عمران خان اپنے الفاظ واپس لیں 

عمران خان اپنے الفاظ واپس لیں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


تحریک انصاف کے چیئرمین جناب عمران خان اپنے ہر جلسے میں کوئی ایسی بات کہہ جاتے ہیں جو خبروں کا موضوع بن جاتی ہے۔ بہاولپور کے جلسے میں انہوں نے کہا تھا اگر انہیں تکنیکی طور پر راستے سے ہٹانے کی کوشش کی گئی تو وہ کارنر ٹائیگر بن کر زیادہ خطرناک ہو جائیں گے۔ اب فیصل آباد کے جلسے میں انہوں نے ایک ایسی بات کی ہے جس کی کسی بھی طور تائید نہیں کی جا سکتی، حساس قومی معاملے پر اس طرح بھرے جلسے میں اظہار خیال ملک کے سب سے باوقار قومی ادارے کے بارے میں منفی تاثر کو جنم دے سکتا ہے۔ عمران خان نے کہا ہے کہ نوازشریف اور آصف علی زرداری نومبر میں اپنی پسند کا آرمی چیف لانا چاہتے ہیں تاکہ اپنی کرپشن کو تحفظ دے سکیں، انہیں خوف ہے کہ کوئی تگڑا آرمی چیف آ گیا تو یہ اپنی من مرضی نہیں کر سکیں گے اس لئے ملک کو ایک محب وطن اور غیر جانبدار آرمی چیف کی ضرورت ہے، ایک ہی سانس میں کئی  ایسی باتیں کر دی گئی  ہیں جو کسی بھی باشعور پاکستانی کو ہضم نہیں ہو سکتیں، ان باتوں کا بیرون ملک کیا تاثر گیا ہے؟ عمران خان کو شاید اس کی بھی کوئی پروا نہیں ان کی اس بات کا مطلب تو یہ نکلتا ہے کہ پاکستان میں آرمی چیف کرپشن کو روکتا ہے اور کرپٹ لوگوں کو پکڑتا ہے، دنیا میں کہاں آرمی چیف کا یہ کردار ہوتا ہے اور پاکستان میں کب سے چیف آف آرمی سٹاف نے یہ کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے؟ پاکستانی فوج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے جس کا مثالی نظم و ضبط ہے اور جس نے پاکستان میں قیام امن اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اِن گنت قربانیاں دی ہیں،  عمران خان کی اس بات سے یہ تاثر جنم لے گا کہ فوج کا سپہ سالار ملک میں ہر اچھے بُرے عمل کا بھی ذمہ دار ہوتا ہے۔
نومبر میں آرمی چیف کون آتا ہے اس بارے میں فی الوقت قیاس آرائیوں کی ضرورت ہی نہیں  فوج کے ہر جرنیل میں بنیادی خوبیاں ایک جیسی ہوتی ہیں، وہ پروفیشنل ہوتا ہے، حُب الوطنی اس کے وجود کا حصہ ہوتی ہے، اس کی قیادت میں فوج ایک منظم ادارے کے طور پر کام کرے یہ اس کی ترجیح ہوتی ہے۔ فوج کے سینئر جرنیلوں میں حب الوطنی کے حوالے سے کوئی تقسیم کی ہی نہیں جا سکتی، فوج کے سربراہ کا تقرر ایسا نہیں کہ دو سیاستدان مل کر فیصلہ کریں اور وہ نافذ ہو جائے۔ آرمی چیف کے تقرر کو کسی بیورو کریٹ کے تقرر کی طرح کا معاملہ نہیں سمجھنا چاہیے، اس میں فوج کا اپنا میکانزم بھی کردار ادا کرتا ہے اور دستور کے تحت مجاز اتھارٹی اس بارے میں فیصلہ کن حکم صادر کرتی ہے۔ بعض سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ عمران خان جلد انتخابات کا انعقاد اس لئے بھی چاہتے ہیں کہ نئے آرمی چیف کی تقرری سے پہلے انتقال اقتدار ہو جائے لیکن موجودہ حالات میں ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا، بہتر تو یہی ہوگا کہ سیاستدان فوجی تقرریوں کو درمیان میں نہ ہی لائیں اور اپنے معاملات خود حل کریں۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ اپنے دورِ حکومت میں عمران خان نے آئی ایس آئی چیف کی تقرری کے معاملے میں ایسا طرز عمل اختیار کیا تھا، جس کا نتیجہ منفی برآمد ہوا، آرمی چیف کی طرف سے بھیجے گئے ناموں کو دبا کر بیٹھ گئے اور تبدیلی کے لئے زور ڈالتے رہے لیکن بات نہ بنی تو انہیں بادل نخواستہ ساتھ دینا پڑا۔ وہ آج تک اس حوالے سے وضاحتیں دیتے ہیں کہ انہوں نے صرف افغانستان کی صورت حال کے باعث آئی ایس آئی کے چیف کی تبدیلی کو روکا تھا؟ نوازشریف اور آصف علی زرداری کا اس ضمن میں نام لینا ایک نامناسب بات ہے،  یوں لگتا ہے جیسے حد درجہ اضطراب کے عالم میں عمران خان ہر وہ چال چل رہے ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کو کوئی کردار ادا کرنے پر مجبور کر دے، وہ ایک سے زائد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ موجودہ حکمرانوں کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ ہے، وہ اس حقیقت کو ماننے پر تیار نہیں کہ انہیں ایک آئینی و جمہوری عمل کے ذریعے تحریکِ عدم اعتماد پیش کرکے اقتدار سے الگ کیا گیا وہ اپنی حکومت کی  ناقص کارکردگی کو بھی تسلیم نہیں کرتے اور ہر جلسے میں یہ دعوے کرتے ہیں کہ ان کے دور میں معیشت ترقی کر رہی تھی اور ملک میں خوشحالی کا دور دورہ تھا حالانکہ آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ ان کے ان دعوؤں کی نفی کر چکی ہے۔ خیر یہ دعوے کرنا ان کا حق ہے اور سیاست میں یہ سب چلتا ہے، لیکن وہ اس دائرے تک محدود رہنے کی بجائے حساس معاملات پر جب عدم احتیاط کے ساتھ بولتے ہیں تو سنجیدہ حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے ان کے حالیہ بیان کو اسی تناظر میں دیکھا گیا ہے،  کیا ان کا یہ کہنا بے احتیاطی کی انتہا نہیں کہ آرمی چیف ایسا ہونا چاہیے جو محبِ وطن ہو،  پاکستان کے کسی جرنیل تو کیا عام سپاہی کے بارے میں بھی یہ جسارت نہیں کی جا سکتی کہ اس کی حب الوطنی کو موصوع بنایا جائے۔ عمران خان سابق وزیراعظم اور ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں، وہ کچھ ہی عرصہ پہلے وزیراعظم کا منصب سنبھالے ہوئے تھے، مستقبل میں بھی انہیں یہ ذمہ داری سنبھالنے کا موقع مل سکتا ہے۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد ان کی طرف رہنمائی کے لئے دیکھتی ہے، انہیں بہت سوچ سمجھ کر الفاظ کا چناؤ کرنا چاہیے اور کوئی ایسا لفظ منہ سے نہیں نکالنا چاہیے جس سے انتشار و افتراق پیدا ہو یا اسے ہمارے اداروں میں  عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا جاسکے،اپنے راستے میں ایسے گڑھے نہیں کھودنے چاہئیں جس میں خود انہی کو گرنا پڑے۔مناسب ہوگا کہ وہ اپنے الفاظ کی فوری وضاحت کریں یا پھر انہیں واپس لے لیں تاکہ ایک بڑے خلفشار کا راستہ بند کیا جا سکے۔

مزید :

رائے -اداریہ -