لاہور سمیت شیخوپورہ اور ننکانہ صاحب میں لیبر لاز کی خلاف ورزی پر چھاپوں کے دوران 2519فیکٹریوں اور کارخانوں سمیت ورکشاپوں اور ہوٹلوں کے چالان

لاہور سمیت شیخوپورہ اور ننکانہ صاحب میں لیبر لاز کی خلاف ورزی پر چھاپوں کے ...
لاہور سمیت شیخوپورہ اور ننکانہ صاحب میں لیبر لاز کی خلاف ورزی پر چھاپوں کے دوران 2519فیکٹریوں اور کارخانوں سمیت ورکشاپوں اور ہوٹلوں کے چالان

  

لاہور (خبر نگار) محکمہ لیبر کی ٹیموں نے لاہور سمیت شیخوپورہ اور ننکانہ میں کم سے کم اجرت ،ویجز کی عدم ادائیگی سمیت دیگر لیبر لاز کی خلاف ورزی پر چھاپوں کے دوران 2519فیکٹریوں اور کارخانوں سمیت ورکشاپوں اور ہوٹلوں کے چالان کر دیے ہیں ۔ ڈاریکٹر لیبر ساؤتھ ریجن لاہور ضیغم عباس مظہر نے مزدور کو کم از کم اجرت ، ویجز کی عدم ادائیگی ، کم عمر بچوں سے مزدوری اور دیگر لیبر لاز کی خلاف ورزی کے حوالے سے جاری تین روزہ مہم کے دوران 1034 فیکٹریوں کارخانوں ، ورکشاپوں ،ہوٹلوں ،ریسٹورنٹس پرائیوٹ دفاتر اور بینکوں کے چالان کیے ہیں جبکہ ڈائریکٹر لیبر نارتھ ریجن ارشد محمود تارڑنے 1485فیکٹریوں اور کارخانوں کے چالان کیے ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر محنت انصر مجید نیازی کی ہدایت پر سیکرٹری لیبر محمد عامر جان اور ڈی جی لیبر پنجاب فیصل نثار چوھدری کی نگرانی میں لیبر لاز کی خلاف ورزی کے خلاف تین روزہ جاری مہم میں ڈائریکٹر لیبر لاہور ساؤتھ ریجن صیغم عباس مظہر نے اپنی ٹیم کے ہمراہ مختلف فیکٹریوں ،کارخانوں ،ورکشاپوں ، ہوٹلوں ،ریسٹورنٹس اور انٹرنیشنل اور ملٹی نیشنل برانڈز، فوڈ چینز، کارپوریشنز کے دفاتر، غیر ملکی برانڈز، سٹورز، بینکوں وغیرہ شامل تھے ۔ ان اداراجات میں مزدور کی کم از کم اجرت کی ادائیگی، محکمہ لیبر کے قانون کے مطابق مقرر کردہ اوقات کار کو یقینی بنانے کے لیے5548 اداروں کی اچانک انسپکشن کی ہے  اور ان چھاپوں کے دوران مزدور کی کم از کم اجرت ، اوور ٹائمز اور دیگر مراعات کی عدم ادائیگی سمیت لیبر لاز کی خلاف ورزی پر بلا امتیاز کارروائی کی ہےاور اس میں ورکشاہوں ۔ کارخانوں سمیت ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں سمیت دیگر مختلف اداروں میں 1034مقامات پر لیبر لاز کی خلاف ورزی پائی گئی ہے جس پر ان اداروں مختلف جرم اور محکمہ لیبر کے قانون کے تحت کئے گئے ہیں اور یہ چالان متعلقہ عدالتوں میں بھجوائے دیئے گئے ہیں ۔

ڈائیریکٹر لیبر ساؤتھ ریجن صیغم عباس مظہر نے اس حوالے سے گزشتہ روز صحافیوں کو بتایا کہ سیکریڑی لیبر پنجاب محمد عامر جان اور ڈی جی لیبر پنجاب فیصل نثار چوہدری کی نگرانی میں لاہور ، شیخوپورہ ، قصور ننکانہ صاحب پنجاب بھر میں فیکٹریوں ، کارخانوں ، ورکشاپوں اور ہوٹلوں اور ریستورانوں دیگر پرائیوٹ بینکوں اور اداروں میں مزدور کی کم از کم اجرت اوقات کار کی پابندی کو یقینی بنانے کے لیے تین روزہ مہم چلائی گئی ہے ۔ جس میں ان کی قیادت میں محکمہ لیبر ساؤتھ ریجن اور نارتھ ریجن کی ٹیموں نے لاہور میں اپنے اپنے علاقوں میں الگ الگ انسپکشن کی ہے اور اس میں ان کی قیادت میں محکمہ لیبر ساؤتھ ریجن کی ٹیموں نے مزدور کی کم سے کم اجرت ۔ کم عمر بچوں سے اجرت لینے سمیت اوقاتِ کار کی خلاف ورزی اور ویجز کی عدم ادائیگی پر بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا ہے اور یہ انسپکشن کا سلسلہ مختلف دنوں میں جاری رہے گا ۔

صیغم عباس مظہر نے بتایا کہ ان کی قیادت میں خصوصی طور پر تشکیل دی گئی ٹیموں نے پوش ایریا میں واقع اداروں کی چیکنگ کی گئی ۔ جن میں ایم ایم عالم روڈ، گلبرگ، ڈیفینس، ایمپوریم مال، فیروز پور روڈ وحدت روڈ،گارڈن ٹاؤن،مال روڈ،پیکیجز مال، مسلم ٹاؤن سمیت مختلف علاقوں میں واقع اداراجات اور ہوٹلوں پر چھاپے مارے گئے ہیں ۔ جس میں 296 سے زیادہ اداروں اور کارخانوں سمیت ہوٹلوں ، برانڈز، پیٹرول پمپ مالکان کے خلاف کم از کم اجرت کی ادائیگیوں اور دیگر مراعات کا جائزہ لینے کے لیے انسپکشن کی ہیں اور تین روزہ خصوصی مہم کے دوران 1034 مقامات پر لیبر لاز کی خلاف ورزی پائی گئی ہے اور اس سلسلہ میں 1034 چالان کئے گئے ۔

اسی طرح ڈائیریکٹر لیبر نارتھ ریجن ارشد محمود تارڑکی نگرانی میں پانچ ٹیموں نے شاہدرہ ،فیروزوالا،شیخوپورہ اور ننکانہ میں چھاپوں کے دوران ننکانہ میں 4590فیکٹریوں اور کارخانوں سمیت ہوٹلوں اور بھٹہ جات کی انسپیکشن کی جس میں 1485فیکٹریوں اور کارخانوں میں لیبر لاز کی خلاف ورزی پائی گئی ۔ سیکرٹری لیبر محمد عامر جان اور ڈی جی لیبر پنجاب فیصل نثار چوہدری نے روزنامہ پاکستان کو بتایا کہ صوبائی وزیر انصر مجیدخان کی ہدایات پر لاہور سمیت پورے پنجاب میں کم از کم اجرت کی ادائیگیوں میں خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پرتین روزہ مہم چلائی گئی ہے ۔ جس میں مزدور کو کم سے کم اجرت17500نہ دینے والے فیکٹری مالکان اور کارخانہ اداروں کے خلاف کاروائی کی جا رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اوقات کار آٹھ گھنٹے پر بھی سختی سے عمل درآمد کروانے کے لیے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اور اس میں خلاف ورزی پر پہلے مرحلہ میں چالان کیے جارہے ہیں ۔ جبکہ دوسرے مرحلہ میں مقدمات درج کروائے جائیں گے اور آخری مرحلہ میں فیکٹری اور کارخانہ سمیت ہوٹلوں اور بھٹہ جات کو سیل کیا جائے گا ۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -