پاک بھارت جنگ 1965ء (پاکستانی قیادت کی غلطیاں)

پاک بھارت جنگ 1965ء (پاکستانی قیادت کی غلطیاں)

  

کرنل غلام جیلانی خان (ریٹائرڈ)

حرفِ آغاز

پاکستان اور بھارت کے درمیان 1947ء سے لے کر اب تک چار جنگیں لڑی جا چکی ہیں جو بالترتیب 1947-48ء، 1965ء، 1971ء  اور 1999ء میں لڑی گئیں۔ ان میں پہلی اور چوتھی جنگیں علاقائی تھیں یعنی صرف کشمیر میں لڑی گئیں۔ دوسرے ان میں صرف آرمی کو استعمال کیا گیا، فضائیہ اور بحریہ کا ان جنگوں میں کوئی رول نہ تھا۔ باقی دو جنگیں بھرپور جنگیں تھیں جن میں تمام ملٹری فورسز (آرمی، ایئر فورس، نیوی) کو استعمال کیا گیا۔ درج بالا دو علاقائی جنگوں میں پہلی جنگ کا دورانیہ 15 ماہ (اکتوبر 1947ء سے دسمبر 1948ء تک) اور چوتھی جنگ کا دورانیہ تقریباً دو ماہ (مئی تا جولائی 1999ء) تھا۔ ان کو بالترتیب کشمیر وار اور کارگل وار بھی کہا جاتا ہے۔ تاہم ان کے برعکس دوسری اور تیسری جنگ صحیح معنوں میں بھرپور جنگیں تھیں اگرچہ ان کا دورانیہ چند روز تک محدود رہا…… 1965ء کی جنگ (6ستمبر سے 23ستمبر تک) صرف 17روز اور 1971ء کی جنگ (3دسمبر سے 16دسمبر تک) صرف 13 روز تک لڑی گئی۔

آج پاکستان اور بھارت دونوں جوہری قوتیں بن چکی ہیں۔ ان کی تینوں افواج (آرمی، ایئر فورس، نیوی) جدید ہتھیاروں سے مسلح ہیں۔ اگر ان دونوں ملکوں میں پانچویں جنگ شروع ہوگئی تو اس کے نتائج اور دورانیے کے بارے میں کوئی پیشگوئی نہیں کی جا سکتی۔ عام خیال یہی پایا جاتا ہے کہ اگر جنگ ہوئی تو یہ باہمی خودکشی کے مترادف ہوگی!

ستمبر 1965ء کی جنگ ایک یادگار جنگ تھی جس کا آغاز رن آف کچھ کی جھڑپ (اپریل، مئی 1965ء) سے شروع ہوا اور اختتام (جنوری 1966ء میں) معاہدۂ تاشقند کی صورت میں سامنے آیا۔ اس جنگ پر غیر ملکی اور ملکی مصنفین نے کئی کتابیں لکھیں جن میں 99فیصد انگریزی زبان میں ہیں۔ بعض کے اردو تراجم بھی شائع ہوئے لیکن ترجمہ اور اصل میں جو فرق ہوتا ہے اس سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔ آج اس جنگ کو گزرے 53برس ہونے کو آ رہے ہیں۔ اس دوران انڈیا اور پاکستان کی دو نسلیں جوان ہو چکی ہیں لیکن اس جنگِ ستمبر 1965ء کا سحر اتنا اہم بلکہ دلچسپ ہے کہ ابھی تک نہیں ٹوٹا اور آج بھی اس پر لکھنے لکھانے کا سلسلہ جاری ہے۔ لیکن المیہ وہی ہے کہ اردو زبان میں شاذ ہی کوئی تصنیف اس جنگ پر سامنے آتی ہے۔ انگریزی زبان میں ملکی اور غیر ملکی مصنفین اب بھی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ ایک ایسی ہی کوشش کا نام وہ کتاب ہے جو انگریزی زبان میں ہے، جس کا عنوان (From Kutch to Tashkent) ”کچھ سے تاشقند تک“  ہے اور جس کے مصنف ایک پاکستانی ہیں جن کا نام فاروق نسیم باجوہ ہے۔ ان کی تین تصانیف اور بھی ہیں جو میری نظر سے نہیں گزریں۔ لیکن 400سے زیادہ صفحات پر پھیلی اس انگریزی کتاب کا اسلوبِ نگارش نہائت معیاری اور پروفیشنل ہے۔ یہ پہلی بار 2013ء میں برطانیہ میں شائع ہوئی اور پاکستان میں 2014ء میں القا پبلی کیشنز کی طرف سے شائع کی گئی۔ اس کتاب کے تیرہ (13) ابواب ہیں اور آخر میں کتابیات اور اشاریہ بھی دیا ہوا ہے۔اس کی ڈکشن (اسلوبِ نگارش) کے بارے میں ذکر کر چکا ہوں کہ یہ ایک منجھے ہوئے پروفیشنل قلمکار کا حاصلِ مطالعہ معلوم ہوتی ہے۔ تاہم اس میں کوئی خاکہ، نقشہ یا تصویر وغیرہ نہیں۔

 جب تک قاری اس جنگ کی چیدہ چیدہ تفاصیل سے پہلے سے آگاہ نہ ہو اور اس نے اگر اس جنگ کا قبل ازیں کوئی مطالعہ نہ کیا ہو تو اس کے لئے یہ کاوش ایک خشک اور ثقیل تحریر ہوگی۔ لیکن اگر آپ نے اس جنگ کا کچھ نہ کچھ مطالعہ کر رکھا ہے تو یہ تحریر آپ کی معلومات میں گراں قدر اضافہ کرے گی۔ مصنف نے کئی نئے منابع (Sources) سے بھی استفادہ کیا ہے اور ان کا ذکر کرتے ہوئے جو تجزیہ یا تبصرہ کیا ہے، وہ بہت وقیع بھی ہے اور معلومات افزا بھی۔ مثلاً کتاب کے آخر میں جو 13واں باب دیا گیا ہے اور جس کا عنوان ”جنگ پر تاثرات“ (Reflections On the War) ہے اس میں کئی واقعات چشم کشا ہیں۔ اور پہلی بار منظر عام پر لائے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر جب 23ستمبر 1965ء کو یہ جنگ ختم ہوئی تو امریکی اور برطانوی سفیروں نے اپنی اپنی حکومتوں کے جو ذاتی تجزیئے اس جنگ کے بارے میں لکھ بھیجے وہ نہائت سبق آموز ہیں۔ تاریخ کے جھروکوں سے ان میں جھانکیں تو بہت سے پہلو ایسے سامنے آئیں گے جو قبل ازیں کسی اور ملکی یا غیر ملکی مصنف نے بیان نہیں کئے۔ 

