مصطفی آباد میں شہدا کی یادگاریں ضلعی انتظامیہ کی توجہ کی طلب گار

مصطفی آباد میں شہدا کی یادگاریں ضلعی انتظامیہ کی توجہ کی طلب گار

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 محمد طاہر میو

مصطفی آباد پاکستان کا واحد مقام ہے جہاں پر جنگ ستمبر میں شہید ہونے والے 55شہدا کی آخری آرام گاہیں موجود ہیں، دفاع وطن کی خاطر جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے یہ شہدا ہمارے ماتھے کا جومر ہیں، اتنی بڑی تعداد میں ایک ہی جگہ دفن شہدا کو ضلعی انتظامیہ کی طرف سے کبھی بھی اہمیت نہیں دی گئی، ضلعی انتظامیہ ہر سال چھ ستمبر والے دن ان شہدا کی یادگاروں پر پھولوں کی چادرچڑھا کر فوٹو سیشن کرواتی ہے اور پھر بھول جاتی ہے، متعدد بار تو ایسا بھی ہو چکا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کا کوئی نمائندہ شرکت کرنا بھی گوارہ نہیں کرتا، ان شہدا کو خراج تحسین پیش کرنے والا پروگرام بھی ہمیشہ سیاست کی نظر ہوتا ہوا ہی نظر آیا ہے، سٹیج پر چند سیاست دان اور ضلعی انتظامیہ کے نمائندگان براجمان نظر آتے ہیں جبکہ ان شہدا کے ورثہ کو ہمیشہ ہی نظر انداز کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے شہدا کی آرام گاہوں پر دعا مانگنے کیلئے آئے ورثہ مایوس ہوکر واپس لوٹ جاتے ہیں، ان شہدا کی یادگاروں پر دعا مانگنے کیلئے آنے والے ورثہ کی تعداد میں دن بدن کمی آ رہی ہے، جتنا بڑا یہ اہلیان مصطفی آباد کا اعزاز ہے اس کا تصور کرنا بھی نا ممکن ہے، ان شہدا کی یادگاریں خستہ ہالی کا شکار ہیں، کھیم کرن کے محاذ پر جرات و بہادری کا مظاہرہ کرنے والے وہ شہدا جن کی یادگاریں اور آخری آرام گاہیں مصطفی آباد میں ہیں ان میں بریگیڈئیر احسن رشید شامی کا نام نمایاں ہے، بریگیڈئیر احسن رشید شامی شہید ہلال جرات کی یاد گار شامی مینار بھی مصطفی آباد میں بنایا گیا ہے، جنہوں نے جہاد کشمیرمیں بھی نمایاں کردار ادا کیا تھا، پانڈوکی پہاڑی کو بھی سر کیا، جس کے اعتراف و ستائش میں آپ کو تمغہ دفاع سے نوازا گیا تھا
1955 سے 1958 تک قائرہ کے پاکستانی سفارتحانے میں فوجی اتاشی رہے، 25 دسمبر 1960 کو بریگیڈئیر کے عہدے پر فائز ہوئے، 6 ستمبر 1965 کو جب بھارت نے پاکستان پر عیارانہ حملہ کیا تو آپ کو کھیم کرن سیکٹر میں دفاع وطن کے دفاع کی ذمہ داری سونپی گئی، آپ نے اپنی مخصوص سرفروشانہ ہمت، مثالی جرات اور بلند کردار عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کے ٹڈی دل فوج کو اپنے قلیل سرفروش ساتھیوں کی مجاہدانہ سرگرمیوں کی مدد سے شکست فاش دی اور کھیم کرن کے محاذ پرقبضہ کر لیا۔
10ستمبر کی صبح فرض کی ادائیگی اور شوق شہادت میں سرشار دشمن کے علاقے میں اسکی فوجوں کے قلب میں پہنچ گئے اور دشمن کی گولی لگنے سے شہادت پائی، شکست کھا کر بھاگتا ہوا دشمن آپ کا جسد خاکی بھی اٹھا کر ساتھ لے گیا، جسے انڈیا میں اس کی بہادری و جرات مندی کی وجہ سے پورے فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا، جنگ بندی کے بعد 23فروری 1966کواس قابل فخر اور نا قابل تسخیر شہید کا جسم مبارک کو بھارت سے لاہور لایا گیا اور پورے فوجی اعزاز کے ساتھ قبرستان شہیدان میں دفن کیا گیا،ان کی یاد گار شامی مینار مصطفی آباد میں بنائی گئی،شامی مینار کی حالت انتہائی خستہ ہو چکی ہے جو کسی بھی وقت کسی بڑے حادثہ کا سبب بن سکتی ہے،
