ٹیلی پیتھی

ٹیلی پیتھی
ٹیلی پیتھی

  

ٹیلی پیتھی کو عام طور پر مابعد الطبیعات ( Metaphysics) کا موضوع سمجھا جاتا رہا ہے۔ جب انسان کو حواس خمسہ کی مدد کے بغیر کسی حقیقت کا ادراک ہوتا ہے۔ یا جب ایسا اتفاق ہوتا ہے کہ کسی شخص کے بارے میں ہم بات کررہے ہوتے ہیںیا کسی فرد کے متعلق ہمارے ذہن میں خیال آیا ہی ہوتا ہے کہ وہ ہمارے سامنے آکھڑا ہوتا ہے۔ ٹیلی پیتھی کا لفظ سب سے پہلے ممتاز سکالر فریڈرک ڈبلیو ایچ مائر نے 1882ءمیں استعمال کیا تھا۔ ابتدا ءمیں ماہرین نفسیات نے انسانی دماغ اور ذہن کے اعمال کو سائنسی تحقیق کا موضوع نہیں سمجھا،لیکن جب ماہرین سائیکو انالسیس اور تحت الشعور اور ہپناسز کے اثرات کا جائزہ لینے لگے تو نفیسات کو بھی سائنسی مضمون کے طور پر لیا جانے لگا۔ ٹیلی پیتھی پر بھی بہت تحقیق ہوئی، لیکن اس کے سلسلے میں کوئی قابل تصدیق سائنسی حقائق سامنے نہ آسکی، تاہم سائنس فکشن میں غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک ہیروز کو ٹیلی پیتھی کی صلاحیتوں سے متصف دکھایا جاتارہا۔

آج کے کالم میں میں خود کو پیش آنے والے ایک دو ایسے ٹیلی پیتھی کے واقعات بتاﺅں گا جو میرے لئے خاص طور پر بے حد حیران کن تھے۔ ایسے غیر متوقع ٹیلی پیتھی کے واقعات تقربیا ہر بالغ شخص کی زندگی میں پیش آچکے ہوتے ہیں، جن کی وہ کوئی وضاحت نہیں کرسکتا۔ماہرین نفسیات ٹیلی پیتھی کے لفظ کو مختلف معانی کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں ،لیکن ایسے ہی واقعات ہیں جو ہمیں روز مرہ زندگی میں پیش آتے ہیں۔ ہم ان کے متعلق عام طور پر یہ کہتے ہیں کہ یہ دوسرے کے ذہن کی سوچ کی لہریں ہمارے ذہن میں بھی آجاتی ہیں، یا جس شخص کا خیال ہمارے ذہن میں آتا ہے اور اس کے بعد وہ فورا ہی ہمارے سامنے پہنچ جاتا ہے ، اس سے بھی ٹکر ا کر آنے والی کچھ ایژ د کی لہریںہم تک پہنچی ہوتی ہیں جس وجہ سے اس کا خیال ہم تک پہنچا ہوتا ہے۔ شادی سے پہلے میں پرانی انارکلی لاہور کی، جس بیچلر لاج میں چار پانچ سال تک رہا ہوں وہاں ایسے واقعات میرے ساتھ کثرت سے پیش آتے رہے ۔ اکثر دوستوں سے بات چیت کرتے ہوئے یہ ہوجاتا کہ جو بات میں سامنے بیٹھے کسی دوست سے کہنے لگتا وہ میرے بولنے سے پہلے ہی بالکل وہی بات کرنا شروع کردیتا۔ یا جو بات میں نے کسی سے کہی وہ کہتا حد ہوگئی ، یہ بات تو میں ابھی آپ سے کہنے ہی والا تھا آپ نے بالکل میرے منہ کی بات پکڑ لی ہے۔

بہت بڑے انجینئر اور مصنف سید ضیاءالاسلام ہاشمی ،جن کے والد سید عبدالسلام ان دنوں فیصل آباد کے سب سے بزرگ وکیل تھے اور جن کے دادا سید عبدالقیوم جالندھری نے بر صغیر میں سب سے پہلے لاءکی کتب لکھی تھیں، ان کے ساتھ کافی نشست رہتی ، ہم اکثر اکٹھے شام کی سیر بھی کرتے ، ہر روز ان کے ساتھ ملاقات کے دوران ایک دو بار ایسا ضرور ہوجاتا کہ میں کچھ بولنے لگتا تو وہ پہلے ہی وہ بات کہنے لگتے ، یا میں کچھ کہتا تو وہ حیرت سے میرا منہ دیکھنے لگتے کہ یہ بات کیسے آپ نے کہہ دی جو میں ابھی سوچ رہا تھا۔ایسے واقعات سے دو باتیں تو ایسی ہیں جو میرے لئے ناقابل فراموش ہیں ۔ میرے ساتھ اس لاج میں میرے ایم اے کے کلاس فیلوز تنویر شاہد، جاوید اقبال پراچہ ، محبوب الحق ڈار ،ظفر اقبال، اظہر زمان اور منیر احمد منیر بھی رہتے تھے۔ چوتھی منزل پر رہتے ہوئے گرمیوں کے دنوں میں ہم رات کے وقت سونے کے لئے آخر ی چھت پر جا کر چارپائیاں ڈال لیتے تھے۔

 مَیں یونیورسٹی میں لیکچرار تھا تو میرے دوست تنویر شاہداور محبوب اخباروں میں کام کرتے تھے، جبکہ جاوید اقبال پراچہ پاکستان ٹیلی وژن کے شعبہ مخابرات سے منسلک تھے۔ایک رات دس گیارہ بجے کے وقت میں محبوب الحق ڈار اور جاوید اقبال چھت پر چارپائیوں پر بیٹھے باتیں کررہے تھے۔ تنویرشاہد کچھ فاصلے پر اپنی چارپائی پر پڑا خراٹے لے رہا تھا،ا س کی چارپائی ہم سے کافی فاصلے پر تھی ، نہ اس کے خراٹے ہماری بات چیت میں مخل تھے نہ ہماری آوازاس کی چارپائی تک پہنچ رہی تھی۔ ان دنوں 71ءکی پاک بھارت جنگ ابھی تازہ تازہ ختم ہوئی تھی ۔جاوید اقبال پراچہ قصور کی طرف بارڈر پر کوریج کے لئے گئے تھے اور ہمیں بتا رہے تھے کہ کس طرح اس محاذ پر شہید ہونے والے ایک پاکستانی میجر نے بے مثل داد شجاعت دی اور کس طرح دشمن کے ایک میجر نے لاﺅڈ سپیکر پر اسے للگا ر ا کہ تم اگر بہت بہادر ہو تو آﺅ اور مجھ سے بغیر ہتھیار کے اکیلے فری سٹائل لڑو۔ ہمارے میجر نے انڈین میجر کا یہ چیلنج قبول کیا، جس کے بعد انڈین سکھ میجر اپنے مورچے سے نکل کر للکارتا ہوا کچھ آگے آگیا۔

ہمارے میجر صاحب جوش میں اپنے مورچے سے نکل کر بہت آگے تک چلے گئے، جس کے بعد انڈین میجر فورا جست لگا کر واپس اپنے مورچے میں پہنچ گیا۔اس کے ساتھیوں نے اس کے ساتھ ہی فائر کھول دیا اور اس سارے محاذ پر دشمن کو ناک چنے چبوانے والے ہمارے بے حد قابل اور دلیر میجر نے دشمن کے دھوکے میں آکر شہادت پائی۔ اس کے ساتھ ہی ہم نے چارپائی پر سوئے ہوئے تنویر شاہد کی آواز سنی جو اونچی آواز سے اوں اوں کررہا تھا ۔ محبوب ڈار فوراً اس کے پاس پہنچا اور اسے جھنجوڑا تو وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ محبوب نے اسے پوچھا کہ تمہیں کیا ہوا تھا۔؟ اس نے کہا کوئی بات نہیں میں بس سوئے ہوئے ڈر گیا تھا۔ محبوب بال کی کھال اتارنے والا آدمی تھا ، اس نے پوچھا کس سے ڈر گئے، ارے یار تم نے کیا دیکھ لیا تھا خواب میں ۔ ؟ اس کے بعد تنویر شاہد نے بتایا کہ اس نے خواب میں دیکھا کہ جاوید اقبال پراچہ محاذ سے آیا ہے اور شفیق کو فلاں پاکستانی میجر کی شہادت کے متعلق بتا رہا ہے، اس کے بعد تنویر شاہد نے ہمیں وہ ساری تفصیل بتائی جو کہ پراچہ نے ہمیں بتائی تھی اور کہا کہ جب جاوید پراچہ نے یہ بتایا کہ کس طرح میجر صاحب دشمن کے دھوکے میں آئے اور دشمن کے سرپر بھرسٹ مارنے سے شہید ہوئے تو اس سے میں ڈر گیا تھا۔یہ سن کر حیرت سے ہمارے منہ کھلے رہ گئے۔ تنویر شاہد کی چارپائی ہم سے چار پانچ دوسری چارپائیوں کے بعد تھی اور ہم سب بہت آہستہ آہتہ باتیں کررہے تھے، تاکہ ارد گرد سوئے ہوئے دوسرے ساتھی ڈسٹرب نہ ہوں، لیکن تنویر شاہد کے ذہن میں اس وقت فٹ اینٹینا سو ئے ہوئے اسے سب کچھ سنا رہا تھا۔

اسی چار منزلہ عمارت رسول چیمبرز میں رہتے ہوئے ٹیلی پیتھی کا ایک اور واقعہ اس طرح پیش آیا کہ عمارت کی تقریبا ستر اسی سیڑھیاں اترتے ہوئے ایک دن میرے ذہن میں جانے کیوں یہ گانا گردش کرنے لگا ۔ ± میرا لال ڈوپٹہ ململ کا ہوا میں اڑتا جائے ± ۔ میں یہ گانا بڑبڑا نہیں رہا تھا ، یہ محض میرے ذہن میں گردش کر رہا۔میں سیڑھیاں اترتا رہا۔ جب نیچے گراﺅنڈ پر پہنچا تو دیکھا کہ ایک بارہ تیرہ سا لہ لڑکا لمبا سا کھدر کا میلا سا کرتا پہنے سیڑھیوں کے سامنے کھڑا ہے، میں نے ایک طرف سے ہو کر گذرنا چاہا تو وہ دوسری طرف میرے سامنے آکھڑا ہوا۔ اس کی نظریں میرے چہرے پر گھڑی ہوئی تھیں۔ میں دوبارہ دوسری طرف ہوا تو وہ پھر میرے سامنے آگیا۔ میں نے ہاتھ لہراتے ہوئے کہا کیا گڑ بڑ ہے میاں تمہارے ساتھ ۔؟ یہ سن کر وہ میرے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کچھ مسکرایا اور اپنے دونوں ہاتھ ہوا میں لہراتے ہوئے بولا۔ ± میرا لال ڈوپٹہ ململ دا تے ہوا چے اڈا جاوے۔۔۔۔! ± اور اس کے ساتھ ہی اس نے دوڑ لگا دی۔ چند سیکنڈ بعد میں اپنے حواس میں آیا تو مجھے خیال آیا کہ آخر یہ کون تھا اور میرے ذہن میں موجود اس گانے کے متعلق اسے کیسے معلوم ہوا ؟ لیکن ڈھونڈنے پر وہ لڑکا مجھے نظر نہ آسکا ۔ ارد گرد کے گھروں میں رہنے والے اس عمر کے اکثر لڑکے جانے پہنچانے تھے، لیکن یہ کوئی عجیب ہی بندہ تھا۔ آئندہ بھی کئی ماہ تک دیکھتا رہا کہ محلے میں کہیں اس کا سامنا ہو جائے، لیکن وہ ادھر کہیں ہوتا تو نظر آتا۔ ! یہ حقائق کم از کم ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ پوری کائنات ایژد کی لہروں سے معمور ہے، جن میں ہماری سوچ اور دل کے ارادے تک محفوظ ہوجاتے ہیں، جن کے ذریعے انسان کو کسی بھی طرح کا ابلاغ حواس خمسہ کے بغیر کسی بھی وقت ہوسکتا ہے۔! ٭

مزید : کالم