لندن سے چوری مہنگی ترین گاڑی کی کراچی سے برآمدگی کے معاملے میں ایک اور انکشاف

لندن سے چوری مہنگی ترین گاڑی کی کراچی سے برآمدگی کے معاملے میں ایک اور انکشاف
لندن سے چوری مہنگی ترین گاڑی کی کراچی سے برآمدگی کے معاملے میں ایک اور انکشاف

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) لندن سے چوری ہونے والی لگژری گاڑی بینٹلے ملیسن کے کراچی سے برآمد ہونے کے واقعے میں ایک اور انکشاف ہو گیا۔ یہ گاڑی دراصل یورپی ملک بلغاریہ کے اس وقت کے سفیر نے 2019ء میں پاکستان درآمد کی تھی۔ ویب سائٹ’پروپاکستانی‘ کے مطابق 2020ء میں بلغارین سفیر الیگزینڈر بوریسو پارسیخوو کے متعلق مبینہ بدعنوانی کی خبریں سامنے آنے پر بلغارین حکومت نے انہیں اسلام آباد تعیناتی کے محض ایک سال بعد واپس بلا لیا تھا۔ 
اس وقت الیگزینڈر کا نام سفارتی استثنیٰ استعمال کرتے ہوئے برطانیہ سے ایک درجن سے زائد انتہائی مہنگی گاڑیاں درآمد کرنے کے کیس میں بھی آیا تھا۔ کراچی کے علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی(ڈی ایچ اے)کے ایک گھر سے برآمد ہونے والی یہ لگژری گاڑی انہیں ایک درجن گاڑیوں میں سے ایک ہے۔ 
برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کی طرف سے پاکستانی حکام کو اس چوری شدہ گاڑی کا وہیکل آئیڈنٹی فکیشن نمبر (وی آئی این) اور انجن نمبر فراہم کیے گئے تھے اور یہ معلومات بھی دی گئی تھیں کہ لندن سے چوری ہونے والی یہ گاڑی اس وقت ڈی ایچ اے کراچی کے ایک بنگلے میں کھڑی ہے۔ برطانوی حکام کی اطلاع پر کسٹمز حکام نے علاقہ مجسٹریٹ کے ساتھ جمیل شفیع نامی شہری کے بنگلے پر چھاپہ مارا جہاں سے یہ گاڑی برآمد ہو گئی۔ گاڑی پر سندھ کی نمبر پلیٹ لگی ہوئی تھی۔
چھاپے کے دوران حکام نے جمیل شفیع سے گاڑی کے کاغذات طلب کیے تو اس نے بتایا کہ اسے یہ گاڑی نوید بلوانی نامی شخص نے فروخت کی تھی اور نوید بلوانی سے معاہدہ ہوا تھا کہ وہ نومبر 2020ء تک گاڑی کے تمام کاغذات جمیل شفیع کے حوالے کرے گا۔ کسٹمز حکام نے تسلی بخش جواب نہ دینے پر جمیل شفیع کو گرفتار کر لیا اور گاڑی بھی قبضے میں لے لی۔ بعد ازاں نوید بلوانی کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔نوید بلوانی نے حکام کو بتایا کہ اس کا اس سودے میں مڈل مین کا کردار تھا۔ اس نے جمیل شفیع اور نوید یامین نامی شخص کے مابین گاڑی کی خریداری کا معاہدہ کرایا تھا اور نوید یامین نے اس گاڑی کی قیمت کیش اور پے آرڈرز کی شکل میں وصول کی تھی۔کسٹمز حکام کے مطابق جس وقت یہ گاڑی پاکستان لائی گئی اس وقت اس کی قیمت 2لاکھ 66ہزار 320ڈالرتھی۔ اس وقت ڈالر کی قیمت کے لحاظ سے یہ قیمت پاکستانی روپوں میں 4کروڑ 14لاکھ 39ہزار 322روپے بنتی ہے تاہم آج ڈالر کی قیمت بڑھنے کے باعث اس گاڑی کی قیمت 5کروڑ 83لاکھ 91ہزار روپے ہو چکی ہے۔
اس قیمت کے بعد کسٹمز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس، ایڈیشنل سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سمیت کئی طرح کے دیگر ٹیکسز لاگو ہونے کے بعد پاکستان میں اس گاڑی کی موجودہ قیمت 30کروڑروپے سے زائد ہو گی۔حکام کے مطابق گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ اس کیس میں مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