اسی آخری باب میں ایک جگہ ان پروفیشنل غلطیوں اور لغزشوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو پاکستان اور بھارت کے اس دور کے اربابِ اقتدار سے سرزد ہوئیں۔ میرے نزدیک اس کتاب کے یہ صفحات بہت وقیع ہیں۔ میں نے اس جنگ پر اپنوں اور بیگانوں کی بہت سی کتابوں کا مطالعہ کر رکھا ہے اور جب یہ جنگ ہو رہی تھی تو آتش جوان تھا اور اس جنگ کی یادیں آج بھی کل کی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ لیکن نئی نسل کے نوجوانوں کو ان اوراق کا کماحقہ ادراک اس وقت نہیں ہو سکے گا جب تک اس جنگ کی چیدہ چیدہ باتیں اور قابلِ ذکر مراحل ان کی نظر سے نہ گزریں۔ اس لئے میں چاہوں گا کہ ہماری نوجوان نسل اس جنگ کا سرسری مطالعہ ضرور کرے جس کو اول اول پاکستان اور بھارت نے اپنی اپنی ”فتوحات“ شمار کیا اور آخر آخر ایک تعطل (Stalemate) کا نام دے دیا۔ 

پروفیسر خالد ہمایوں صاحب نے جب یہ کتاب مجھے پڑھنے کو دی تو میں نے سمجھا اس میں کوئی نئی بات نہیں ہو گی…… رن آف کچھ کی جھڑپ،6ستمبر کا بھارتی حملہ، کشمیر، لاہور، سلیمانکی اور راجستھان محاذوں کی لڑائیاں، بحری جھڑپیں جن میں دوارکا پر شب خون پاک بحریہ کا ایک حوصلہ افزا آپریشن تھا، فضائی معرکے جن میں پاک فضائیہ کا پلڑا بھاری رہا، جنگ بندی اور تاشقند کا معاہدہ…… یہ ساری باتیں اور سارے واقعات چونکہ میرے سامنے وقوع پذیر  ہوئے اور پوری پاکستانی قوم نے بھارتی جارحیت کا جس طرح ڈٹ کر مقابلہ کیا، جس طرح قوم کے مورال کو ہمارے فنکاروں نے ابھارا اور ساری قوم جس طرح ایک ہو کر ملک کے دفاع میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئی اور پاک افواج کے شہیدوں اور غازیوں نے جو ناقابلِ فراموش کارنامے انجام دیئے وہ ہمیشہ پاکستانی تاریخ کا ایک سنہرا باب بن کر جگمگاتے رہیں گے……لیکن جوں جوں وقت گزرا اور قوم کے دانشوروں نے ٹھنڈے دل و دماغ سے اس جنگ کے واقعات کا تجزیہ کیا اور اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں کو جس طرح دور بین کی آنکھ سے دیکھا وہ بھی ایک سبق آموز باب تھا(اور ہے)۔ اس کا سلسلہ اب تک جاری ہے اور خیال ہے کہ آئندہ بھی رہے گا۔ 

اب میں قارئین کے سامنے کتاب کے مصنف کا وہ تجزیہ پیش کرنا چاہتا ہوں جو انہوں نے پاکستان کی قیادت کی لغزشوں پر کیا ہے…… قارئین کے لئے یہ تجزیہ سبق آموز بھی ہوگا اور معلوماتی بھی! اس کے بعدفاروق باجوہ نے بھارتی قیادت کی کوتاہیوں اور لغزشوں کا ذکر بھی کیا ہے جو اس مضمون کے دوسرے حصے میں کسی وقت بیان کی جائیں گی۔

پاکستانی قیادت کی لغزشیں 

فاروق باجوہ لکھتے ہیں کہ چونکہ کشمیر کے سوال پر اس جنگ کی شروعات کا فیصلہ پاکستان نے کیا تھا اس لئے ایک تو پاکستان کو ناگہانیت (Surprise) کا فائدہ حاصل تھا اور دوسرا فائدہ یہ بھی حاصل تھا کہ وہ اس جنگ کی پلاننگ پوری پروفیشنل مہارت اور دل جمعی سے کر سکتا۔ لیکن پاکستان ان دونوں مواقع سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکا۔ اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کی ناکامیوں کی وجوہات معلوم کی جائیں۔

اس جنگ کا دورانیہ اگرچہ صرف 17روزہ تھا لیکن اس کے اثرات دوررس تھے۔ اس طرح کی مختصر لیکن گھمسان کی جنگوں کے اثرات مختصر نہیں بلکہ طویل مدت پر محیط ہوتے ہیں۔ مناسب ہو گا اگر اس مختصر جنگ میں پلاننگ سے لے کر اس کی تکمیل تک جو فیصلے پاکستانی قیادت نے کئے، ان کا ناقدانہ جائزہ لیا جائے۔

پہلی غلطی

ہم دیکھتے ہیں کہ کشمیر کے سوال پر جنگ میں کودنے کا سوال 1965ء کے اوائل میں پاکستان بھر میں زور پکڑ رہا تھا۔اس کی ایک وجہ اکتوبر 1962ء میں چین کے ہاتھوں انڈین آرمی کی شکست تھی جس نے پاکستانی عوام اور فوج کی نگاہوں میں انڈین آرمی کا پروفیشنل امیج کمزور اور داغدارکر دیا تھا۔ پاکستانی میڈیا میں بھارتی شکست پر طرح طرح کے مضحکہ خیز تبصرے کئے جاتے تھے۔ 

13مئی 1965ء کو جب ایوب خان نے آپریشن جبرالٹر اور گرینڈ سلام کا فیصلہ کیا تو اس میں فورس استعمال کرنے کا منصوبہ ناگزیر تھا۔ ان دو آپریشنوں میں پاکستان نے ہزاروں کی تعداد میں مقبوضہ کشمیر میں ریگولر اور مجاہد دستے بھیجنے کا پلان بنایا جو مقبوضہ کشمیر کے اندر مختلف مقامات پر پہنچ کر گڑ بڑ پھیلائیں، توڑ پھوڑ کریں اور انڈین آرمی جو وہاں (مقبوضہ کشمیر میں) مقیم تھی کے لئے مشکلات پیدا کریں۔

اسی طرح ایوب خان نے ذاتی طور پر گرینڈ سلام لانچ کرنے کی منظوری بھی دی اور ہدائت جاری کی کہ سٹرٹیجک اہمیت کے حامل بھارتی قصبے اکھنور پر قبضہ کر لیا جائے۔ ایوب نے باور کر لیا تھا یا ان کو باور کروایا گیا تھا کہ انڈیا، بین الاقوامی سرحد عبور کرکے پاکستان پر حملہ نہیں کرے گا…… یہ فیصلہ پاکستانی قیادت کی پہلی بنیادی غلطی یا لغزش شمار کیا جانا چاہیے۔

جب یہ جنگ ختم ہوئی تو پاکستان کے بہت سے جرنیلوں اور حکومتی دانشوروں نے بھی آپریشن جبرالٹر کی غلطی کا ذمہ دار بھٹو صاحب کو ٹھہرایا کہ انہوں نے اور ان کی وزارت خارجہ کے سینئر افسروں نے بار بار ایوب خان کو یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ انڈین ٹروپس کسی بھی صورت میں انٹرنیشنل بارڈر عبور نہیں کریں گے۔ بھٹو نے جنگ کے بعد اس اعتراض کا بڑامسکت جواب  دیا  تھا کہ اگر ان کا یہ تجزیہ غلط بھی تھا تو اس وقت بہت سے جرنیلوں نے میری ہاں میں ہاں ملائی تھی۔ اور علاوہ ازیں بھٹو نے یہ استدلال بھی کیا کہ آخری فیصلہ تو ایوب نے کرنا تھا۔ اگر انہوں نے آپریشن جبرالٹر شروع کرنے کا فیصلہ کیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری ایوب پر ہے، مجھ پر نہیں۔ بھٹو کا یہ استدلال ہر لحاظ سے درست اور قابلِ یقین ہے۔ آخری فیصلہ تو ایوب نے کرنا تھا، بھٹو یا وزارت خارجہ کے کسی سیکرٹری نے نہیں، کیونکہ ایوب خان پاکستان کی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر بھی تھے اور حکومت کے صدر بھی!

دوسری غلطی

دوسری غلطی جو ایوب سے ہوئی وہ یہ تھی کہ انہوں نے آپریشن جبرالٹر میں بہت کم تعداد میں فورس استعمال کی۔ ان کا یہ فعل اصول ہائے جنگ کے منافی تھا۔ جنگ کا ایک اصول یہ ہے کہ جب فورس استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا جائے توپھر مقامِ حملہ پر بھرپور فورس اکٹھی کرکے حملہ کیا جائے۔ مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں کی تعداد میں ٹروپس بھیج کر یہ لولا لنگڑا بہانہ بنانا کہ یہ مقبوضہ کشمیر کی مسلم آبادی کی طرف سے بغاوت یا یورش ہے ایک بودا استدلال تھا جو بین الاقوامی برادری کے لئے ناقابلِ یقین تھا۔ دراصل ایوب نہیں چاہتے تھے کہ انڈیا کے ساتھ ایک بھرپور جنگ کی جائے۔ لیکن 13مئی 1965ء کو جو فیصلہ کیا گیا اور اس میں پاک آرمی کے کمانڈر انچیف جنرل موسیٰ نے انڈیا کی طرف سے بڑے ردعمل کے خدشے کا اظہار کیا تو ایوب خان نے کہا: ”جنرل صاحب! آخر ایک نہ ایک دن ہمیں دل بڑا کرنا ہی پڑے گا“۔

آپریشن جبرالٹر سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ اس جزوی جنگ کی پلاننگ بھی جزوی تھی، کلّی نہیں۔دوسرے لفظوں میں GHQ محتاط کھیل کھیلتا رہا۔ اگر جنرل اختر ملک کو اکھنور پر قبضہ کرنے کی اجازت دے دی جاتی اور عین گھمسان کی لڑائی میں کمانڈ کی تبدیلی نہ کی جاتی تو عین ممکن تھا کہ جنرل اختر ملک اکھنور پر قبضہ کرنے کے بعد سیدھا جموں کا رخ کرتے۔ اگر یہ حملہ کامیاب ہو جاتا (اور اس کی کامیابی کے روشن امکانات تھے) تو انڈیا کے لئے یہ ایک سٹرٹیجک شکست کا باعث بنتا۔مقبوضہ کشمیر میں اگرچہ انڈیا کی کافی فوج موجود تھی اور بھارتی پنجاب میں بھی تھی لیکن سیالکوٹ سے جموں تک پھیلی پاک فوج پر حملہ کرکے کسی بھارتی فوج کا کامیاب جوابی حملہ ممکن نہ تھا۔ ایسی صورتِ حال میں پاکستان اس قابل ہوتا کہ اپنی اس کامیابی کو کیش کروا سکے اور کشمیر پر کوئی ایسا سمجھوتہ ہو جائے جو پاکستان کے حق میں ہو۔

تیسری غلطی 

تیسری غلطی یہ تھی کہ عسکری اور سویلین قیادت جو ایک ہی شخص کے ہاتھ میں تھی اس کو اگر یہ باور بھی کروا دیا گیا تھا کہ انڈیا بین الاقوامی سرحد عبور نہیں کرے گا تو پھر بھی کیا GHQ پر لازم نہ تھا کہ کسی ایسی ہنگامی صورتِ حال کے لئے تیاری کرتا کہ بالفرض اگر بھارت بین الاقوامی سرحد عبور بھی کر لے تو اس کو روکنے کا کوئی پلان تو ہونا چاہیے؟…… سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کوئی پلان بنایا گیا تھا؟ اگر بنایا گیا ہوتا تو پاکستان یہ دہائی کبھی نہ دیتا کہ بزدل دشمن نے 6ستمبر کو رات کی تاریکی میں چھپ کر لاہور پر حملہ کر دیا اور حملے سے پہلے کوئی الٹی میٹم بھی نہ دیا!

اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا

اگر ایسا کوئی پلان بنا لیا جاتا تو پاکستان، واہگہ (پنجاب) کی سرحد پر پھیلی اپنی فورسز کو آپریشن گرینڈ سلام کے ساتھ ہی یہ وارننگ بھی دے دیتا کہ بھارتی حملے سے ہوشیار رہا جائے۔ جب آپریشن جبرالٹر اور گرینڈ سلام کی پلاننگ کی گئی تھی تو بین الاقوامی سرحد پر بھارت کے ”ناگہانی“ حملے کی صورت میں ایک دفاعی پلان بھی ساتھ ہی ترتیب دے دیا جاتا تو 6ستمبر کی شب جو افراتفری اور ہنگامی صورت حال لاہور پر حملے کی صورت میں پیش آئی اس سے بچا جا سکتا تھا…… چنانچہ یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ جبرالٹر اور گرینڈ سلام کو شروع کرنے سے پہلے اور شروع کرنے کے بعد بھی اس طرح کا کوئی حفظِ ماتقدم کا سامان نہ کیا گیا۔

چوتھی غلطی

پاکستان کی قیادت کی طرف سے چوتھی غلطی کا سلسلہ بھی ناقص پلاننگ سے جڑا ہوا ہے۔ یہ پاکستان کی بنیادی عسکری غلطی تھی کہ اس نے کسی طویل عرصے کے لئے جنگ کی تیاری نہ کی۔ اگر ایوب خان کو یہ غلط پٹی بھی کسی نے پڑھائی تھی کہ انڈیا آپریشن گرینڈ سلام کے بعد بھی کوئی جوابی وار نہیں کرے گا اور انٹرنیشنل سرحد عبور کرنے کی غلطی نہیں کرے گا تو پھر بھی یہ سوچنا چاہیے تھا کہ پاکستان اور بھارت تو اول روز ہی سے ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ 1947ء میں تقسیمِ برصغیر کی اصل اور بڑی وجہ ہندو مسلم باہمی مخالفت ہی تو تھی جو 14اگست 1947ء کے بعد زیادہ زور شور سے ابھری اور جاری رہی۔ اس لئے یہ بات زیادہ قرینِ قیاس تھی کہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک بڑی اور طویل جنگ بھی چھڑ سکتی ہے اور جب پاکستان نے یکم ستمبر 1965ء کو چھمب کی طرف اپنے ٹینک اور توپخانہ روانہ کر دیا تھا  تو انڈین ملٹری کو سمجھ آ گئی تھی کہ اس آرمر اور آرٹلری کی آخری منزل کیا ہے اور اکھنور پر قبضے کا مطلب کیا ہے۔ پاکستان نے چونکہ کسی طویل جنگ کی پلاننگ نہیں کی تھی اس لئے جب اکھنور پر دباؤ پڑا تو انڈیا نے لاہور اور سیالکوٹ پر حملہ کر دیا۔ لیکن ان شہروں کو بچانے کا کوئی دفاعی پلان کسی GHQیا سپریم کمانڈر نے نہ بنایا۔ پاکستان کو معلوم تھا کہ اس کا وار سٹیمنا صرف تین چار ہفتے تک کا ہے اور اس کے بعد پنجابی محاورے کے بقول ”دانے مُک“ جائیں گے تو اس صورتِ حال کا مداوا کیوں نہ کیا گیا؟ ایوب خان 1951ء سے پاکستان آرمی کے کمانڈر انچیف تھے اور 1965ء میں بھی ملک کی مسلح افواج کی باگ ڈور دراصل ان کے ہاتھوں میں تھی۔ انہوں نے ہی امریکہ سے سنٹو اور سیٹو کے معاہدے کئے تھے۔ اس لئے ان کو اچھی طرح معلوم تھا کہ امریکہ نے جو فوجی مدد دی ہے وہ انڈیا کے خلاف لڑنے کے لئے نہیں دی بلکہ روس کے خلاف لڑنے کے لئے دی ہے۔ امریکہ نے پاکستان کو جو بھاری ہتھیار فراہم کئے تھے وہ صرف عارضی طور پر چند دنوں تک روسی یلغار روکنے کے لئے تھے۔ آئزن ہاور انتظامیہ نے واضح کر دیا تھا کہ امریکی پیٹن ٹینک اور لانگ رینج آرٹلری وغیرہ محض ابتدائی رشین یلغار کو تھامنے کے لئے ہے۔ اور اس کے بعد امریکی فورسز نے خود آکر روس سے نمٹ لینا تھا۔ ایس ایس جی کی تشکیل بھی انہی پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر کی گئی تھی۔ ایوب خان کو اچھی طرح معلوم تھا کہ ان کے پاس بھاری ہتھیاروں کا گولہ بارود محض چند ہفتوں کے لئے ہی تھا۔ اس کے علاوہ ایوب کو یہ بھی معلوم تھا کہ ان کو جو اسلحہ دیا گیا ہے اس کا تعلق خواہ آرمی سے ہو یا ائر فورس سے اس کا ایمونیشن اور فاضل پرزہ جات کسی بھی دوسرے مغربی ملک سے حاصل نہیں ہو سکیں گے۔ اس جنگ سے کچھ ہی عرصہ پہلے اس بات کے آثار مل رہے تھے کہ جنگ کی صورت میں امریکہ، پاکستان کی عسکری امداد روک لے گا اور پاکستان کو جو کچھ اس کے اسلحہ خانہ میں پڑا ہے اسی سے جنگ لڑنی ہوگی۔ یہی وجہ تھی کہ یہ جنگ ابھی تیسرے ہفتے میں بھی داخل نہیں ہوئی تھی کہ فاضل پرزہ جات اور گولہ بارود کی راشننگ شروع کرنی پڑی۔ کوئی ٹینک اگر ناکارہ ہو جاتا یا کوئی طیارہ تباہ کر دیا جاتا تو اس کا بدل میسر نہ تھا۔ ہر روز جنگ کی صنائعات (Losses)  بڑھ رہی تھیں لیکن پاکستان بے بس نظر آ رہا تھا۔ ترکی اور ایران نے اگرچہ اپنی سی کوشش کی کہ پاکستان کی مدد کریں لیکن جس سکیل اور مقدار کی مدد اس گھمسان کی جنگ میں درکار تھی اس کا ہاتھ آنا محال تھا…… اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی صلاحیتِ جنگ روز بروز کم سے کم ہوتی چلی گئی۔

پانچویں غلطی

پاکستان کی پانچویں غلطی یہ تھی کہ اس نے عالمی ردِعمل کا غلط اندازہ لگایا۔ انڈیا کی طرف سے بین الاقوامی سرحد پار کرکے پاکستان پر حملہ کرنے کے فیصلے پر گزشتہ سطور میں بحث ہو چکی۔ لیکن انڈیا کے علاوہ بھی ایوب خان نے دنیا کے دوسرے ممالک کے ردعمل کا کوئی درست اندازہ نہ لگایا۔ اگرچہ 1964ء میں ایوب خان کو معلوم ہو چکا تھا کہ چین کے ساتھ آنے والے برسوں میں دوستانہ روابط ضروری بلکہ ناگزیر ہوں گے لیکن ان روابط کا اثر پاک امریکہ تعلقات پر کیا پڑے گا اس کا کچھ خیال نہ رکھا گیا۔ روس (جوان دنوں USSR) کہلاتا تھا اور جس کے ساتھ پاکستان کے پہلے کسی بھی قسم کے روابط نہ تھے اس سے بھی دوستی کے رشتے استوار کرنے شروع کر دیئے۔ ایسا کرتے ہوئے یہ نہ سوچا کہ اس کے اثرات امریکی دوستی پر کیا پڑیں گے۔ دوسرے لفظوں میں 1965ء تک صرف اور صرف امریکہ ہی واحد ملک تھا جو پاکستان کو اسلحہ سپلائی کرتا تھا۔ اس دلیل پر بھی کوئی شک نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کو صرف امریکہ ہی پر انحصار نہیں کرنا چاہیے تھا اور ضرورت اس بات کی تھی کہ دوسرے ملکوں سے بھی روابط قائم کئے جائیں خصوصاً وہ ملک جو 1965ء میں پاکستان کو اسلحہ سپلائی کر سکتے تھے۔ یہی استدلال تھا جو اس دور میں پاکستان کے کئی دانشور حکومت سے کر رہے تھے کہ چین اور روس کے دروازوں پر بھی دستک دی جائے۔ لیکن عقلمندی کا تقاضا تھا کہ پہلے چین کے ساتھ کوئی ایسا معاہدہ کر لیا جاتا جو امریکہ کا متبادل ہو سکتا۔ یا کم از کم چین سے اس امر کی یقین دہانی ہی حاصل کر لی جاتی کہ وہ جنگ کی صورت میں وہ اسلحہ بارود فراہم کر دے گا جو امریکہ پاکستان کو کر رہا تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ جونہی یہ جنگ شروع ہوئی امریکہ نے پاکستان کی فوجی امداد بند کر دی اور دنیا کی نگاہوں میں مساوات کا علمبردار بننے کے لئے بھارت کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا۔ لیکن بھارت کا سپلائر تو سوویت یونین تھا، اسے امریکی بندش سے کوئی فرق نہ پڑا۔ ایسا نہ کرکے پاکستان نے چین کی ناراضگی بھی مول لی۔ ایوب خان نے ائر مارشل اصغر خان کو چین بھیجا کہ وہاں سے فوجی مدد حاصل کی جائے لیکن چینیوں نے بڑی خوش اخلاقی سے اصغر خان کو کہا کہ اس مدد کی درخواست ایوب خان کی طرف سے آنی چاہیے۔

پاکستان کو معلوم تھا کہ چین کی عسکری قوت کا کیف و کم کیا ہے۔1950ء سے لے کر 1953ء تک چین نے امریکہ کو لوہے کے چنے چبوائے تھے اور اس کی آٹھویں آرمی (8th Army) کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا تھا۔ اس کے بعد چین نے شمالی ویت نام میں ویت کانگ کی فوجی امداد کرکے وہاں سے امریکہ کا بوریا بستر گول کروایا تھا اور جب امریکہ ویت نام سے نکلا تو اس کے 58ہزار آفیسرز اور جوان ہلاک ہو چکے تھے اور لاکھوں زخمی اور اپاہج ہو گئے تھے۔ پھر 1962ء میں چین نے انڈیا پر حملہ کرکے صرف ایک ماہ کے اندر اندر اپنا وہ علاقہ واپس لے لیا تھا جس پر بھارت نے قبضہ کیا ہوا تھا…… اس پس منظر میں پاکستان کو جنگ کی پلاننگ کے دوران چین سے مشورہ کر لینا چاہیے تھا اور ضمانت لے لینی چاہیے تھی کہ وہ بھارت سے آل آؤٹ جنگ کی صورت میں اگر پاکستان کی مدد کو آئے گا تو اس کی SOPs کیا ہوں گی۔ ایوب خان نے ایسا نہ کرکے دونوں طرف سے مار کھائی۔ ایک تو امریکہ کی ناراضگی مول لی اور دوسرے چین کو بھی اعتماد میں نہ لیا۔

باایں ہمہ چین نے پاکستان کو سفارتی سطح پر بھی سپوٹ کیا اور بھارت کو ڈرایا دھمکایا بھی کہ اس نے چینی گلہ بانوں کو تنگ کیا ہے۔ لیکن اس کے علاوہ چین نے اور کچھ نہ کیا۔ دوسری طرف یہ حقیقت بھی اب منظر عام پر آ چکی ہے کہ امریکہ اور سوویت یونین نے چین کو وارننگ دے دی تھی کہ وہ پاکستان کی مدد نہ کریں۔چنانچہ ان دونوں نے بھارت کو یہ یقین دہانی بھی کروا دی تھی کہ چین صرف دھمکیوں تک محدود رہے گا! لیکن اس سے بھی زیادہ سنگین بات امریکہ کی طرف سے پاکستان کے خلاف شدید اور مخالفانہ ردعمل تھا۔ صدر جانسن، ایوب خان سے سخت ناراض تھے کہ انہوں نے انڈیا سے اس وقت جنگ چھیڑی جب امریکہ ویت نام کی جنگ میں بُری طرح الجھا ہوا تھا۔ وہ زمانہ ویت نام کی جنگ میں شدت کا زمانہ بھی تھا۔ایوب خان نے یہ غلط اندازہ بھی لگایا کہ چین، پاکستان کی مدد کے لئے انڈیا پر حملہ کر دے گا اور امریکہ ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم پر عمل پیرا ہو کر بیٹھا رہے گا۔ اگر چین پاکستان کے حق میں انڈیا پر حملہ کر دیتا تو امریکہ کو لامحالہ انڈیا کی مدد کو آنا پڑتا۔ یہ بات بھی اب کوئی راز نہیں رہی کہ ایوب خان نے 19اور 20ستمبر کو چین کا خفیہ دورہ کیا تھا۔ معلوم ہوتا ہے اس دورے میں بھی ایوب نے چین سے درخواست نہ کی کہ وہ بھارت پرکسی طرح کا حملہ کرے۔ لیکن اگر چین ایسا کرتا تو ایک تو پاک امریکہ تعلقات شدید طور پر بگڑ جاتے اور سوویت یونین اور پاکستان کے درمیان بھی ایک نئی دشمنی کا دروازہ کھل جاتا۔

حرف اختتام

اس جنگ میں پاکستان کی طرف سے جن درجِ بالا اہم اور سنگین پانچ غلطیوں کا ارتکاب کیا گیا، ان کے پیشِ نظر ایوب خان کی عسکری بصیرت پر حرف گیری کی جا سکتی ہے۔ پاکستان کی اس جنگ میں کامیابی کی صرف دو صورتیں تھیں۔ ایک یہ کہ اکھنور پر قبضہ کرنے کے بعد جموں پر قبضہ کر لیا جاتا جو اتنا مشکل نہیں تھا اور دوسرے میدانِ جنگ میں انڈین آرمی کو شکست فاش دے دی جاتی…… لیکن یہ دونوں باتیں نہ ہو سکیں۔ اکھنور ہاتھوں سے نکل جانے کی وجوہات پر ماہرینِ جنگ نے کئی تبصرے کئے ہیں۔ ان میں یہ تبصرہ زیادہ قرینِ قیاس لگتا ہے کہ پاکستان کے پاس انڈیا کے مقابلے میں انفنٹری کی کمی تھی۔ اگر پاکستان کے پاس دو انفنٹری ڈویژن اور ہوتے تو 8اور 9ستمبر کو پاکستان نے کھیم کرن کی طرف سے جو جوابی وار کیا تھا اس کی کامیابی کے امکانات روشن ہو جاتے۔ اس جوابی یلغار (Offensive) میں ایک وقت وہ بھی آیا تھا کہ انڈیا کے آرمی چیف جنرل جے این چودھری نے جی او سی انچیف، ویسٹرن کمانڈ، لیفٹینٹ جنرل ہربخش سنگھ کو کہہ دیا تھا کہ وہ بیاس سے پیچھے ہٹ جائے۔ لیکن یہ کریڈٹ ہربخش کو جاتا ہے کہ اس نے 4ماؤنٹین ڈویژن کو شمال سے جنوب کی طرف موو (Move) کرنے کے احکامات جاری کئے جس نے عین وقت پر پہنچ کر پاکستانی ٹینکوں کی یلغار کے آگے بند باندھ دیا اور ان کو فاضلکا تک نہ جانے دیا۔ پاکستانی آرمر کی پیشقدمی کے راستے میں پانی چھوڑ دیا گیا جس میں بھاری بھرکم پیٹن ٹینک پھنس کے رہ گئے اور دوسرے انڈین 4ماؤنٹین ڈویژن کی ریکائل لیس رائفلوں (RR Rifless) نے اصل اتر کے مقام پر پاکستانی ٹینکوں کی بڑی تعداد برباد کرکے رکھ دی۔ اسی اصل اترکی لڑائی میں انڈین آرمی کے حوالدار حمید کو بہادری کا سب سے بڑا انعام دیا گیا کیونکہ اس نے تن تنہا اپنی آر آرز سے نصف درجن پیٹن ٹینک شکار کئے تھے۔ بعد میں انڈیا نے اس مقام کا نام ”پاکستانی ٹینکوں کا قبرستان“ رکھ دیا۔ پاکستان کی اس جوابی یلغار کی ناکامی کے بعد بھارتی فوج کے حوصلے بڑھ گئے اور اس نے اگلے روز سیالکوٹ پر حملہ کر دیا۔

2ستمبر 1965ء کو اکھنور کی طرف پیش قدمی کے دوران کمانڈ کی جو تبدیلی کی گئی اور جنرل اختر ملک کی جگہ جنرل یحییٰ کو مقرر کیا گیا تو یہ تاخیر بھی نہائت مہلک ثابت ہوئی۔ اس کے بعد انڈین آرمی جارح انداز (Offensive) اختیار کرتے ہوئے سیالکوٹ پر حملہ آور ہوئی۔ دریں اثناء پاکستان کے پاس گولہ بارود ختم ہو رہا تھا،  سپئر پارٹس کی قلت پوری نہیں کی جا رہی تھی اور سٹرٹیجک ریزرو ختم ہوتے جا رہے تھے۔ ایسے میں جب اقوامِ متحدہ کی طرف سے جنگ بندی کی پیشکش ہوئی تو ایوب خان نے اول اول انکار کر دیا۔ لیکن دونوں سپرپاور جانتی تھیں کہ پاکستان کے پاس بھاری ہتھیاروں، ان کے اسلحہ بارود اور سپیئرپارٹس کے ذخائر ختم ہوتے جا رہے ہیں اور پاک آرمی اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ کسی طویل تر مدت کے لئے کسی بھی محاذ پر جم کر لڑ سکے۔بات یہ نہ تھی کہ پاکستانی سپاہی کے پاس مورال اور عزم و حوصلہ کا فقدان تھا۔ لیکن صرف عزم و حوصلہ اور مورال سے ہی کام نہیں چلتا۔ سپاہی کے ہاتھ میں جب تک رائفل نہ ہو اور رائفل میں گولیاں نہ ہوں تو وہ کیا لڑے گا؟…… اور کتنی دیر تک لڑے گا؟……

پاکستان میں بعض لوگ ایسے بھی تھے جن کا دعویٰ تھا کہ 23ستمبر کو جنگ بندی سے ایک روز پہلے 22ستمبر کو پاکستان جیتنے کی پوزیشن میں آ گیا تھا۔ لیکن ایوب خان کو معلوم تھا کہ اگر جنگ کو مزید جاری رکھا گیا تو اس کے نتائج کیا ہوں گے۔

1965ء کی اس جنگ میں پاکستانی میڈیا اور بالخصوص گلوکاروں، موسیقاروں اور نغمہ نگاروں نے اتنی کثرت سے ترانوں کے انبار لگائے کہ ان کو سنبھالنا مشکل ہوگیا۔ پاکستان کی غالب آبادی نے پہلے کبھی جنگ نہیں دیکھی تھی۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ دونوں فریقوں کی ائر فورسز نے سویلین آبادی کو نشانہ نہ بنایا۔ اگر ایسا ہو جاتا تو شائد پاکستانی عوام جو اس جنگ میں پاک آرمی کو فاتح سمجھ رہے تھے، حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے۔ لیکن ایسا نہ ہوا۔ ایک عام پاکستانی جنگ کی نزاکتوں سے قطعاً بے خبر رہا (اب بھی تقریباً یہی صورتِ حال ہے کہ پاکستان کے عوام جنگ و جدل کی باریکیوں اور ان پروفیشنل نزاکتوں اور تکالیف سے آگاہ نہیں جو کسی طویل جنگ کے دوران پبلک کو جھیلنی پڑتی ہیں) جس رفتار سے جنگ کے جدید اسلحہ جات اور ان کے استعمالات بڑھتے جاتے ہیں، ہم پاکستانی اسی رفتار سے جنگ کے ہولناک نتائج اور نقصانات سے آگاہ نہیں ہو رہے۔ 1945ء میں جب یورپ میں دوسری جنگ عظیم ختم ہوئی تھی تو اس وقت کے یورپ کا نقشہ ذرا سامنے رکھیئے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ابھی نہ ایٹم بم استعمال ہوا تھا اور نہ میزائل کی ایجاد سامنے آئی تھی۔ عصرحاضر کی چھوٹی جنگوں کا حال ہم افغانستان، عراق، شام اور لیبیا وغیرہ میں دیکھ چکے ہیں۔ لیکن پاکستانی عوام اس صورت حال سے بھی بے خبر ہیں۔ آج سے 53 برس پہلے بھی لوگوں کا یہی حال تھا۔ ہم اس کو پاکستانی عوام کے عزم و حوصلے اور مورال کی بلندی سمجھتے تھے حالانکہ عوام تو اس جنگ میں تقریباً 99 فیصد محفوظ رہے تھے۔ ان کے حوصلے کا امتحان کہاں ہوا تھا؟ صرف افواج آپس میں لڑ رہی تھیں۔ چنانچہ جب تاشقند معاہدہ (10جنوری 1966ء) وجود میں آیا تو پاکستان کے 90 فیصد لوگوں کو افسوس ہوا کہ پاک فوج نے جو فتح میدان جنگ میں حاصل کی تھی اسے ایوب نے تاشقند میں میز پر ہار دیا۔ لال بہادر شاستری کے قدو قامت کا بونا پن اور ایوب خان کی سروقامتی کا رعب داب بھی اکثر موضوعِ سخن بنایا جاتا اور کسی خدا کے بندے کو یہ معلوم نہ ہوا کہ اگر کسی رستم زمان کے آگے ایک 8سالہ بچہ ہاتھ میں پستول لے کر کھڑا ہو جائے گا تو رستم کو ڈھیر کر دے گا……

بالکل یہی صورت حال ایوب خان کے سامنے تھی۔ سروقامت ایوب کے ہاتھ میں جو پستول تھا وہ کمزور تھا۔ جبکہ ٹھنگنے قد کے شاستری کے دونوں ہاتھوں میں پاور فل پستول تھے!…… لیکن اس حقیقت کا ادراک کون کرتا؟ نتیجہ یہ ہوا کہ بھٹو صاحب نے تاشقند کے رازوں پر سے پردہ اٹھانے کی تحریک پر اپنی سیاست کو اٹھایا،چمکایا اورنادان  عوام کے موڈ کو بھانپتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ پاکستان تو 22ستمبر 1965ء کو یہ جنگ جیت چکا تھا لیکن ایوب نے 23ستمبر کو جنگ بندی قبول کرکے جیتی ہوئی بازی ہار دی…… جبکہ صرف ایوب خان جانتے تھے کہ پاکستان اس جنگ میں شکست کے کس قدر قریب آ گیا تھا۔ اب اگر مورخین 1965ء کی جنگ کو ”تعطل“ کا نام دیتے ہیں تو ہمیں ان کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے۔

٭٭٭٭٭

اشارات

1۔ آپریشن: ملٹری آپریشن اُس جنگی معرکے کو کہا جاتا ہے جو کسی لڑائی (Battle) میں کسی ایک فریق کی جانب سے دوسرے فریق کے خلاف لانچ کیا جاتا ہے۔ جس طرح ایک جنگ (war) میں کئی لڑائیاں (Battles) ہوتی ہیں اسی طرح ایک لڑائی میں کئی آپریشنز بھی ہوتے ہیں۔ ان آپریشنوں کا دورانیہ، استعمال کی جانی والی فورسز اور مقصودات(Objectives) محدود ہوتے ہیں۔ان کو باقاعدہ ایک کوڈ نام دے دیا جاتا ہے۔ جب بھی اس محدود معرکے کا ذکر کرنا مطلوب ہو تو یہ نام بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔ مثلاً دہشت گردوں کی سرکوبی کے لئے پاکستان آرمی نے جو معرکے لڑے ان کو باقاعدہ کوڈ نام دے دیئے…… راہِ نجات، ضربِ عضب اور شیر دل وغیرہ۔ جب بھی آپریشن ضربِ عضب کا زبانی یا تحریری ذکر کیا جائے گا اس سے مراد وہ سارے ملٹری ایکشن اور معرکے ہوں گے جو 21ویں صدی کے پہلے دو عشروں میں،شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے لئے کئے گئے تھے۔ لیکن اس سے پہلے سوات میں جو اسی طرح کا آپریشن کیا گیا تھا اس کا نام راہِ نجات رکھا گیا تھا۔ ان کوڈ ناموں کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بجائے اس کے کسی معرکے کی لڑائی، اس لڑائی میں استعمال کی گئی فورسز اور ان کے دوسری تفصیلات کا حوالہ دیا جائے، صرف ایک لفظ (کوڈ نام) ہی کافی ہوگا۔ یہ کوڈ نام مختلف عسکری ایکسرسائزوں کو بھی دیئے جاتے ہیں۔ اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ یہ نام پہلے کسی بھی جنگی معرکے / ایکسرسائز وغیرہ میں استعمال نہ کیا گیا ہو۔

