”اے وطن کے  سجیلے جوانو“!

”اے وطن کے  سجیلے جوانو“!

  

”تم وطن کی آن ہو“

محدود وسائل کے ساتھ دشمن کو منہ توڑ جواب

یوم دفاع اورپاکستان

محمدیاسین انصاری

بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کی انتھک محنت اورکاوشوں کے باعث14 اگست1947 کوپاکستان معرض وجود میں آیا،اس وقت لاکھوں مسلمانوں نے پاک وطن کی خاطراپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ ہماری ماؤں بہنو ں اوربیٹوں کی عصمت دری ہوئی ہزاروں کی تعداد میں نوجوان لڑکیوں نے اپنی عصمتیں بچانے کی خاطرکنوؤں میں چھلانگیں لگاکراپنی زندگیوں کاخاتمہ کیا۔ اسوقت پاکستان کے پاس مضبوط دفاع کانظام نہ تھافوج بھی اتنی تربیت یافتہ نہ تھی اوروسائل کی بھی شدیدکمی تھی، اس کے باوجود پاک آرمی نے نہ صرف اپنے آپ کومضبوط کیابلکہ محددو وسائل کے باوجود دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرپاک وطن کابھرپوردفاع کیا۔بزدل ہندوستان نے6 ستمبر1965ء کواچانک رات کے وقت حملہ کرکے پاکستان خصوصاپنجاب کے اہم ترین شہروں پرقبضہ کرنے کی مذموم منصوبہ بندی کی، لیکن پاکستان آرمی کے شیروں نے اپنی جانوں پرکھیل کردشمن کوناکوں چنے چبوائے بزرگ بتاتے ہیں کہ1965ء والی جنگ کاواقعہ قابل دیدتھا۔ اس واقعہ میں نہ صرف فوج کے سپاہیوں نے اپنے سینے پربم باندھ کردشمن کے ٹینکوں کوتباہ کیا،بلکہ افسران بھی کسی سے کم نہ رہے، جس سے فوج کے جوانوں کامورال بلنداورحوصلہ بڑھا، جس کے باعث دشمن کو بُری طرح شکست ہوئی اورخودحملہ کرنیوالابزدل ہندوستان عالمی برادری کے پاس جنگ بندی کی بھیک مانگنے پرمجبورہوا۔1965ء کی جنگ میں نوجوانوں کاجذبہ دیکھ کرپوری دنیاکی غیرمسلم قوتیں پریشان ہوگئیں اورآج بھی پوری دنیااس بات کوتسلیم کررہی ہے کہ پاکستان کی فوج دنیامیں نمبرون ہے ہمارے ملک میں مفاد پرست سیاستدانوں نے فوج کوبدنام کرنے اورانہیں اقتدار سے دوررکھ کراپنی لوٹ مارکوفروغ دینے کے لئے آمریت آمریت کاراگ الاپناشروع کررکھاہے، حالانکہ جب بھی مجبوراً  فوج اقتدار میں آئی ہے۔ ملکی حالات بہترہوئے ہیں کرپشن اورلوٹ کھسوٹ میں خاطرخواہ کمی ہوئی ہے مفاد پرست سیاستدانوں کواپنی اجارہ داری کرنے کاموقع نہ ملاہے۔سابق صدرجنرل ایوب خان اورجنرل ضیاء الحق کادورپاکستان کیلئے سنہری دورتصورکیاجاتاہے جنرل پرویز مشرف کے دورمیں بھی ایک دوغلط فیصلوں کے علاوہ مجموعی طورپربہتری رہی ہے فوج جب بھی اقتدار میں آئی ہے عوام ہمیشہ خوشحال ہوئی ہے اورملک نے ترقی کی ہے فوج کے اقتدار کوسیاستدان اس لئے ناپسندیدہ قراردیتے ہیں کہ ان کی مرضی کے مطابق کام نہ ہوتے ہیں ان کی من مانیوں عیاشیوں