اصلی ہوں لیکن ہر زمانے کے قِصہ گو اور لیککھ(writer) نے رومانس اور مبالغے کے سُنہری خول چڑھا کر اِن کِرداروں کو اَمر کر دیا۔رامائن اور مہابھارت کے قصے کے مختلف Versions قِصہ گوئی کی وجہ سے ہی بنے۔ عقیدت اور مبالغہ آرائی نے اِن قِصوں کی شکل ہی بدل دی۔ کہانی سُننے والوں کے جذبات اور عقیدت کے مطابق کہانیوں کو توڑ مڑوڑد ینا یہ قِصہ گوئی کی عین خاصیت ہے۔ پنجاب مین ہیر رانجھا، سوہنی مہیوال، مرزا صاحباں اور سسی پنوں کے قصے آج بھی ہر اتوار کو شاہی قلعہ کے پاس سہہ پہر کے وقت سنائے جاتے ہیں میَں بھی کبھی کبھی سنتا رہا ہوں۔

مسلمانوں کے ہاں قِصہ گوئی نے ہی بلا ضرورت رسموں، عقیدوں اور بدعتوں کو جنم دیا۔ مذہبی قسم کے قصِہ گو رزمیر کہانیاں ایسی تصویر کشی سے سُناتے ہیں جیسے وہ موقع پر موجود ہوتے تھے۔ ہمارے دیہاتی قصِہ گو، وقت کے ساتھ ساتھ پڑھ لکھ کر ہماری محرم کی مجالِس کے ذاکر بن گئے۔ قرآن میں اگر کسی واقعے یا قِصے کو بیان کیا گیا تو حکائت گوئی نے اُن قِصوں میں رنگ آمیزی کر کے ہمارے اَن پڑھ مسلمانوں کی فہمِ دین کو ہی بدل دیا۔ پُرانے دِنوں کی دیہاتی مسجدوں کے اِمام بھی چِٹے   اَن پڑھ ہوتے تھے۔ وہ قِصہ گوئی سے سُنی ہوئی مبالغے اور غلط تشریح سے بھر پور کہانیاں اپنے خطبوں میں سناتے تھے اور یوں آج بھی پاکستان کی مسلمان اکثریت عقیدت اور مبالغہ آرائی کی غلط روائت کی وجہ سے اِسلام کی عملی روح سے نا آشنا ہے۔ 

https://dailypakistan.com.pk/20-Sep-2020/1186449

مزید :

رائے -کالم -