’گھر سے بھاگ کر شادی کرنے والے جوڑوں کے لیے زندگی ایک پچھتاوا بن کر رہ جاتی ہے‘  بھارتی صحافی کا مشاہدہ

’گھر سے بھاگ کر شادی کرنے والے جوڑوں کے لیے زندگی ایک پچھتاوا بن کر رہ جاتی ...
’گھر سے بھاگ کر شادی کرنے والے جوڑوں کے لیے زندگی ایک پچھتاوا بن کر رہ جاتی ہے‘  بھارتی صحافی کا مشاہدہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بسااوقات ایسے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں جب کوئی لڑکا لڑکی اپنے ماں باپ اور خاندان کی عزت سمیت دنیا کی ہر چیز پر محبت کو فوقیت دیتے ہیں اور گھروں سے بھاگ کر شادی کر لیتے ہیں۔ ایسے جوڑوں کا انجام کیا ہوتا ہے؟ بھارت کی دبئی میں مقیم خاتون صحافی مانسی چوکسی نے اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے گھر سے بھاگنے والے تین جوڑوں کی زندگیوں کا قریب سے مشاہدہ کیا اور اسے ایک کتاب کی شکل دی ہے۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق مانسی چوکسی کی اس کتاب کی گزشتہ دنوں تقریب رونمائی ہوئی۔ کیتاکی ڈیسائی نے ان سے سوال پوچھا کہ ایسے جوڑوں کی گھر سے بھاگنے کے بعد زندگی کیسی ہوتی ہے؟ کیا وہ اس کے بعد ہمیشہ خوش رہتے ہیں؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے مانسی چوکسی نے کہا کہ ”میں نے گھر سے بھاگ کر شادی کرنے والے تین جوڑوں کے ساتھ وقت گزارا ہے اور میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ ایسے جوڑوں کے لیے زندگی ایک پچھتاوا بن کر رہ جاتی ہے۔“
مانسی چوکسی نے کہا کہ ”ایسے جوڑے اپنی محبت کو نبھانے کے بہانے تلاش کرتے ہیں۔ ان کی محبت ہر روز ایک نئے روپ میں سامنے آتی ہے۔ کبھی پچھتاوے کے روپ میں، کبھی امید کے روپ میں، کبھی اس قبولیت کے روپ میں جسے وہ اپنے پیچھے چھوڑ آئے ہوتے ہیں۔ان کی اولین خواہش یہی ہوتی ہے کہ دنیا انہیں اسی طرح قبول کر لے جس طرح گھر سے بھاگنے سے پہلے کرتی تھی۔ میں نے ان تین جوڑوں کو دیکھ کر جو سیکھا ہے وہ یہ ہے کہ گھر سے بھاگنے سے قبل جس طرح آئندہ کی زندگی سہانی نظر آ رہی ہوتی ہے، ویسی بالکل نہیں ہوتی۔“