اورلوٹ کھسوٹ کاانہیں موقع نہیں ملتا پاک آرمی کی قدروہ لوگ کرتے ہیں جوہندوستان سے مہاجربن کرآئے اورپاکستان میں مشکل حالات کامقابلہ کیاان لوگوں کے ہی لخت جگر آج بھی پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کررہے ہیں آئے روزخبریں آرہی ہیں کہ بارڈرلائن پرفلاح نوجوان شہیدہوگیافلاں آفیسر کودشمنا ن وطن نے اپناٹارگٹ کرلیاآئے روز میتیں آرہی ہیں شہیدوں کے جنازے پڑھائے جارہے ہیں اوران کے والدین اپنے بیٹوں کی شہادت پرسوگوار ہونے کی بجائے اپنے دوسرے بیٹوں پوتوں کوپاک وطن کے دفاع کی خاطر فوج میں بھجوانے کابڑی خوشی سے اعلان کرتے ہوئے نظرآتے ہیں۔ ایسے محسوس ہوتاہے کہ وہ دنیامیں ہی جنت کاٹکٹ خریدرہے ہیں جبکہ دوسری طرف دیکھاجائے تومحسوس ہوگاکہ ہمارے سیاستدانوں، جاگیرداروں اوروڈیروں کی اولادیں اے سی کمروں میں عیش وعشرت کی زندگی گزارنے میں مصروف ہیں انہیں پاکستان کی کوئی فکرنہیں ان کی پاکستا ن کے باہر بھی جائیدادیں ہیں اوروہ پاکستان کواپنی شکارگاہ سمجھتے ہیں پاکستان میں لوٹ کھسوٹ کرکے بیرون ملک بھاگنے کی ہمیشہ منصوبہ بندی میں مصروف رہتے ہیں قیام پاکستان کے وقت مسلمانوں کی قربانیاں دینے کے واقعات بارے انہیں علم ہی نہیں ہوگا۔ کیونکہ ایسے لوگوں کوتوجائیدادیں بھی انگریزوں کی وراثت سے ملی ہیں کیونکہ ایسے نام نہاد جاگیرداروں راجوں مہاراجوں کوتوجائیدادیں انگریزوں کے کتے نہلانے یاپھرمسلمانوں کی مخبریاں اورپاک وطن سے غداری کے عوض ملی ہیں۔ ایسے لوگوں کونہ توپاک فوج کی قدر ہے اورنہ ہی قیام پاکستان کے وقت قربانیاں دینے والے مسلمانوں کی زندگیوں کااحساس ہے ان لوگوں کاایک ہی مطمع نظر فوج کے خلاف بولناہے اورہمیشہ ہی فوج کوبدنام کرنے میں مصروف عمل رہتے ہیں ایسے وڈیروں سیاستدانوں جاگیرداروں کاکوئی ایک بچہ بھی پاک آرمی میں نہ ہوتاہے کیونکہ پاک فوج میں سروس کرناکوئی عام بات نہیں ہے پاک فوج کا عام فوجی ہویاکوئی بڑاافسرا سب ملک کی خاطرقربانیاں دینے کیلئے24 گھنٹے تیار رہتے ہیں ہمارے ملک میں اگرپاک فوج کے کردار کاجائزہ لیاجائے تومعلوم ہوگاکہ مشکل کی ہرگھڑی میں پاک فوج نے ہمیشہ ہراول دستے کا کردار ادا کیاہے ملک میں سیلاب ہویازلزلہ حتی کہ شدیدبارشیں، کروناوائرس،ٹڈی دل،مردم شماری جیسے تمام کام پاک فوج ہی کرتی ہے۔ پاک فوج کوگالیاں دینے والوں کوکبھی یہ احساس نہیں ہواہوگاکہ جو پاک فوج کے جوان ہماری سرحدوں کی حفاظت پرمامور شدیدگرمی سردی اوردشمن کی گولیوں کے سامنے سینہ سپر ہوکر اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ وہ ماؤں کے بیٹے ہیں ان کے بھی بیوی بچے ہیں۔ 

مزید :

ایڈیشن 1 -