پانی کا دباؤ برقرار، منچھر جھیل کے بند پر پانچواں کٹ لگانے کا فیصلہ 

پانی کا دباؤ برقرار، منچھر جھیل کے بند پر پانچواں کٹ لگانے کا فیصلہ 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


        کراچی،حیدر آباد،سیہون شریف،بدین،اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) پاکستان کی سب سے بڑی منچھر جھیل میں کٹ لگانے کے باوجود خطرہ نہ ٹل سکا، جھیل میں پانی کی خطرناک سطح بدستور برقرار ہے، دباؤ کم کرنے کیلئے مزید 2 مقامات آرڈی 50اور 52 پر کٹ لگانے کا عمل جاری ہے، جبکہ آرڈی 14 اور 15 پر 2 روز پہلے ہی کٹ لگایا گیا تھالیکن منچھر جھیل میں پانی کا دباؤ مزید بڑھ گیا ہے جس سے شگاف پڑنے کا خدشہ برقرار ہے۔سندھ کے محکمہ آبپاشی کے مطابق منچھر جھیل میں بند پر مزید دو کٹ لگا دیئے گئے،جس کے بعد ان کی تعداد چار ہو گئی ہے لیکن پانی کا دباؤ برقرار ہے اسلئے پانچواں کٹ لگانے کا فیصلہ کیا جارہا ہے،محکمہ آبپاشی سندھ کے مطابق دو نئے کٹ آر ڈی 50اور آر ڈی 52 پر لگائے گئے ہیں،جن سے پانی کا اخراج شروع ہو چکا ہے،ادھرڈپٹی کمشنر جامشورو نے مزید ایک اور کٹ لگانے کے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا منچھر جھیل کے حفاظتی پشتوں پر دباؤ کم کرنے کیلئے لگائے گئے کٹ کی وجہ سے سیکڑوں دیہات اور سڑکیں زیر آب آگئی ہیں اور پانی سیہون ائیرپورٹ تک پہنچ گیا ہے، جھیل کا پانی ٹول پلازہ کے قریب انڈس ہائی وے سے بھی ٹکرانے لگا ہے،اور پانی تیزی سے مزید دیہاتوں کی طرف بڑھ رہا ہے، ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے بند ٹوٹنے سے 300 سے زائد دیہات زیر آب آ سکتے ہیں۔ڈپٹی کمشنر جامشورو نے اپیل کی ہے کہ اعلان کردہ علاقے سے لوگ فوری طور پر نقل مکانی کرجائیں، بھان سعیدآباد، لال باغ  اور سیہون میں قائم ٹینٹ سٹی میں لوگ رہ سکتے ہیں، لوگوں کو منتقل کرنے کیلئے ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا گیا ہے۔دوسری طرف سندھ کے ضلع بدین میں حالیہ بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال ہے، 80فیصد آبادی متاثر ہوکر اپنی مدد آپکے تحت نقل مکانی کر رہی ہے، سندھ حکومت اور ضلع انتظامیہ متاثرین کی مدد کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔حالیہ مون سون بارشوں سے ضلع بدین کے پانچوں تحصیل بدین ٹنڈو باغوں گولاڑچی ماتلی تلہار سمیت 68 یونین کونسلز شدید متاثر ہوئی، 200718 ایکڑ رقبہ بھی متاثر ہوا، جسمیں چاول، کپاس، سبز مرچی ٹماٹر کی پنیری، 1000 مال مویشی بھی ہلاک ہوئے ہیں، سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 199245افراد متاثر جبکہ 37510خاندان نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے، بارش و سیلاب سے 200000 سے زائد کچے پکے مکانات مسمار ہوئے،17افراد مختلف حادثات اور واقعات میں جاں بحق، 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں،متاثرین سیلاب اس وقت بے یارو مددگار سڑکوں کے کنارے زندگی گزارنے پر مجبورہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں۔سندھ حکومت کی جانب سے سیلاب متاثرین کیلئے ضلع انتظامیہ کو 6850ٹینٹ2000تڑپال،مچھر دانیاں اور 1000راشن بیگ فراہم کیے گئے ہیں،لیکن ان تمام تر اشیاء کو زمین کھاگئی یا آسمان نگل گیا متاثرین سیلاب آج بھی امداد کے منتظر ہیں، جبکہ ضلع بدین کو آفت زدہ قرار بھی دیدیا گیا ہے۔دریں اثناء این ڈی ایم اے نے جاری کردہ بارشوں اور سیلاب سے ہونیوالے نقصانات کی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا ہے کہ ملک بھرمیں مزید 24افراد جاں بحق ہو گئے، جن میں سندھ میں جاں بحق ہونیوا لے 19 افراد بھی شامل ہیں،خیبرپختونخوا میں 3اور بلوچستان میں ایک شخص جان کی بازی ہار گیا، 115افرادزخمی ہوئے، ملک بھر میں سیلا ب سے جاں بحق افراد کی کل تعداد ایک ہزار 314تک جا پہنچی ہے، ابتک زخمی ہونیوالوں کی تعداد 12 ہزار 703 ہو گئی ہے۔ ملک بھر میں 80 اضلاع میں بارشوں اور سیلاب سے نقصان پہنچا ہے۔ 3 کروڑ 30 لاکھ 46 ہزار 329 افراد بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہو ئے ہیں۔ ملک بھر میں 5ہزار735 کلو میٹر سڑکیں بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہوئی ہیں، 7 لاکھ 50 ہزار 405 مویشیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔دوسری جانب مختلف ممالک سے سیلاب زدگان کیلئے امداد کا سلسلہ جاری ہے، ترکمانستان اور یو اے ای سے امدادی پروازیں کراچی ایئرپورٹ پہنچ گئیں۔ترکمانستان سے پہلی پروا ز امدادی سامان لیکر کراچی ایئرپورٹ پہنچ گئی، ترکمانستان کے سفیر، این ڈی ایم اے کے نمائندوں، پاک فوج اور دیگر نے سامان وصول کیا۔متحدہ عرب امارات سے بھی سیلاب زدگان کیلئے امدادی سامان کی پروازیں کراچی ایئرپورٹ پہنچ گئیں، وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے ریلیف، یواے ای قونصل جنرل، این ڈی ایم اے کے نمائندے، پاک فوج افسران اور دیگر نے امدادی سامان وصول کیا۔
سیلاب صورتحال

مزید :

صفحہ اول -