سپریم کورٹ غداری کے الزام میں مشرف کاٹرائل نہیں کرسکتی

سپریم کورٹ غداری کے الزام میں مشرف کاٹرائل نہیں کرسکتی
سپریم کورٹ غداری کے الزام میں مشرف کاٹرائل نہیں کرسکتی

  

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ چلانے کے لئے دائر درخواستوں کی کل 8 اپریل کو سپریم کورٹ میں سماعت ہوگی۔ جنرل (ر) پرویز مشرف نے دو مرتبہ دستور پاکستان کو سبوتاژ کیا۔ پہلی مرتبہ 12 اکتوبر 1999ءکو انہوں نے میاں محمد نواز شریف کی حکومت کا تختہ اُلٹ کر اقتدار پر قبضہ جمایا اور پھر 3 نومبر 2007ءکو انہوں نے عبوری آئینی فرمان (پی سی او) جاری کرکے آئین توڑا اور چیف جسٹس پاکستان سمیت اعلیٰ عدلیہ کے 43 ججوں کوگھر بھیجنے کی کوشش کی۔ تاہم 2009ءمیں ایک ملک گیر تحریک کے نتیجہ میں یہ تمام جج بحال ہوئے اور پھر اسی آزاد عدلیہ نے 31 جولائی 2009ءکو ایک فیصلہ دیا۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے اس فیصلہ میں جنرل (ر) پرویز مشرف کے 3 نومبر 2007ءکے اقدام کو نہ صرف غیر آئینی بلکہ اسے آئین سبوتاژ کرنے کی کوشش قرار دیا اور پرویز مشرف کو غاصب ٹھہرایا گیا۔

 جنرل پرویز مشرف کے 12 اکتوبر 1999ءکے اقدام کو پارلیمینٹ قبول کرکے اس کی توثیق کرچکی ہے۔ اس حوالے سے پارلیمینٹ نے 17ویں آئینی ترمیم منظور کی اور پرویز مشرف کے اقدامات کو دستوری تحفظ فراہم کیا۔ 31 دسمبر 2003ءسے نافذالعمل 17ویں ترمیم کے باعث پرویز مشرف کے 12 اکتوبر 1999ءکے اقدام کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی نہیں ہوسکتی۔ تاہم ان کے 3 نومبر 2007ءکے اقدام پر آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے۔ آرٹیکل 6 عاصمہ جیلانی کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں آئین کا حصہ بنایا گیا تھا۔ عاصمہ جیلانی کیس میں عدالت عظمیٰ نے جنرل یحییٰ خان کے فوجی انقلاب کو آئین توڑنے کا اقدام قرار دیا تھا اور یہ بھی قرار دیا تھا کہ آئین توڑنا یا ایسی کوشش کرنا سنگین غداری کے مترادف ہے، جس کے لئے سزائے موت مقرر ہونی چاہئے۔ عدالتی بنچ کے سربراہ چیف جسٹس پاکستان یعقوب علی خان نے قرار دیا تھا کہ آئین توڑنا ایک دائمی جرم ہے، جسے عدالتی فیصلے کے ذریعے جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ایک آمر بندوق کے زور پر اپنے حق میں عدالت سے فیصلہ تو لے سکتا ہے، لیکن اس کا جرم ختم نہیں ہوسکتا۔

1973ءمیں آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کے لئے پارلیمینٹ نے ایک قانون بھی منظور کیا جو 29 ستمبر 1973ءسے نافذ العمل ہے۔ اس قانون میں غدار کے لئے عمر قید یا موت کی سزا مقرر کی گئی۔ اس قانون کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا اطلاق 1956ءسے ہوتا ہے۔ یہ ملک کا مختصر ترین قانون ہے جو صرف 3 دفعات پر مشتمل ہے۔ سنگین غداری پر سزا کے اس قانون کی دفعہ 3 میں واضح کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کے سوا کوئی ادارہ سنگین غداری کے الزام میں کسی کے خلاف مقدمہ قائم کرسکتا ہے اور نہ ہی کوئی عدالت وفاقی حکومت کے مقدمہ کے بغیر کسی ملزم کے خلاف کارروائی کرسکتی ہے۔ 1999ءتک سنگین غداری کے الزام میں کارروائی کے لئے وفاقی حکومت نے کسی افسر کا نوٹیفکیشن ہی جاری نہیں کیا تھا، یوں تقریباً 26 سال تک یہ ایک ایسا قانون رہا جس پر عمل درآمد کے لئے مجاز افسر ہی موجود نہیں تھا۔ 1999ءمیں میاں نواز شریف کی حکومت نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے وفاقی سیکرٹری داخلہ کو آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی اور مقدمہ قائم کرنے کا مجاز بنایا۔

سنگین غداری پر سزا کے قانون مجریہ 1973ءکے تحت عدالت اس جرم کے ارتکاب پر خود سے کارروائی کی مجاز نہیں ہے۔ اس قانون کے حوالے سے کہا جاسکتا ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف ان درخواستوں پر عدالت عظمیٰ پرویز مشرف کا ٹرائل شروع نہیں کرسکتی۔ تاہم آئین کے تحت عدالت عظمیٰ کو انصاف کی مکمل فراہمی کے لئے وسیع تر اختیارات حاصل ہیں۔ عدالت عظمیٰ کسی بھی حکومتی ادارے اور افسر سے استفسار کرسکتی ہے کہ اس نے اپنی قانونی اور آئینی ذمہ داریاں پوری کیوں نہیں کی ہیں؟ اس عدالتی اختیار کو بروئے کار لاکر عدالت عظمیٰ سیکرٹری داخلہ کی گوشمالی کرسکتی ہے کہ انہوں نے پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ کیوں قائم نہیںکیا؟ عدالت عظمیٰ حکومت کواس حوالے سے قانونی تقاضے پورے کرنے کا حکم بھی جاری کرسکتی ہے۔

مزید :

تجزیہ -