 ان شہدا میں دوسرا بڑا نام لیفٹننٹ ندیم احمد خان شہیدکاہے جس نے 10ستمبر کو کھیم کرن کے محاذ پر مادر وطن کی حفاظت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا، لیفٹننٹ ندیم احمد خان شہید کے نام پر مصطفی آباد مین بازار کے سامنے مصطفی آباد کے واحد پارک ندیم شہید پارک بنائی گئی تھی، جس سے مصطفی آباد کی عوام عرصہ داراز تک مستفید ہوتی رہی، لیکن گزشتہ چند سال قبل اس پارک کو بھی ختم کرکے وہاں مارکیٹ بنا دی گئی ہے، اس شہید کے نام پر بننے والا ندیم پارک اب دوبارہ آباد ہوتا ہوا نظر نہیں آتا، اس پارک کو تو ختم کر دیا گیا ہے لیکن اس کے متبادل ندیم شہید کے نام پر نہ تو کوئی پارک بنائی گئی ہے اور نہ ہی کسی اور جگہ کو اس شہید کے نام سے منصوب کیا گیا ہے،
دوران جنگ شہادت کا رتبہ پانے والے وہ شہدا جن کی آخری آرام گاہیں مصطفی آباد میں بنائی گئی تھی ان میں میجرسلطان اسد جان،صوبیدار میجر شیر اسلم،صوبیدار محمد حسین، نائب صوبیدار معین شاہ،نائب صوبیدارسرور خان، نائیک علی اصغر،نائیک گل مرجان،نائیک لباس خان،نائیک محبوب خان،نائیک محمد محبوب،نائیک نواب خان،نائیک محمد رازاق، لانس نائیک محمد خان، لانس نائیک گل آزاد، لانس نائیک عبدالقیوم، لانس نائیک میراں بخش، نائب رسالدار محمد افضل خان، نائب رسالدار احمد خان، نائب رسالدار محمد یوسف، نائب رسالدار حوالدار مہر خان،نائب رسالدارحوالدار میجر محمد سرور، وی ایم تاج الحق،کرافٹ مین محمد حنیف،حوالدار ناظم علی،حوالدار محمد اقبال، سپاہیوں میں بوستان، میاں نعیم انور، محمد اکرم، سوار داد خان، علی بخش،نور محمد، دوست محمد، گلزار حسین، عدالت خان،محمد بنارس خان، قمر دین ڈرائیور، محمد شریف،محمد عالم،رحیم شاہ، دولت محمد، منظور الہی،انجر گل، محمد اسلم،دلاور حسین،عبدالرحمان، محمد افضل کواٹر ماسٹر، مبارک شاہ، مہری خان، مہندی خان، اجمل خان،محمد ریاض، رضا دین، محمد مسکین، گل خستہ، محمد آزاد، رضا حسین،محمد ریاض شامل تھے، جنہوں نے دفاع کے فرائض ادا کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔
٭ میجرزسلطان اسد جان،کمپنی کمانڈ کرتے ہوئے دشمن کے حملے کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہوئے، صوبیدار میجر شیر اسلم 12 ستمبر کو ایمونیشن کی سپلائی کے دوران دشمن کے ٹینک کا گولہ لگنے سے شہید ہوئے،سپاہی گل مرجان نے میجر خادم شہید (ستارہ جرات(کے ہمراہ دشمن کے ٹینکوں کو تباہ کرتے ہوئے شہادت پائی،سپاہی دوست محمد 12 ستمبر کو دن 11 بجے شہید ہوئے ان کی شہادت کی بعد بھی ان کی گن سے متواتر فائرنگ جاری رہی۔
٭مجاہدفورس للیانی کے جوانوں نے بھی فوج کے شابشانہ ساتھ دیا، انہیں اسلحہ کی سپلائی، کھانا او ر مرہم پٹی جیسے فرائض ادا کئے،
 ٭محاذ جنگ سے واپس آنے والے سپاہیوں کو اپنے آپ پر فخر تھا کہ ملک و ملت نے انکا جو مقصد مقرر کیا تھا وہ اس میں آج سرخرو ہوئے ہیں، انہوں نے اپنا خون دیکر وطن عزیز کے ناموس اور آزادی کو بچالیا۔
٭ہمارے کل پر اپنا آج قربان کرنے والوں کی یاد گاریں اور آخری آرام گاہیں سیاسی قائدین و انتظامیہ کی بے حسی کا منہ چڑا رہی ہیں،خستہ حال قبرستان گنج شہدا کو مصطفی آباد کے چند نوجوانوں اور بزرگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت از سر نو تعمیر کا کام شروع کیا گیا جو نا معلوم وجوحات کی بنا پر مکمل نہ ہو سکا، اپنی مدد آپ کے تحت شہدا کی آرام گاہوں کو اونچھا کرکے چار دیواری مکمل کر دی گئی، جبکہ ان پر سائے اور قبرستان میں پتھر لگانے کا منصوبہ پایا تکمیل تک نہ پہنچ سکا،
اخبارات میں خبروں کی اشاعت اور چھ ستمبر کی تقریب میں یادگار شہدا کی خستہ حالی کا رونا رونے پرآنے والی انتظامیہ اور معززین علاقہ کی طرف سے ہر سال وعدے اور دعوے تو کئے جاتے ہیں لیکن حقیقت میں کچھ ہوتا ہوا نظر نہیں آتا،
 کھیم کرن کے محاذ پر اپنی جرات و بہادری کی مثال قائم کرتے ہوئے انہوں نے ہمارے کل کیلئے اپنا آج قربان کر دیا تھا جن کے جسد خاکی کو امانتََ مصطفی آباد میں دفن کیا گیا تھا جب شہدا کے ورثہ ان کے جسد خاکی اپنے اپنے علاقوں کو لیجانے کیلئے آئے تو معززین علاقہ نے اسرار کیا کہ ہم ان شہدا کی آخری آرام گاہوں کی حفاظت کریں گے،لیکن لگتا ہے کہ اہلیان مصطفی آباد کی آنے والی نسل اس وعدے کو بھول چکی ہے، جب بزرگ موجود تھے تو شایان شان طریقے سے ان شہدا کو خراج تحسین بھی پیش کیا جاتا تھا اور ان کی یادگاروں اور آرم گاہوں کامکمل خیال بھی کیا جاتا تھا،
یاد گار شہدا پر ہر سال ضلعی انتظامیہ پھولوں کی چادر چڑھاکر فوٹو سیشن کروانے کے بعد بھول جاتی ہے، ان شہدا کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ہر سال 6ستمبر کو فوج کے دستے ا ن شہدا کو سلامی پیش کرتے ہیں، میونسپل کمیٹی مصطفی آباد کی طرف سے بچوں کے تقریری مقابلہ جات منعقد ہوتے ہیں اورکبڈی میچ کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے،
چھ ستمبر والے دن محاذ جنگ گرم تھا کہ صدر مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کی آواز ریڈیو پر گونجی ”میری عزیز ہموطنو، السلام و علیکم، پاکستان کے دس کروڑ مسلمانوں کے دل کی دھڑکنوں میں کلمہ طیبہ کے صدائیں گونج رہی ہیں بھارتی حکمرانوں کو ابھی تک یہ محسوس نہیں ہوا کہ انہوں نے کس قوم کی غیرت کو للکار ہ ہے، جس کے بعد پوری پاکستانی قوم پاک فوج کی معاون و مددگار ثابت ہوئی اور جنگ ستمبر 1965 فوج کے ساتھ ساتھ پاکستانی قوم نے بھی لڑی، آج بھی پاکستانی قوم کو کسی ایسی ہی آواز کی ضرورت ہے جس آواز پر پوری قوم کھڑی ہو اور ہر محاذ پر ایک جسم اور ایک جان نظر آئے، اور ہمارے مستقبل کو محفوظ بنانے والے شہدا کی یادگاروں کو محفوظ بنانے کی ہمیت پیدا ہو، اس وقت ضرورت ہے کہ جنگ ستمبر 1965کے 55شہدا پر سیاست نہ کی جائے، ان شہدا کو ان کے شایان شان طریقے سے نذرانہ عقیدت پیش کیا جائے، ان شہدا کو سلام عقیدت پیش کرنے کیلئے حلقہ کے سیاست دان سٹیج پر بیٹھنے یا نہ بیٹھنے کی وجہ سے منہ نہ موڑیں، مصطفی آباد کے معززین علاقہ جو کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں انہیں بھی اپنا حصہ ڈالنے کی ضرورت ہے، بصورت دیگر ان شہدا کے ورثہ کل قیامت کے دن آپ کے گریبانوں پر ہاتھ ضرور ڈالیں گے کہ ہم سے کیا گیا وعدہ وفا کیوں نہ کیا گیا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -