روز اول سے پاکستان کا مقدر، رہبر ترقی و کمال بننا ہے: ڈاکٹر حسن منظر

  روز اول سے پاکستان کا مقدر، رہبر ترقی و کمال بننا ہے: ڈاکٹر حسن منظر

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


       کراچی (سٹاف رپورٹر) معروف ادیب و مصنف اور دانشور ڈاکٹر حسن منظر نے کہا کہ پاکستان کی مقصدیت اسلامی اعلیٰ و ارفع افکارو تعلیمات پر مرتب کی گئی تھی۔روز اول سے اس ملک کا مقدر ’رہبر ترقی و کمال‘ بننا ہے۔ دنیا کی راہنمائی کرنی ہے۔پاکستان تو اس لیے بنایا گیا تھا کہ دنیا کے سامنے راہنما سماجی فلاحی ماڈل پیش کیا جاسکے، ایک ایسا سماجی ماڈل جہاں ہر عورت کی عزت محفوظ ہو، علم و ہنرملت کا زیور ہو،پوری قوم کا اخلاق مثالی ہواور اقلیتیں محفوظ ہوں۔ وہ گزشتہ روز اسپیکر شوریٰ ہمدرد جسٹس (ر) حاذق الخیری کی زیر صدارت ”آئیے اپنا محاسبہ کریں، ہم معاشی، معاشرتی اور ملّی اعتبارسے کہاں کھڑے ہیں“ کے موضوع پر اظہار خیال کررہے تھے۔صدر ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان سعدیہ راشد نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔انہوں نے کہا کہ جب پاکستان قائم ہوا، اْس وقت بے یقینی کی صورت حال تھی۔ لوگ افراتفری میں اپنا سامان بیچ کرنئے ملک ہجرت کرنے کی تیاری کررہے تھے۔ اسی اثناء  میں فسادات اور بلوے کی خبروں نے عام مسلمان کو خوف اور پریشانی کا شکار کردیا تھا۔اس کوفت اور مشکل صورت حال میں مسلمانوں نے مملکت خداداد کی جانب ہجرت کی۔ اس سفر میں لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جان کا نظرانہ پیش کیا۔ رشتہ دار ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئے جن کاآج تک پتا نہیں چلا کہ اْن کے ساتھ کیا ہوا۔ نیز پاکستان کا آغاز تکالیف اور دکھوں سے شروع ہوا۔ لیکن اس کے باوجودہر ایک شخص پرجوش و مطمئن تھا۔ہر ایک اپنے ملک کی خدمت کرنے کے جذبے سے سرشار تھا۔ آج اْسی جذبے کی ایک بار پھر ضرورت ہے۔ جسٹس (ر) حاذق الخیری نے کہا کہ شہید لیاقت علی خان کی بے وقت شہادت کے بعد ملکی سیاست میں بتدریج تنزلی آتی گئی۔ بے موقع بے محل لگنے والی آمریت نے بھی ملک میں سیاسی انتشار برپا کیا اور بدعنوانی کا کلچر متعارف کروایا۔جسٹس (ر) ضیا پرویز نے کہا کہ حالات سے گھبرانا نہیں چاہیے اور قوم کو روشن مستقبل کے حوالے سے تیار کرنے کے ساتھ اْن میں موجودہ صورت حال کا مقابلہ کرنے کا عزم و حوصلہ پیدا کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر تنویر خالد نے کہا کہ قوم کی تشکیل میں تعلیم کے ساتھ تربیت لازم ہے۔ تربیت ہی ایک اخلاق یافتہ معاشرے کو جنم دیتی ہے۔ نوجوان نسل کی راہنمائی کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اْٹھانے ہوں گیاور بدعنوانی کو سرے سے ختم کرنا ہوگا۔کرنل (ر) مختار احمد بٹ نے کہا کہ جس معاشرے میں بھی بدعنوانی ہوگی اور معاشی مشکلات ہوں گی وہاں امن قائم نہیں ہوسکتا۔  آن لائن تجارت کاآپشن دینے والے ادارے نے پاکستان کے کتنے کاروباروں کے اکاؤنٹس جعل سازی اور دو نمبری کی وجہ سے بند کردئیے ہیں۔ ان عناصر کے خلاف تو سخت کارروائی ہونی چاہیے کیوں کہ ان کی وجہ سے ملک بدنام ہوا۔دیگر اراکین شوریٰ ہمدردجن میں سینٹر عبدالحسیب خان، ڈاکٹر رضوانہ انصاری، ڈاکٹر ابوبکر شیخ، نسیم بخاری، ہما بخاری، ڈاکٹر امجد جعفری، عامر طاسین اور ابن الحسن شامل ہیں، اْنہوں نے کہا کہ حکومت وقت کو ایسا پروگرام شروع کرنا چاہیے جس کے ذریعے عوام الناس میں جذبہ حب الوطنی، اتحاد اور ایک دوسرے کا خیال کرنے کے جذبات پیدا کیے جاسکیں۔

مزید :

صفحہ آخر -