حکومت فوری تعلیمی ادارے کھولے ورنہ بھرپور احتجاج ہوگا‘ عرفان انجم

  حکومت فوری تعلیمی ادارے کھولے ورنہ بھرپور احتجاج ہوگا‘ عرفان انجم

  

 بہاولپور(ڈسٹرکٹ رپورٹر)کرونا کے دوران پرائیویٹ/ نجی تعلیمی اداروں کے مالکان نے حکومت کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کیا اور اپنی بلڈنگ کو بطور قریطینہ سنٹرز بھی پیش(بقیہ نمبر17صفحہ 5پر)

 کردیں۔کرونا کے زوال پذیر ہونے کے بعد تمام اداروں دفاتر کاروباری مراکز،مارکٹیں،سیاحتی مقامات سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی کو کھول دیا گیا جبکہ تعلیمی ادارے بدستور بند رکھے گئے اور حکومت کی ناقص اور تعلیم دشمن پالیسیاں کھل کر سامنے آگئیں جن کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں ریسرچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا میں 1 سے2 فیصد بچوں میں کورڈ19 کے اثرات ہوتے ہیں اور یہ اثرات 2 سے 3 دن تک رہتے ہیں اس سے بچوں میں اموات تو بالکل واقع نہیں ہونگے بچوں کو کووڈ 19 کے اثرات ہوتے ہیں اور وہ بھی ہلکی پھلکی کھانسی اور بخار ہوتا ہے جو دو سے تین دن میں ختم ہو جاتا ہے یہ تحقیق دنیا کے 28 ٹاپ میڈیسن کے پروفیسرز/ پروفیشلز نے سائٹیفک انداز کی سٹڈی کے بعد بتایا ہے،یہ ریسرچ ہماری وزارت تعلیم کے پاس پہنچانا بہت ضروری ہے۔ان خیالات کا اظہار نیشنل ایسوسی ایشن فار ایجوکیشن (نافع)پاکستان جنوبی پنجاب کے ریجنل ڈائریکٹر عرفان انجم نے میڈیا کوآڈی نیٹر عارف حسین عاصم،مسلم سکالر سسٹم کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سفیان شاکر اور محمد حسین پرنسپل ایس ای ایس کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ان تمام حالات پر ہم 20 جولائی کو اسلام آباد میں ایک قومی تعلیمی کانفرنس کی جس میں ملک بھر سے ماہرین تعلیم،ایسوسی ایشن کے مرکزی و صوبائی قائدین،صحافی،وکلاء کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور متفقہ طور پر 15 اگست کو تمام تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ کیااور بڑی تعداد میں نجی تعلیمی ادارے 15 اگست کو کھل بھی گئے اور ان میں درس و تدریس کا عمل جاری ہوگیاحکومت کی غیر داشمندانہ پالیسیوں اور ہٹ دھرمیوں کے نتیجہ میں سینکڑوں کی تعداد میں سربراہان ادارہ گرفتار ہوئے اور کئی سکول سیل کیے گئے ان تمام کے باوجود الحمد للہ تعلیم کا سلسلہ جاری ہے۔7 ستمبر 2020 ء کو این سی او سی کا اجلاس منعقد ہو رہا ہے تو اس بارے دنیا کے مایہ ناز برطانوی ڈاکٹر کرس ونی کے مطابق بچوں میں کرونا کیسسز نہ ہونے کے برابر ہے اس لیے فی الفور چھوٹے بچوں کے تعلیمی ادارے بھی کھل جانے چاہیے اور اگر یہ ادارے نہیں کھلے تو اس کے جو نقصانات ہونگے وہ کرونا سے کہیں زیادہ خطرناک ہو نگے۔اگر حکومت نے تعلیمی ادارے نہیں کھولے تو اسلام آباد سمیت پورے ملک میں احتجاج ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ یونیسیف اور اقوام متحدہ نے گلوبل ایجوکیشن ایمرجنسی کا اعلان کر دیا ہے کیونکہ چھ سے آٹھ مہینوں سے بچوں کی تعلیم ضائع ہوچکی ہے اور بچوں کے چھ سے آٹھ مہینے ضائع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بچے دو سے تین کلاسیں پیچھے چلے جائیں گے اس لیے فوری طور پر سکولز نہ کھلے تو یہ بچے ہمیشہ کیلئے ذہنی طور پر پست رہ جائیں گے ان کا مستقبل تاریک  ہو جائیگا اس لیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام تعلیمی اداروں کو کھول دیا جائے ہم گارنٹی دیتے ہیں کہ تمام اداروں میں ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائیگا۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -