حکومت جننگ انڈسٹری کو ریلیف فراہم کرے، سہیل طلعت 

حکومت جننگ انڈسٹری کو ریلیف فراہم کرے، سہیل طلعت 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 
ملتان(نیوزرپورٹر)فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (ایف پی سی سی آئی)کے کوآرڈینیٹر ملک سہیل طلعت نے کہا کہ بزنس مین کمیونٹی کے پاس 55 سے 60 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی کے بل ادا کرنے کا کوئی طریقہ نہ ہے۔  کاٹن جینگ انڈسٹری جو کہ بیمار حال صنعت ہے۔ اور 1200 میں سے صرف 400 جننگ فیکٹریاں چل رہی ہیں۔ اور زیادہ تر پچھلے 3/4 سال سے بند ہیں۔ اور جو چل(بقیہ نمبر42صفحہ7پر)
 رہی ہیں وہ بھی ملک میں کپاس کی عدم دستیابی  کی وجہ سے اوسطا 100 دن سے زیادہ نہیں چلتیں۔  ان پر 22 جولائی کو نوٹیفکیشن کے ذریعہ 50 فیصد ایم ڈی آئی کی کم از کم شرط لاگو کرنا ناقابل برداشت ہے۔ حالیہ سیلاب اور بارشوں کی وجہ سے سندھ اور جنوبی پنجاب میں کپاس کی فصل بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ موجود حالات کا تقاضا ہے کہ جننگ انڈسٹری کو حکومتی ریلیف پیکج ملنا چاہیے ناکہ بند صنعتی یونٹوں پر 50 فیصد ایم ڈی آئی چارجز لگا کر ان صنعتوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔  وہ اس نوٹیفکیشن پر شدید احتجاج کرتے ہیں۔ اسے فی الفور واپس لیا جائے۔ وزیراعظم، وزیر خزانہ اور وزیر توانائی کو فوری طور پر اس صورتحال کا جائزہ لے کر آنے والے دنوں میں سینکڑوں جننگ فیکٹریوں کے ممکنہ خاتمے کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