لاہور ہائی کورٹ نے خواتین کا کنوارہ پن جانچنے کے لیے کیے جانے والے تمام ٹیسٹ کالعدم قرار دے دئیے

لاہور ہائی کورٹ نے خواتین کا کنوارہ پن جانچنے کے لیے کیے جانے والے تمام ٹیسٹ ...
لاہور ہائی کورٹ نے خواتین کا کنوارہ پن جانچنے کے لیے کیے جانے والے تمام ٹیسٹ کالعدم قرار دے دئیے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور ہائی کورٹ نے اپنے ایک تاریخی فیصلے میں جنسی زیادتی کی شکار خواتین کا کنوار پن جانچنے کے لیے کیے جانے والے تمام ٹیسٹ کالعدم قرار دے دیئے۔ انڈیا ٹائمز کے مطابق پیر کے روز عدالت عالیہ نے کنوار پن کے ٹیسٹ غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنسی زیادتی کے کیس میں کنوارپن جانچنے کا کوئی طبی جواز موجود نہیں ہے اور دوسری یہ ٹیسٹ متاثرہ خواتین کے لیے ہتک اور مزید ذہنی تکلیف کا سبب بنتے ہیں۔ 
رپورٹ کے مطابق جسٹس عائشہ ملک نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ جنسی زیادتی کے مقدمے میں کنوار پن کے ٹیسٹ کی کوئی سائنسی ضرورت بھی نہیں ہوتی، اس کے باوجود میڈیکل پروٹوکولز کے تحت یہ ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ گزشتہ سال کنوار پن جانچنے کے لیے کیے جانے والے ’ٹو فنگر ٹیسٹ‘ اور ہائمین(اندام نہانی کی اندرونی جھلی) کے ٹیسٹ کے متنازع طریقوں کو غیرقانونی اور آئین کے منافی قرار دے چکی ہے۔