ملتان کا سیاسی دنگل

  ملتان کا سیاسی دنگل
  ملتان کا سیاسی دنگل

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 ملکی سیاست سے بے نیاز ملتان کے دو مخدوم گیارہ ستمبر کا شدت سے انتظار کررہے ہیں، سیلاب زدگان کی فکر نہ ہونے کا بار بار ذکر ہوا تو سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی ڈیرہ غازی خان کا چکر لگا آئے، اس چکر کا سیلاب زدگان کو کیا فائدہ ہوا کسی کو کچھ معلوم نہیں کیونکہ بقول شخصے گیلانی صاحب خالی ہاتھ گئے تھے اور دلاسے تسلیاں دے کر واپس آ گئے۔ ادھر شاہ محمود قریشی نے تو قسم کھا رکھی ہے کہ کسی سیلابی علاقے کا دورہ نہیں کرنا، دونوں اپنی اولاد کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں اور ملتان چھوڑ کے جانا انہیں ڈراؤنا خواب لگتا ہے،شاہ محمود قریشی اپنی بیٹی مہربانو قریشی اور یوسف رضا گیلانی اپنے بیٹے علی موسیٰ گیلانی کے لئے پورا زور لگا رہے ہیں۔ عوام کو اس نشست این اے 157کے نتیجے سے کیا ملے گا کچھ بھی نہیں، مہربانو قریشی جیت گئیں تو شاید حلف اٹھانے کے بعد استعفا دے دیں کیونکہ تحریک انصاف کی پالیسی تو یہی ہے اگر علی موسیٰ گیلانی جیت گئے تو ملتان کے لوگوں کو ترقیاتی فنڈز پھر بھی نہیں ملیں گے، نہ ان کے مسائل حل ہوں گے کیونکہ پنجاب میں حکومت تحریک انصاف کی ہے، یہ انتخابی معرکہ بس ملتان کے دو روائتی خاندانوں کی ایک سیاسی جنگ ہے جس میں وہ عوام کو خوامخواہ جذباتی کرکے استعمال کررہے ہیں۔


اب دونوں کے درمیان الزامات کا سلسلہ کارنر میٹنگوں سے نکل کر اخباری اشتہارات تک پہنچ گیا ہیچند روز پہلے گیلانی خاندان کی طرف سے آدھے صفحہ کا اشتہار چھپا جس میں شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی ایک خادم کی چھتری تلے کھڑے تھے جبکہ دوسری طرف علی موسیٰ گیلانی کی تصویر تھی، جس میں وہ لوگوں کے درمیان زمین پر بیٹھے ان کا حال پوچھ رہے تھے اس کا جواب قریشی خاندان نے بھی آدھے صفحہ کے اشتہار سے دیا جس میں الزام لگایا کہ سیلاب متاثرین کے لئے ترک خاتون اول کا ہار یوسف رضا گیلانی نے چوری کیا، حج کرپشن سکینڈل میں ملوث رہے، علی موسیٰ گیلانی ایفی ڈرین کیس اور اربوں کی کرپشن کے ملزم تھے، ان دونوں نے ہارس ٹریڈنگ اور اختیارات کا ناجائز استعمال بھی کیا، یوں لاکھوں روپے کے اشتہارات دے کر یہ دونوں مخدومین ایک دوسرے کا کچا چٹھہ تو کھول رہے ہیں مگر انہیں یہ توفیق نہیں ہو رہی کہ چند لاکھ روپے کا امدادی سامان ہی سیلاب زدگان کو بھجوا دیں۔ علی موسیٰ گیلانی نے 2018ء کے انتخابات میں اس حلقے سے ستر ہزار ووٹ لئے تھے، جبکہ ان کے مقابل زین قریشی 76ہزار ووٹ لے کر جیت گئے تھے، اب گیلانی خاندان کو یقین ہے کہ ان کا یہ ووٹ بینک نہ صرف موجود ہے بلکہ اس میں مسلم لیگ (ن) کا ووٹ بھی شامل ہو گیا ہے، اس لئے وہ بآسانی اس حلقے سے جیت جائیں گے۔ علی موسیٰ گیلانی کی ذاتی شخصیت بھی اس میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، کیونکہ ان کا انداز عوامی ہے اور وہ جس جگہ پہنچتے ہیں لوگوں میں دھماچوکڑی جما کے بیٹھ جاتے ہیں کوئی مزدور کھانا کھا رہا ہو تو اس کے ساتھ بیٹھ کر گپ شپ کرتے ہیں اور دو روٹیاں اپنی طرف سے بھی منگوا لیتے ہیں، ان کے اس طرزِ سیاست کا توڑ قریشی خاندان کے پاس نہیں ہے، کیونکہ وہاں غلامی زیادہ ہے اور عوامی ٹچ کم ہے۔


تاہم ایک معاملہ ایسا ہے جس نے مہربانو قریشی کو علی موسیٰ گیلانی پر برتری دلا دی ہے وہ ان کا خواتین کو متحرک کرنا ہے۔ قریشی خاندان نے حکمتِ عملی یہ بنائی کہ مہربانو قریشی صرف خواتین میں انتخابی مہم چلائیں گی اور مردوں کو شاہ محمود قریشی اور زین قریشی متحرک کریں گے  اس پر بڑی مہارت سے عمل ہو رہا ہے اور مہربانو قریشی اب تک خواتین کے درجنوں اجتماعات سے خطاب کر چکی ہیں بلاشبہ ہزاروں خواتین تک پہنچی ہیں اگر پولنگ کے دن خواتین کا یہ ووٹ بھی مہربانو قریشی کو مل جاتا ہے تو پھر ان کی جیت یقینی ہے، کیونکہ خواتین کا اس حلقے میں ووٹ ڈیڑھ لاکھ سے زائد ہے ایک اور بات جس کا قریشی خاندان کو بڑا سہارا ہے وہ عمران خان کا بیانیہ ہے، مہربانو قریشی جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں رہا خواتین کے جلسوں میں تقریر کرتے ہوئے یہی کہتی ہیں کہ ہمیں پاکستان بچانے کے لئے عمران خان کا ساتھ دینا ہے۔ شاہ محمود قریشی بھی مسلسل اسی بیانیے کو لے کر چل رہے ہیں اور عمران خان ملتان میں جلسے کے لئے بھی آ رہے ہیں اس لئے اس مہم میں نئی جان پڑ سکتی ہے۔ گیلانی خاندان کا بھی ارادہ تھا کہ اس الیکشن مہم میں آصفہ بھٹو زرداری کو اتارا جائے، لیکن سیلاب زدگان کے حوالے سے تنقید شروع ہوئی تو یوسف رضا گیلانی نے بڑے جلسے کو منسوخ کر دیا ان کا خیال تھا اب عمران خان کا جلسہ بھی منسوخ ہو جائے گا لیکن کپتان کو جلسوں کا تو عشق ہے، وہ کیسے یہ جلسہ منسوخ کر سکتے ہیں۔


مہربانو قریشی اگر یہ سیٹ جیت جاتی ہیں تو یہ اتنی انوکھی بات نہیں ہوگی کیونکہ یہ سیٹ ان کے بھائی زین قریشی نے خالی کی ہے۔ پی ٹی آئی نے ملتان میں 2018ء کے انتخابات میں کلین سویپ کیا تھا شاہ محمود قریشی البتہ صوبائی نشست پر سلمان نعیم سے ہار گئے تھے جس کا انہوں نے اپنے بیٹے زین قریشی کو ضمنی انتخاب میں اس کے مقابل کھڑا کرکے بدلہ لیا البتہ اگر مہربانو قریشی اس نشست پر شکست کھا جاتی ہیں تو یہ قریشی خاندان کے لئے ایک بہت بڑا سیٹ بیک ہوگا کیونکہ گیلانی خاندان کا جیتنا ملتان کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ ثابت ہوگا۔ پیپلزپارٹی پنجاب میں ایک غیر مقبول جماعت بن کر رہ گئی ہے تاہم ملتان میں یوسف رضا گیلانی نے اسے زندہ رکھا ہوا ہے اگر وہ اپنا ووٹر نکالنے میں کامیاب رہتے ہیں تو یہ بڑ اَپ سیٹ ہو سکتا ہے اس سارے معاملے میں اہم کردار مسلم لیگ (ن) کا بھی ہے، اس حلقے میں مسلم لیگ (ن) کا ایک بڑا ووٹ بینک موجود ہے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار عبدالغفار ڈوگر اس حلقے سے تیسرے نمبر پر رہے تھے، اب پی ڈی  ایم کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) علی موسیٰ گیلانی کی حمایت کررہی ہے لیکن کیا وہ دل سے حمایت کررہی ہے، یہ اصل سوال ہے یوں کہنے کو مسلم لیگ (ن) کے رہنما یوسف رضا گیلانی کے ساتھ ساتھ مہم چلا رہے ہیں، مگر کیا وہ پولنگ کے دن ووٹرز کو پولنگ اسٹیشنوں تک بھی لائیں گے سلمان نعیم کو ضمنی انتخاب میں اس کا بڑا تلخ تجربہ ہو چکا ہے، مسلم لیگ (ن) نے اوپر سے حمایت اور اندر سے مخالفت کی جس کے باعث وہ شکست کھا گیا اگر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا ووٹ اکٹھا ہو کر علی موسیٰ گیلانی کو مل جاتا ہے تو اس حلقے میں نتیجہ حیران کن بھی ہو سکتا ہے اس الیکشن سے یہ راز بھی کھل گیا ہے کہ کسی سیاسی جماعت میں کارکنوں کی کوئی اہمیت نہیں، وہ نعرے تو لگا سکتے ہیں، دریاں اور کرسیاں تو بچھا سکتے ہیں مگر انہیں ٹکٹ نہیں مل سکتا، یہ وڈیروں یا ان کے بچوں کا حق ہے، چاہے گھریلو زندگی گزارنے والی کسی شخصیت کو ہی بوقتِ ضرورت کیوں سامنے نہ لانا پڑے۔

مزید :

رائے -کالم -