دوسری جنگ عظیم میں سینکڑوں آپریشنز کئے گئے اور سب کے کوڈ نام مختلف تھے۔ ان آپریشنوں کی تعداد اور تفصیل معلوم کرنے کے لئے باقاعدہ ایک کتاب شائع کی گئی ہے جس میں حروفِ تہجی کے اعتبار سے آپریشنوں کے نام اور ان کے سامنے ان کی تفاصیل دی گئی ہیں …… ایک اور بات جو نام رکھتے وقت زیرِ غور رکھی جاتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اس ملٹری ایکشن کا کوئی نہ کوئی مذہبی، ثقافتی یا روایاتی تعلق یا حوالہ اس ایکشن سے ضرور ہوتا ہے۔ مثلاً آپریشن جبرالٹر کا نام رکھتے وقت متعلقہ اربابِ اختیار نے طارق بن زیاد کے اس حملے کو مدنظر رکھا جو 712ء میں اس نے سپین پر کیا تھا۔ اور جس جگہ اس کے بحری جہازوں نے اندلسی ساحل پر لنگر اندازی کی تھی اس کا نام جبل الطارق پڑ گیا جسے انگریزی میں بگاڑ کر ”جبرالٹر“ کر دیا۔ ستمبر 1965ء کی جنگ سے پہلے اگست 1965ء میں مقبوضہ کشمیر میں جو فوجی دستے داخل کئے گئے تھے ان کی اہمیت بھی طارق بن زیادہ کے اندلسی حملے کو پیش نظر رکھ کر کی گئی تھی۔ یہی حال آپریشن”گرینڈ سلام“ کا بھی تھا۔ یہ ”گرینڈ سلام“ تاش (برج) کے کھیل میں ایک حربے کا نام ہے جس میں مخالف ٹیم کو چاروں شانے چت گرا کر بازی جیت لی جاتی ہے۔ یکم ستمبر سے 5ستمبر 1965ء تک یہ آپریشن اس لئے لانچ کیا گیا تھا کہ انڈین آرمی پر ایک ایسا ناگہانی وار کیا جائے کہ وہ بوکھلا جائے اور اس کو میدانِ جنگ میں بُری طرح شکست ہو۔

2۔آپریشن جبرالٹر: یہ آپریشن اس جنگی معرکے کا نام ہے جو ستمبر 1965ء کی پاک بھارت جنگ سے پہلے پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں لانچ کیا تھا۔ اس کی ابتداء اگست 1965ء کے پہلے ہفتے میں کی گئی تھی اور اس کی منظوری باقاعدہ طور پر پاکستانی افواج کے اس وقت کے سپریم کمانڈر جنرل ایوب خان نے دی تھی۔ جس اجلاس میں یہ منظوری دی گئی تھی وہ جولائی 1965ء کو کسی مقام پر منعقد کی گیا تھا جس میں پاکستانی فوج کے کمانڈرانچیف جنرل موسیٰ، وزیرخارجہ زیڈ اے بھٹو، سیکرٹری خارجہ اور وزارتِ دفاع کے دوسرے اعلیٰ عہدیدار شامل تھے۔

فیصلہ کیا گیا تھا کہ جنگ بندی لائن (جسے آج کل لائن آف کنٹرول) کہا جاتا ہے) کے پار پاکستان کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں ایسے ریگولردستے داخل کئے جائیں جن کا کام مقبوضہ کشمیر میں جا کر مظلوم کشمیریوں کو بھارت کے خلاف بغاوت پر آمادہ کرنا ہو۔ ان ریگولر دستوں کے ساتھ کئی رضا کار دستے بھی تھے اور ایس ایس جی کے کئی آفیسر اور جوان بھی تھے۔ یہ سب سول کپڑوں میں ملبوس تھے۔ ریگولر دستے آزاد کشمیر (AK) رجمنٹ سے لئے گئے تھے جن کو کشمیری زبان آتی تھی۔ انہوں نے آناً فاناً کشمیر میں داخل ہو کر پُل اڑانے شروع کردیئے اور بھارتی ملٹری تنصیبات کو نقصان پہنچایا۔ مشہور یہ کیا گیا کہ کشمیری، بھارت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اس فورس کو نو گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا جن کے نام صلاح الدین فورس، طارق فورس وغیرہ رکھے گئے۔ ان کی کل تعداد 4000سے 5000تک تھی۔لیکن یہ آپریشن کامیاب نہ ہوا……اس کی وجہ یہ تھی کہ جن کشمیریوں کے لئے یہ آپریشن لانچ کیا گیا تھا خود انہوں نے جا کر انڈین آرمی کے ہیڈکوارٹروں میں اطلاعات دیں کہ پاکستان سے آئے ہوئے کئی فوجی ان کے گھر میں چھپے ہوئے ہیں۔ چنانچہ ان کو گرفتار کر لیا گیا۔ انڈیا نے مزید تازہ دم فوج کشمیر میں بھیج دی جس نے ساری جنگ بندی لائن کے آس پاس کے علاقوں کی تلاشی شروع کر دی اور تقریباً سب پاکستانی سپاہیوں کو یا تو گرفتار کر لیا گیا یا وہ واپس بھاگ کر پاکستان آ گئے یا مارے گئے۔

اس کے بعد اگست 1965ء کے آخری ایام میں انڈین آرمی نے پاکستان کے اندر داخل ہو کر جوابی حملے شروع کردیئے اور ایک لمحہ وہ آ گیا جب آزادکشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کو خطرہ لاحق ہو گیا۔ اسی خطرے کو بھانپتے ہوئے ایوب خان نے آپریشن گرینڈ سلام لانچ کرنے کا حکم دے دیا۔

3۔ آپریشن گرینڈ سلام: یہ آپریشن یکم ستمبر 1965ء کو شروع کیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر کے سرحدی قصبات چھمب جوڑیاں پر قبضہ کر لیا گیا اور پاکستانی فوج اکھنور کی طرف بڑھنے لگی۔ یہ یکم اور دو ستمبر 1965ء کی شب تھی۔ اکھنور، مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کی طرف سے داخل ہونے کا واحد راستہ تھا جس پر اگر قبضہ کر لیا جاتا تو انڈین آرمی کی کشمیر میں آمد و رفت کا سلسلہ بند ہو جاتا۔ اکھنور سے جموں کا شہرچند میل کی مسافت پر تھا۔

پاکستانی فوج 2ستمبر 1965ء کو اکھنور کی طرف بڑھ رہی تھی کہ ایوب خان نے اچانک کمانڈ کی تبدیلی کے احکام جاری کردیئے۔ چنانچہ 12ڈویژن (مری) کے ڈویژنل کمانڈر میجر جنرل اختر حسین ملک کی جگہ 7ڈویژن(پشاور) کے کمانڈر میجر جنرل آغا محمد یحییٰ خان کو لایا گیا۔ کمانڈ کی اس تبدیلی میں کئی گھنٹے لگ گئے۔ بعض کتابوں میں 48گھنٹے اور بعض میں اس سے زیادہ کا وقفہ بیان کیا گیا ہے۔ اس دوران جنرل اختر ملک کے جو ٹروپس اکھنور کی طرف بڑھ رہے تھے ان کو روک دیا گیا۔ اکھنور کا قصبہ صرف 4میل دور رہ گیا تھا اور تاریخ 5ستمبر 1965ء آ گئی تھی۔

کہ

مزید :

ایڈیشن 1 -