پنجابی کا نفاذ....تضیعِ اوقات

پنجابی کا نفاذ....تضیعِ اوقات

  

وطن عزیز پاکستان بلاشبہ آج اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے، خصوصاً پیپلزپارٹی کی حکومت نے پانچ سال تک اس کے ساتھ جو سلوک روا رکھا ہے، اس نے اسے نیم جان بنا دیا ہے،چنانچہ سیاسی، اقتصادی اور اخلاقی اعتبار سے یہ ملک زوال کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔دہشت گردی اور بدامنی اس کی پہچان بن گئی ہے اور بلوچستان اور کراچی کے بعد اب پشاور میں بھی انسانی زندگی انتہائی غیر محفوظ ہوگئی ہے۔وزیرستان میں امریکی ڈرون حملے اور اندرونی وبیرونی سازشیں اس پر مستزاد ہیں۔ ان حالات میں ملک کا ہر حساس اور دردمند انسان پریشان اور دل گرفتہ ہے اور آنے والے قومی انتخابات سے امیدیں لگائے بیٹھا ہے کہ شاید خدا اس قوم پر رحم فرما دے اور حالات میں مثبت تبدیلی کی کوئی صورت نکل آئے، لیکن پنجابی میڈیا گروپ کے چیئرمین مدثر اقبال بٹ کا مسئلہ سب سے نرالا اور منفرد ہے۔

ان کا خیال ہے کہ اگر پنجاب میں پنجابی زبان کو اردو کی جگہ پرائمری ہی سے ذریعہءتعلیم بنا دیا جائے تو کم از کم پنجاب کے سارے دکھ اور دلدر دور ہو سکتے ہیں اور پنجابی ذریعہ تعلیم اور پنجابی نصاب کی برکت سے بہت تھوڑے عرصے میں پنجاب میں کرپشن، مہنگائی، رشوت ستانی، بدعنوانی اور طبقاتی اونچ نیچ کے مسائل حل ہوجائیں گے اور یہ صوبہ امن و امان اور خوشحالی کے حوالے سے ایک مثالی صوبہ بن جائے گا، اسی لئے انہوں نے پنجاب کے عبوری وزیراعلیٰ سے یہ مطالبہ داغ دیا ہے کہ وہ تاریخ ساز فیصلہ کریں اور پنجاب میں پرائمری تک پنجابی زبان کو نافذ کردیں۔ پنجاب میں پنجابی زبان کا نفاذ مدثراقبال بٹ صاحب کا بہت پرانا خواب ہے اور اس ضمن میں چند سال پہلے مَیں نے اپنے ایک کالم میں ان سے گزارش کی تھی کہ اردو اور پنجابی دراصل ایک ہی زبان کے دو پر تو ہیں اور ان دونوں میں قطعاً کوئی مناقشت نہیں ہے۔ فرق دونوں میں یہ ہے کہ اردو انتہائی مکمل اور بھرپور زبان ہے اور سارے ہی علمی اور سائنسی مضامین اس میں نہایت احسن طریقے سے ادا ہوسکتے ہیں،جبکہ پنجابی نسبتاً غیر ترقی یافتہ ہے۔ یہ نثر کی نہیں، شاعری کی زبان ہے اور سائنسی اور تحقیقی مضامین کی متحمل نہیں ہو سکتی۔حال تو یہ ہے کہ روز مرہ کے حالات و واقعات کا بیان بھی فصاحت و سلاست کے ساتھ اس زبان میں ادا ہونا محال ہے۔

یہی سبب ہے، جیسا کہ مدثر اقبال بٹ نے بھی رونا رویا ہے، پنجابی کا کوئی اخبار زیادہ دیر تک اپنی اشاعت برقرار نہیں رکھ سکا،چنانچہ اردو کے ہوتے ہوئے نہ پنجابی کے کسی اخبار کی ضرورت ہے اور نہ ذریعہءتعلیم کی ۔اس طرح کی کوشش محضِ تضیع اوقات ہوگی، لیکن اگر خدانخواستہ یہ منصوبہ کامیاب ہوگیا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نصابیات کے حوالے سے وہ سازش نتیجہ خیز ثابت ہوگئی ہے،جس کا مقصد اردو کو نقصان پہنچانا اور انگریزی کے اثرات کو مزید گہرا کرنا ہے ، قومی اعتبار سے یہ بہت بڑا المیہ ہوگا۔ یوں مَیں مدثر اقبال بٹ صاحب سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ ان کے ہم خیال عبوری وزیراعلیٰ نے اگر ان کی آرزو پوری کر بھی دی اورپرائمری سطح پر پنجابی نافذ ہوگئی تو کیا ان کے ہم مسلک لوگ پوٹھوہاری، سرائیکی اور ریاستی زبانوں کا علم لے کر نہیں اٹھ کھڑے ہوں گے اور مختلف بوتلوں سے نکلنے والے یہ جن وہ اودھم مچائیں گے کہ رہی سہی ملی یکجہتی کافور ہو جائے گی اور اپنی حرکتوں سے ہم دنیا بھر میں اور بھی تماشا اور لطیفہ بن جائیں گے۔      ٭

مزید :

کالم -