خودکلامی!

خودکلامی!
خودکلامی!

  

خود کلامی کی صورتیں زمان و مکان کی مناسبت سے بدلتی رہتی ہیں، آج سے 20 سال پہلے میں نے سڑک پر ایک صاحب کو جو میرے واقف ہیں دیکھا کہ فٹ پاتھ پر چلتے جاتے ہیں، میرے سلام کا جواب بھی دیتے ہیں اور نہ جانے کس سے باتیں کررہے ہی، کبھی ہنستے ہیں کبھی چہرہ پر سنجیدگی کا روپ آتا ہے تو کبھی افسوس کا۔ میں اپنی سادگی میں سمجھ نہ سکا کہ آخر ماجرہ کیا ہے، کسی دانا سے پوچھا تو انہوںنے بتایا کہ وہ موبائل فون پر آنے والی آواز کا جادو اپنے کانوں میں جگا رہے تھے اور بات کرنے کے لئے ان کی گردن میں ایک چھوٹا سا پرزہ لٹک رہا تھا پھر اس کے بعد تو موبائل فون کے کمالات بڑھتے چلے گئے اور بس یہ اب کھلونا بن گیا جسے 8 سال سے 80 سال کے بچے ذوق و شوق سے استعمال کررہے ہیں اور اس میدان میں ہر روز اتنی ایجادات ہورہی ہیں کہ ہم مہم جیسے میلوں پیچھے رہ جاتے ہیں۔

آپ بس میں ہوں، ٹرین پر ہوں یا یوں ہی بازار کے راستوں پر ہوں اس ایجاد کی بنا پر آپ کو دوسروں کی بہت ساری باتوں سے بلا تکلف واقفیت بھی مل جاتی ہے اور آس پاس کے لوگوں کے دکھ درد اور خوشیوں میں بغیر کسی دعوت کے شریک بھی ہوجاتے ہیں۔

میرے بیڈ روم کی کھڑکی سڑک کی طرف کھلتی ہے، عموماً رات کو اس پر گزرنے والے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں نہ صرف یہ کہ زور زور سے گفتگو کرتے ہوئے گزرتے ہیں (موبائل پر) بلکہ کبھی کبھی اپنے ان گانوں سے جو وہ سن رہے ہوں عامة الناس کو بھی محفوظ کرتے رہتے ہیں۔

آج کل تو سڑکیں روشن ہوتی ہیں اور بعض بعض علاقوں میں تو روشنی اتنی ہوتی ہے کہ ایک دوست اپنی بیٹھک میں سڑک کی روشنی سے ہی کام چلاتے ہیں۔

انسان حیوانِ ناطق ہے یعنی بولتا ہوا حیوان، بغیر بولے وہ رہ نہیں سکتا دوسری جنگ عظیم کے دوران برصغیر میں گو بڑی بڑی سڑکوں پر بجلی کے کھمبے لگ گئے تھے مگر گلیوں اور پگڈنڈیوں پر زیادہ سے زیادہ ایک مٹی کے تیل کا چراغ زرہ اونچائی پر جلتا تھا، جس میں ہر روز شام کو اتنا ہی تیل بھرا جاتا تھا کہ صبح تک وہ ختم ہوجائے اور چراغ خود بخود بجھ جائے۔

اس زمانہ میں رات کے اندھیرے اور ذاتی تحفظ کے لئے بھی راہ چلنے والے سب نہیں، کچھ ضرور الاپتے رہتے، لوک گانے یا پھر کوئی فلمی گیت اور اس طرح ان کا اکیلا پن دور ہوجایا کرتا تھا۔

ایک رات میں دیر سے آرہا تھا، ٹمٹاتے چراغوں کی روشنی میں بھی قدم بڑھارہا تھا کہ اتنے میں ایک لڑکا گاتا ہوا ذرہ تیزی سے گزرا، وہ ان دنوں کے ایک مشہور فلمی گیت کا ایک مکھڑا گائے چلا جارہا تھا رام جانے کب ہوگا سیّاں جی کا سامنا مجھے شرارت سوجھی لڑکا مجھ سے کم عمر تھا۔ میں نے اس سے اس کا نام پوچھا تو اس نے کوئی مسلمان نام بتایا، میں نے کہا آپ مسلمان ہیں آپ کو تو رام جانے کے بدلے اللہ جانے کہنا چاہیئے تھا۔ میری بات سن کر وہ چپ ہوگیا اور کچھ بھاگتے ہوئے آگے چلا گیا۔اب مجھے اس کی آواز نہیں آرہی تھی۔

 تو بات خود کلامی سے شروع ہوئی تھی میں سمجھتا ہوں کہ آج کی مصروف دنیا میں جب ہر شخص بیحد مشغول ہے اسے دوسرے کے لئے وقت دینا مشکل ہے۔ لہذا اگر آپ کو ہماری طرح کے بزرگ (بہمعنی عمر ) خود کلامی میں مشغول نظر آئیں تو انہیں خللِ دماغی کا مریض نہ سمجھیں، وہ موبائل پر کسی سے بات کررہے ہوتے ہیں اب ان کی عمر Chat کرنے کی نہیں رہی، البتہ ٹی وی کھول کر اس سے لطف اندوز ہوجاتے ہیں اور جب کوئی بھولی بری کہانی یا ڈائیلاگ یا غزل یا گیت سننے کو ملتی ہیں تو پھر وہ بھی اپنی عمرِ رفتہ کو آواز دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ٭

مزید : کالم