استحکام پاکستان کیلئے قربانیاں دینے والے قوم کے محسن، مفتی خالد محمود

استحکام پاکستان کیلئے قربانیاں دینے والے قوم کے محسن، مفتی خالد محمود

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 
خانیوال(نمائندہ پاکستان)جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ نظریاتی (بقیہ نمبر27صفحہ6پر)
سرحدوں کی حفاظت ضروری ہے، استحکام پاکستان کے لئے قربانیاں دینے والے پوری قوم کے محسن ہیں،  پاکستان خالص اسلامی نظریاتی ملک ہے، عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ اور دفاع پاکستان لازم و ملزوم ہیں، منکرین ختم نبوت ملک وقوم کے غدار ہیں، آئین پاکستان کو تسلیم نہ کرنے والے طبقات کے خلاف طاقت کا استعمال ناگزیر ہے، قادیانی جب تک آئین پاکستان کو تسلیم نہیں کرتے اس وقت تک ان کے شناختی کارڈز اور پاسپورٹ منسوخ کئے جائیں، ان خیالات کا اظہار مرکزی جمعیت علماء اسلام پنجاب کے جنرل سیکرٹری، تحفظ نظریہ پاکستان فورم کے مرکزی چیئرمین ڈاکٹر مفتی خالد محمود ازھر، بزم امام لاہوری کے مرکزی چیئرمین علامہ ظہیر الہاشمی، مرکزی جمعیت علماء اسلام کے ضلعی امیر مولانا عبد المجید انور،مجلس علماء اہلسنت والجماعت خانیوال کے امیر مولانا عبدالمالک صدیقی، انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے ضلعی صدر مولانا محمد اقبال ساجد، جامعہ احسن العلوم کے مہتمم مفتی محمد زاہد نے مرکزی جمعیت علماء اسلام ضلع خانیوال کے زیر اہتمام اسلامک ریسرچ سنٹر میں تحفظ ختم نبوت و استحکام پاکستان سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ پاکستان خالص اسلامی نظریاتی ملک ہے، جس کی نظریاتی سرحدیں اسلامی عقائد وافکار ہیں، آج وطن عزیز کا نظریاتی تشخص مجروح کرنے کی سازشیں عروج پر ہیں، اسلام اور ملک دشمن عناصر مختلف انداز سے محنت کر رہے ہیں، حکومت اور اداروں کو ایسے عناصر کا قلع قمع کرنا چاہئے، ہمیں جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کا اہتمام کرنا چاہئے، 6 ستمبر پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت اور 7 ستمبر پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لئے  تجدید عہد کا دن ہے، اس موقع پر ہم پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لئے خدمات انجام دینے والے تمام حضرات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ تفصیلی بحث و مباحثہ کے بعد متفقہ طور پر منکرین ختم نبوت کو غیر مسلم قرار دے چکی ہے،اس فیصلے کو پچاس سال مکمل ہوچکے آج تک قادیانیوں نے اس قانون کو تسلیم نہیں کیا، ہمارا مطالبہ ہے کہ اس آئین شکنی کا نوٹس لیا جائے، اور قادیانیوں کو آئین پاکستان کا پابند بنایا جائے، اگر وہ اس آئین کو تسلیم نہیں کرتے تو ان کے شناختی کارڈز اور پاسپورٹ منسوخ کئے جائیں، اور ان کے خلاف بغاوت کے مقدمات قائم کیئے جائیں، انہوں نے مزید کہا حکومت چناب نگر کی سرکاری زمین مرزا غلام احمدقادیانی کی فیملی سے واپس لے کر وہاں مقامی رہائشیوں کو مالکانہ حقوق دئیے جائیں تو چناب نگر کے میں قادیانی رائل فیملی کے جبر سے آزاد ہونے کے ساتھ ساتھ قادیانیت سے تائب ہو جائیں گے، سیمینار کے آخر میں افواج پاکستان اور شہداء ختم نبوت کے لئے خصوصی دعا کی گئی۔