عافیہ کی یاد

عافیہ کی یاد
عافیہ کی یاد

  

ہر شے سا کن تھی ،تنہا ،تنہائی میں بیٹھا ہوا کہ دور پر دیس سمندروں پار سے اک صدائے دردمندانہ آئی، صدائے اشک آ ئی ،صدائے ماضی و وقت آئی ،صدائے درد آ ئی۔ اس صدا سے آ شنائی تو بہت تھی پر جانے کیسے ذہن سے او جھل رہی ،اب کے آئی تو آنکھوں کو نم کر گئی، درد کے وہی منظر پھر دکھا گئی ،مجھے غےرت دلا گئی۔

 صدا آئی کہنے لگی میں بہت خو ش تھی، جب میرے ہم وطنو ! تم سب مےرے ساتھ تھے ،صدا ءسے صدائیں گو نجتی تھیں ہر غم دھندلا پڑ جا تا تھا سب درد بھو ل جا تے تھے۔انجام کا خو ف نہیں ہو تا تھا، دل میں صرف خو شی اور اطمینان تھا ،درد ملتے تھے زخم بنتے تھے بند سلا خوں میں چیخیں گو نجتی تھیں ،پر مَیں مطمئن تھی ، کہ اک عام سی بیٹی کو سب قوم کی بیٹی کہنے لگے۔ ہر چیز ،ہر زخم ،ہر درد پھر مجھے ذرہ سا لگتا تھا ۔۔

 پر دل کے کسی کو نے میں بڑی دیر سے اک سوال اٹھ رہا ہے ،بہت روکا نہیں رُکا ،صدا بن کے اُبھراہے ،مجھے ماں کہنے والو! مجھے بہن کہنے والو،مجھے بیٹی کہنے والو ،میرے ہم وطنو ایسا کیا ہوا کہ میری محبت دھندلا گئی ،میری یا دیں میرا درد صرف میرا ہی رہ گیا ۔ شکوہ نہ کرتی پر کیا کروں اے ہم وطنو! مجھے تم سے محبت ہے، یہ درد اس قدر محسوس کر لو بیان تفصیل مشکل ہے ۔میری حالت سمجھناچا ہو تو بس سو چ لینا ،اک ماں کو اولاد بھول جا ئے تو کیا ہو تا ہے ،اک بہن کو اس کے بھا ئی بھول جا ئیں تو کیا گزرتی ہے،اک بیٹی کو اس کے ماں باپ بھول جا ئیں تو کیا ہو تا ہے ۔۔

مَیں صدائے درد ہوں ،میں صدا ئے ماضی وو قت،میں صدا ئے حقیقت ہوں ،مَیں صدائے مظلوم ہوں ،مَیں صدائے انتہا ئے زخم ہوں۔۔پھر وہ اشکبار صدا کچھ یوں کہہ گئی ۔۔۔

میری خو شیاں منا نے والو

میرے درد با نٹنے والو

میں تو کب کی مر گئی ہو تی

اہل وطن زندہ ہوں ۔۔

تمہاری محبت کے سہارے

ہو سکے تو مجھے یاد رکھنا

میرے ننھے پھولوں کی آس ہو تم

میرے درد بھرے زخموں کی پکار ہو تم

میں درد مند ''عافیہ''ہوں

مجھے یاد رکھنا

میں پاک وطن عزیز کی بیٹی ہوں

مجھے یاد رکھنا

 یہ کہتے ہوئے مجھے وہ درد مندانہ صدا ءصدا ئے غےرت لگنے لگی، خو د پر شرم آئی احساس شرمندگی دلا گئی ،سو چ میں گم ہوا اور منہ کو چھپانے لگا کیسے کھو گیا۔ اس رنگ و مہ کی دنیا میں ،کیسے یاد نہ رہا کہ ہماری بہن عافیہ کی چیخیں آج بھی بند سلاخوںمیں گو نجتی ہیںاور وہ دکھیا ری حوا ءکی بیٹی آج بھی ہماری مدد کی منتظر ہے ۔۔۔!

مزید : کالم