پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم میں کوئی فرق نہیں، دونوں ایک ہی ہیں: سینیٹر مشتاق احمد

  پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم میں کوئی فرق نہیں، دونوں ایک ہی ہیں: سینیٹر مشتاق ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


         شیرگڑھ(نا مہ نگار)جماعت اسلامی خیبر پختونخواہ کے سابق امیر سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم اور پی ٹی ائی میں کو ئی فرق نہیں ہے دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہے پی ٹی ائی حکومت نے مہنگائی میں بے تحاشاہ اضافہ کرکے غریب عوام  سے زندگی کا حق چھین لیا تھا کہ اوہر سے پی ڈی ایم کی حکومت نے مزید مہنگائی لا کر عوام کی چیخیں  نکال دی ملک کے مسائل کا حل جماعت اسلامی کے پاس ہے اسلامی پاکستان،خوشحال پاکستان کے لئے عوام جماعت اسلامی کو ووٹ دیں جماعت اسلامی کی صالح اور دیانتدار قیادت پاکستانی عوام کی امید کی آخری کرن ہے۔ جن کی ماضی اور حال ہر قسم کرپشن سے پاک ہے۔ جماعت اسلامی کے مرکزی امیر سراج الحق کی دیانتداری کا سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی اعتراف کیا ہے۔ عوام ازمائے ہوئے  لوگوں کو دوبارہ آزمانے سے ہوشیار رہیں جنہوں نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی ہدایات پر پاکستانی عوام کا جینا حرام کردیا ہے۔ عوام این اے 22 کے ضمنی انتخابات میں جماعت اسلامی کی صالح قیادت کو کامیاب بناکر ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے غلاموں کو عبرتناک شکست دیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہاتھیان،پرخو ڈھیری اور شیرگڑھ مومن کلی میں ضمنی انتخابات کے سلسلے میں منعقدہ عوامی جلسوں سے اپنے خطاب میں کیا جلسوں سے جماعت اسلامی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور این اے 22 سے نامزد امیدوار عبدالواسع، ضلع مردان کے امیر غلام رسول۔سابق صوبائی وزیر فضل ربانی ایڈوکیٹ مولانا عبدالبر شیخ الحدیث مولانا سفیع اللہ،ولی خان،حبیب رسول اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ کپتان خان ایک طرف اپنے ساتھیوں سمیت قومی اسمبلی کے نشستوں سے مستعفی ہورہے ہیں اور دوسری طرف ضمنی انتخابات میں تمام نشستوں پر خود امیدوار بن کر عوام کے ساتھ سنگین مذاق کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم کے دونوں امیدوار موجودہ اور سابق حکومتوں کے نمائندے ہیں جو عوام نے دونوں کی حکمرانی کو اچھی طرح آزماکر ان کے کارنامے اچھی طرح جان چکے ہیں۔ ان کو دوبارہ ووٹ دینا اپنی پاوں پر کلہاڑی مارنے کی مترادف ہے۔ انہوں نے عوام الناس سے اپیل کی کہ 25 ستمبر کو انتخابی نشان ترازو پر مہر لگاکر ان کی صالح قیادت کو کامیاب بناکر عالمی دنیا کو ایک پیغام دیں۔ اور یہ ثابت کریں کہ پاکستانی عوام آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی ڈیکٹیشن قبول کرنے کے لئے ہر گز تیار نہیں ہیں.