وزارت خارجہ کے 2افسران کا بیرون ملک تبادلوں میں سنگین خلاف ورزیوں کا الزام

وزارت خارجہ کے 2افسران کا بیرون ملک تبادلوں میں سنگین خلاف ورزیوں کا الزام

  

 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزارت خارجہ کے دو افسران نے اپنے محکمے میں بیرون ملک تبادلوں اور تقرری کے پلان میں 2015 کی پالیسی کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی ہے۔دو افسران کی جانب سے سیکرٹری خارجہ کے نام خطوط میں کہا گیا ہے کہ 12 افسران کا پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تبادلہ کیا گیا اور بعض افسران کو مسلسل تیسری بیرون ملک پوسٹنگ بھی دی گئی۔غیر ملکی تبادلوں کے پلان میں پالیسی کی سنگین خلاف ورزیوں اور من پسند افسران کو نوازنے سے متعدد افسران کے کرئیر پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ غیر ملکی پوسٹنگ کے اگست 2020 کے پلان کو منسوخ کر کے 2015 کی پالیسی کے تحت پوسٹنگ کے عمل کا آغاز کیا جائے۔دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے کہا ہے کہ بیرون ممالک تبادلوں میں میرٹ کی خلاف ورزی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بیرون ملک تبادلوں کی پالیسی ایک گائیڈ لائن ہے۔ تبادلے کی پالیسی کا مقصد وزارت خارجہ کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے، بیرون ملک تبادلے کوئی فرد نہیں کرتا بلکہ ایک مکینزم کے ذریعے کیے جاتے ہیں، دفتر خارجہ پابند نہیں کہ افسران کا تبادلہ ان کی ترجیح کے مقام پر کرے۔

الزام 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -