آلوﺅں کی چپس سے لے کر ویاگرا تک، وہ چیزیں جو انسان کی معمولی غلطی کی وجہ سے ایجاد ہوگئیں

آلوﺅں کی چپس سے لے کر ویاگرا تک، وہ چیزیں جو انسان کی معمولی غلطی کی وجہ سے ...
آلوﺅں کی چپس سے لے کر ویاگرا تک، وہ چیزیں جو انسان کی معمولی غلطی کی وجہ سے ایجاد ہوگئیں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) مائیکروویو اوون جیسی کئی اشیاءایسی ہیں جنہوں نے ہماری زندگی آسان کر دی مگر آپ کو یہ سن کر حیرت ہو گی کہ یہ اشیاءغلطی سے ایجاد ہوئی تھیں۔انڈیا ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں غلطی سے ایجاد ہونے والی ایسی ہی کچھ اشیاءکی فہرست بیان کی ہے جو مندرجہ ذیل ہے:۔
پوٹاٹو چپس
1853ءمیں نیویارک کے ایک ریسٹورنٹ میں ایک کسٹمر نے شکایت کی کہ فرائی کیے ہوئے آلو بہت نرم اور موٹے ہیں۔ اس نے کئی بار ویٹر کو اسی شکایت کے ساتھ فرائیڈ پوٹاٹو واپس دے کر بھیجا، بالآخر ہوٹل کا شیف جارج کروم تنگ آ گیا اور اس نے آلو کو انتہائی باریک کاٹ کر فرائی کر دیا اور اسے نمک لگا کر کسٹمر کو بھجوا دیا۔ وہیں سے پوٹاٹو چپس کی ابتداءہوئی جو آج دنیا بھر میں بہت پسند کیے جاتے ہیں۔
مائیکروویو اوون
1945ءمیں پرسی سپینسر مائیکروویوخارج کرنے والے ایک میگنیٹران پر کام کر رہا تھا۔ اس کی جیب میں چاکلیٹ تھی جو اچانک پگھلنی شروع ہو گئی۔یہیں سے پرسی سپینسر کے دماغ میں مائیکروویو اوون کی ایجاد کا خیال آیا اور اس نے یہ ایجاد اپنے نام سے رجسٹرڈ کرا لی۔
پوسٹ اِٹ نوٹس
تھری ایم لیبارٹریز سے وابستہ ریسرچرسپینسر سلور ایک طاقتور گوند بنانے کی کوشش کر رہے تھے کہ اس دوران ایک ایسی گوند تیار ہو گئی جو کسی بھی سطح پر چپکانے کے بعد باآسانی اتر بھی جاتی تھی اور اس سطح پر کوئی نشان بھی نہیں چھوڑتی تھی۔ غلطی سے بننے والی یہ گوند پوسٹ اِٹ نوٹس کی ایجاد کا موجب بنی۔
کارن فلیکس
کیلاگ برادرز جان اور وِل نے ابلے ہوئے مکئی کے دانوں سے بھرے ایک برتن کو غلطی سے کئی دن کے لیے چولہے پر رکھ دیا۔ان کی یہ غلطی کارن فلیکس کی ایجاد پر منتج ہوئی۔
پنسلین
سکاٹ لینڈ کے سائنسدان سر الیگزینڈر فلیمنگ کے ہاتھوں 1928ءمیں اتفاقیہ طور پر پنسلین ایجاد ہوئی۔ انہوں نے لیبارٹری میں سٹافائلوکوکس اوریئس نامی بیکٹیریا کو دو ہفتے کے لیے رکھا۔ اس دوران اتفاقی طور پر ان کے مشاہدے میں آیا ہے کہ ان بیکٹیریا کے قریب لگنے والی پینسیلیم نوٹاٹم نامی پھپھوندی کی وجہ سے ان بیکٹیریا کی بڑھوتری رک گئی تھی۔
نان سٹِک برتن
نان سٹِک برتن کیمسٹ رائے پلنکیٹ کی ایک غلطی سے ایجاد ہوئے۔ وہ کلوروفلیورو کاربن کی ایک نئی قسم بنانے کی کوشش کر رہے تھے کہ اس دوران پولی ٹیٹرافلیوروتھائیلین نامی کیمیکل کمپاﺅنڈ تیار ہو گیا جو نان سٹِک برتنوں پر لگایا جاتا ہے۔ 
ایل ایس ڈی
سینڈوز کمپنی سے وابستہ کیمسٹ ڈاکٹر البرٹ ہوف مین 1943ءمیں ایل ایس ڈی 25کو سنتھسائز کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس دوران مادے کے کچھ کرسٹلز غلطی سے ڈاکٹر البرٹ کی انگلیوں پر لگ کر ان کی جلد کے ذریعے جسم میں جذب ہو گئے۔ یہیں سے ایل ایس ڈی کی ایجاد ہوئی۔
دیا سلائی
1826ءمیں برطانوی کیمیا دان جان واکر نے غلطی سے ایک سلائی کچرے میں پھینک دی جس پر کیمیکلز لگے ہوئے تھے۔ اس سلائی نے آگ پکڑ لی۔ یہیں سے جان واکر کو باقاعدہ ماچس تیار کرنے کا آئیڈیا ملا۔
سیفٹی گلاس
1903ءمیں کیمیا دان ایڈورڈ بینڈکٹس نے اتفاقیہ طور پر سیفٹی گلاس کی ایجاد کی جسے وقت نے ایک انتہائی مفید ایجاد ثابت کیا۔ 
ایکسرے امیج
1895ءمیں فزکس کے پروفیسر ولہیلم کونرڈ رونٹگن ایک کیتھوڈ رے ٹیوب پر کام کر رہے تھے جب اتفاقیہ طور پر ایکسرے امیج کی دریافت ہو گئی۔
کوکا کولا
کوکا کولا آج دنیا کا مقبول ترین مشروب ہے، جسے 1885ءمیں فارماسسٹ جان پیمبرٹن نے اپنا ایک سابق مشروب حکومت کی طرف سے بند کر دیئے جانے پر ایجاد کیا۔ جان پیمبرٹن اپنے گزشتہ مشروب کو سر درد اور اعصابی نظام کی بیماریوں کے علاج کے طور پر فروخت کر رہے تھے تاہم 1885ءمیں حکومت نے ان کے اس مشروب پر پابندی عائد کر دی، کیونکہ اس میں شراب استعمال ہوتی تھی۔ اس پر جان پیمبرٹن نے ایک نیا مشروب تیار کیا جسے آج دنیا کوکا کولا کے نام سے جانتی ہے۔کوکا کولا بھی ابتدائی طور پر سردرد، تھکاوٹ اور اعصاب کو پرسکون کرنے والے مشروب کے طور پر فروخت ہوتا رہا۔
ویاگرا
جنسی قوت کی گولی ویاگرا ہائپرٹینشن اور انجائنا پیکٹوریس کے علاج کے لیے تیار کی گئی تھی۔ فائزر کمپنی کی تیار کردہ اس دوا کے جب ٹرائیلز ہوئے تو معلوم ہوا کہ مذکورہ بیماریوں کے علاج سے زیادہ یہ گولی رضاکاروں میں جنسی قوت میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -