جمعیت کے مفتی فیض الحکیم کی رہائی کیلئے 24گھنٹے کی ڈیڈ لائن

    جمعیت کے مفتی فیض الحکیم کی رہائی کیلئے 24گھنٹے کی ڈیڈ لائن

  

  سخاکوٹ(نمائندہ پاکستان)جمعیت علما اسلام ملاکنڈ نے درگئی میں سی ٹی ڈی کے کاروائی کے دوران حراست میں لئے گئے جمعیت علما اسلام درگئی کے آمیر مفتی فیض الحکیم کے فوری رہائی کے لئے چوبیس گھنٹے کی ڈیڈ لائن دیدی۔عدم رہائی پر جمعیت علما اسلام احتجاج کا راستہ آپنائے گی اور سات ستمبر کو پشاور میں ہونے والے ختم نبوتﷺ کانفرنس میں بھی سی ٹی ڈی کے اس قسم کے کاروائیوں کے خلاف آواز اٹھائے گی۔مفتی فیض الحکیم کو ولد فضل کریم سکنہ درگئی ملاکنڈ تھری کو گذشتہ روزسادہ کپڑوں میں ملبوث اہلکار125CCموٹر سائیکل سمیت اٹھا کر لے گئے ہیں۔ڈیڈلائن اور احتجاج کا اعلان جمعیت علما اسلام ملاکنڈ کے ضلعی آمیر مفتی کفایت اللہ، سینئر نائب آمیر مولانا فضل اللہ شاہ، نائب آمیر مولانا معراج الحق، ڈپٹی جنرل سیکرٹری مولانا ناصر خان، تحصیل آمیر مولانا حنیف الرحمان اور انعام خان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ضلعی آمیرمفتی کفایت اللہ نے کہا کہ گذشتہ شب سی ٹی ڈی کے اہلکارجو کہ سادہ کپڑوں میں تھے جے یو آئی درگئی کے آمیر مفتی فیض الحکیم کو اٹھاکر لے گئے ہیں اور ضلعی و تحصیل انتظامیہ کو بھی اطلاع نہیں دی گئی ہے حالانکہ ملک کے معتبر اداروں کی جانب سے مفتی فیض الحکیم کلیئر ہے جس پر کسی قسم کا مقدمہ درج نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی کے اہلکاروں کی اس طرح کے کاروائیوں سے لوگ ذہنی طور پر کوفت میں مبتلا ہیں کیونکہ سادہ کپڑوں میں کاروائی کرنے سے سرکاری اہلکاروں اور چوروں کے درمیان تمیز کرنا مشکل ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کی کاروائیاں آئین پاکستان اور شریف شہریوں کو اس طرح اٹھاکر لے جانا بنیادی انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے جس پر ہمیں تشویش اور آفسوس ہے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر ملاکنڈ ریحان گل خٹک، کمشنر ملاکنڈ ڈویژن، حکومت اور پشاور ہائی کورٹ سے ان کاروائیوں کے خلاف نوٹس لینے اور مفتی فیض الحکیم کے فی الفور رہائی کا مطالبہ کیا۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -