ایران سے گیس سپلائی کا معاہدہ ختم ہوجائے گا؟

ایران سے گیس سپلائی کا معاہدہ ختم ہوجائے گا؟
ایران سے گیس سپلائی کا معاہدہ ختم ہوجائے گا؟

  

 حکومت اپنے ملک سے دہشت گردی کے واقعات کو روکنے کے لئے کوششیں کررہی ہے، کرزئی اس کی مخالفت کررہا ہے، جبکہ طے شدہ پروگرام کے مطابق 2014ءمیں امریکہ افغانستان سے نکل جائے گا۔ چونکہ امریکہ کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے، اگر امریکہ افغانستان سے نکلنے میں مزید دیر کرے گا تو شاید امریکہ کی فوج کو اپنے ملک جانے کے لئے بہت دیر ہوجائے۔ روس کا حشر افغانستان میں کل کی بات ہے، اس کو بھی افغانستان سے نکلنے میں دیر ہوگئی تھی۔ مغربی ملکوں میں برطانیہ ہو، روس ہو یا امریکہ افغانستان کے پنجرے میں اپنی مرضی سے آتے ہیں، لیکن پنجرے سے نکلنے کے لئے افغانوں کی مرضی شامل ہوتی ہے چونکہ پختونوں کی لسٹ لمبی ہے، بے شمار لوگوں کو پتہ نہیں ہے، ملا عمر والے کوئٹہ شوریٰ، پنجابی طالبان، حقانی گروپ، تحریک طالبان پاکستان تمام کالعدم جہادی تنظیموں وغیرہ یہ سب امریکہ کے دشمن ہیں، افغانستان کی حکومت کی خواہش ہے کہ امریکہ طالبان کے درمیان جو مذاکرات ہوں، وہ اس میں شامل رہے۔ پاکستانی حکومت کی بھی یہی خواہش ہے کہ افغانستان میںمستحکم حکومت قائم ہو تاکہ وہاں سے پاکستان میں تخریب کاری نہ ہو اور نہ ہی تخریب کاروں کو افغانستان میں پناہ ملے اور نہ ہی پناہ پاکستان میں ملے۔

 یہ سب کے سب امریکہ کے دشمن ہیں، بلکہ تمام گروپ آپس میں بھی ایک دوسرے کے دشمن ہیں، کیونکہ امریکہ ان کا مشترکہ دشمن ہے، اور باہر کا دشمن ہے، اس کے علاوہ امریکہ کے لاکھوں کنٹینرز کا مسئلہ ہے، جس میں فوجیوں کا استعمال شدہ اسلحے کا سکریپ (کچرہ) ہے۔یہ جہادیوں کی نظر میں میدانِ جنگ کا مالِ غنیمت ہے ،امریکہ افغانستان سے جا نہیں رہا، بلکہ حالات بتاتے ہیں کہ وہ پسپا ہورہا ہے، امریکی کنٹینرز بیک فائر کررہے ہیں ، دھواں چھوڑ رہے ہیں۔ حالات کے تقاضے کے مطابق یہ سارے گروپ امریکہ کے مخالف اور آپس میں بھی ایک دوسرے کے دشمن ہیں، جو نہی ان کا مشترکہ دشمن امریکہ واپس ہوا یہ تمام گروپ آپس میں دست وگریبان ہوں گے، ان تمام گروپوں کی خواہش ہے کہ امریکہ اس خطے سے جلدسے جلد واپس جائے اور اندر کھاتے کچھ امریکہ کی واپسی میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔ اب رہا پاکستان تو کنٹینرز افغانستان سے روانہ ہو کر کراچی آتا ہے، یہاں سے سمندر میں، کراچی کے حالات سب کے سامنے ہیں تو حکومت امریکہ کے کنٹینروں کو محفوظ گزر گاہ کی گارنٹی کس طرح دے سکتی ہے۔

 آج ہماری یہ حالت ہوگئی ہے کہ ہمارے کارخانے بند ہوگئے ہیں، جن محرابوں سے امن و سکون کی آوازیں بلند ہوتی تھیں، وہاں سے دھواں نکل رہا ہے ،فضا میں ہر طرف بارود کی بو آرہی ہے، گلیوں بازاروں میں موت رقص کررہی ہے، معصوموں کی چیخیں گونج رہی ہیں،نہ گھر میں امان ہے، نہ گھر کے باہر سکون ہے، تو پھر واقعی امریکہ 2014ءمیں اس خطے سے نکل جائے گا۔ پچھلے دنوں ایران، امریکہ، روس، چین ، برطانیہ، فرانس، جرمنی دنیا کی چھ بڑی طاقتوں کے درمیان یورینیم کے افزودگی کے حوالے سے کامیاب مذاکرات ہوئے تھے، جس میں طے پایا تھا کہ ایران 5فیصد سے زیادہ یورینیم افزودہ نہیں کرے گا اور اس کے بدلے میں معاشی پابندیوں میں نرمی کردی جائے گی اور ایران کے منجمد اثاثے بحال کردئیے جائیں گے وغیرہ وغیرہ۔

اسرائیل نے ان تمام باتوں کے خلاف بہت واویلا کیا تھا۔ یہ 2013ءکا بڑا مثبت فیصلہ تھا۔ اس سمجھوتے سے امریکہ نے اپنا بہت بڑا مقصد حاصل کرلیا کہ اگر کنٹینروں کی واپسی میں پاکستان یا اس کے عوام کوئی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کریں گے تو امریکہ ایران سے اس کی بندر گاہ استعمال کرنے کی درخواست کرسکتا ہے۔ ایران کی نظر میں اس معاہدے سے پہلے امریکہ شیطان بزرگ تھا۔ ایران ،اسرائیل کو امریکہ کالے پالک کہتا ہے۔ ایران کی بھی یہی خواہش ہوگی کہ امریکہ جلد سے جلد اس خطے سے واپس جائے ۔ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ خیال پختہ ہوجاتا ہے کہ ایران امریکہ سے راضی ہوجائے گا۔امریکہ اس وقت دنیا کی سپر پاور ہے، اس لئے امریکی حکمرانوں کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں کسی نہ کسی طرح اپنا غلبہ قائم رکھیں۔موجودہ حالات جن کا پاکستان کو سامنا ہے اس میں بھی کسی نہ کسی طریقے سے امریکہ کا بہت زیادہ عمل دخل ہے، چونکہ امریکہ نے ہی روس کو افغانستان سے نکالنے کے لئے مجاہدین بھرتی کئے، ساری دنیا،بالخصوص مسلمان ملکوں سے اسلام کے نام پر مسلمان نوجوانوں کی امداد کی، جس کی وجہ سے روس کو افغانستان سے نکلنا پڑا، بلکہ امریکہ نے سوویت یونین کی ریاستوں کو الگ الگ آزادی دلوا کر روس(سوویت یونین ) کو کمزور کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اب امریکی حکمران طاقت کے نشے میں ساری دنیا کے ملکوں خصوصاً مسلمان ملکوں کے درمیان نفاق اور بے چینی پھیلا کر اپنا تسلط قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ پاکستانی حکمرانوں کو بھی آئندہ بہت سے چیلنج اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان نے امریکی دباﺅ کے تحت ایران کے ساتھ کیا گیا معاہدہ، جس میں گیس کی فراہمی ہونا تھی اس کو بند کرنے کا اشارہ دے دیا ہے، جس کے تحت آئندہ سال پاکستان کو لاکھوں ڈالر جرمانہ ادا کرنا پڑے گا، اگر امریکہ ایران کے ساتھ مزید بہتر صورت ِ حال پیدا کرلیتا ہے،تو پاکستان کے لئے مزید مشکلات پیدا ہوں گی۔ موجودہ حالات بھی پاکستان کی حکومت کو مضبوط خارجہ پالیسی اپنانے کی سخت ضرورت ہے، ڈنگ ٹپاﺅ پالیسی نقصان دہ ہوگی۔

پاکستان بجلی اور گیس کی کمی کی وجہ سے شدید دباﺅ میں ہے، پاکستان کے تمام دریاﺅں پر ہندوستان نے ڈیم تعمیر کر کے پاکستان کا پانی بند کردیا ہے، اور امریکہ بھی ہندوستان کو اس خطے کی چودہراہٹ دینے کا خواہش مند ہے۔ افغانستان کی سرحد پر پاکستان کے حالات پہلے ہی بہت کشیدہ ہیں، پاکستان کسی بھی سرحد کی طرف سے محفوظ نہیں ہے اور نہ ہی دوسرے ملکوں کی سرحدوں کے ساتھ لگنے والے پاکستانی صوبوں میں امن وسکون ہے، پاکستان ایٹمی قوت ہے، لیکن اس کے باوجود چاروں طرف سے خطرے میں گھرا ہوا ہے، اندرونی حالات دن بدن بدسے بدتر ہوتے جارہے ہیں، مہنگائی،امن وامان، یوٹیلٹی بلز اور بجلی ،گیس کے بلوں نے عوام کا بھرکس نکال دیا ہے، حالانکہ ابھی گرمی شروع نہیں ہوئی، لیکن لوڈشیڈنگ نے ہر طرف اندھیرے کرنے شروع کردئیے ہیں، بڑے منصوبوں کی صرف بجلی اور گیس کے لئے ضرورت ہے، باقی صرف سرمائے کا ضیاع ہے۔  ٭

مزید : کالم