افغان عوام کی صدارتی انتخابات میں گہری دلچسپی

افغان عوام کی صدارتی انتخابات میں گہری دلچسپی

افغانستان کے صدارتی انتخابات میں خراب موسم او ر طالبان کی دھمکیوں کے باوجود58فیصد ووٹروں نے ووٹ ڈالے اور انتخابات کے عمل پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے-راکٹ حملوں کی وجہ سے 211 پولنگ سٹیشنز بند کرنے پڑے-بیشتر پولنگ سٹیشنز پر ووٹروں کا رش رہا ، ووٹرز کی خلاف توقع بھاری تعداد کی وجہ سے بہت سی جگہوںپر بیلٹ پیپرز کی تعداد کم پڑگئی- پولنگ کا وقت ایک گھنٹہ بڑھانا پڑا- افغانستان کے ان انتخابات میں سیکورٹی کے سخٹ انتظامات کئے گئے- زابل میں بم دھماکوں سے دو پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے-ادھر انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والے طالبان نے انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر ملکی افواج کی موجودگی میں الیکشن کی کوئی حیثیت نہیں- افغانستان کے ان انتخابات کا نتیجہ24اپریل کو جاری کیا جائے گا-

افغانستان جیسے ملک میں ووٹرز کی 58 فیصد ٹرن اوورایک بہت بڑی بات ہے جس سے ملک کے عوام کی انتخابات اور اپنے ملک کے مستقبل سے گہری دلچسپی کا اظہار ہوتا ہے- یہ ٹرن اوور معمول کے حالات کی نہیں بلکہ ایسی صورتحال میں ہوئی جب کہ طالبان نے انتخابات کے بائیکاٹ کے بعد ووٹرز کو سنگین نتائج کی دھمکی دے رکھی تھی، اس کے علاوہ موسم بھی ناخوشگوار تھا اور مسلسل بارش ہورہی تھی- افغانستان کے عوام گذشتہ ربع صدی سے شدید مصائب و مشکلات کا سامنا کررہے ہیں- پہلے اس پر روسی جارحیت ہوئی اوراب تیرہ برس سے امریکہ اور مغربی افواج کے قبضے اور طالبان کے درمیان وہاں کے عوام پس رہے ہیں- موجودہ انتخابات اس حالت میں ہوئے ہیں جبکہ امریکہ اور اتحادی افواج اسی سال کے اواخر تک ملک سے جارہی ہیں - اس صورت میں افغان عوام نے بھاری تعداد میں انتخابات میں حصہ لے کر ثابت کردیا ہے کہ وہ اپنی مرضی کا صدر چاہتے ہیں - ایسی جمہوری حکومت چاہتے ہیں جو انہیں امن اور سلامتی دے سکے- ملک کو تخریب کے بجائے تعمیر و ترقی کی منزل کی طرف لے جاسکے- طویل مصائب اور مشکلات سے دوچار رہنے والی افغان قوم اس بات کی مستحق ہے کہ اب اقوام عالم اس کے لئے امن اور ترقی کے راستے ہموار کریں اور ملک سے جاتے ہوئے کسی طرح کے فساد اور انتشار کے سامان پیدا کرکے نہ جائیں-اس مہذب اور روشنی کے دور میں ہر طرح کے استحصال اور ظلم کے باوجود امن اور سلامتی کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے جمہوری عمل- ! جمہوریت کا مقصد ہی عوام کی اکثریت رائے سے حکومت قائم کرنا اور حکومت کاری کے سارے عمل میں عوامی امنگوں اور خواہشات کو ساتھ لے کر چلنا ہے- اس عمل کے ذریعے دھوکہ باز اور غلط لوگوں کو عوامی نمائندگی اور حکومت سے باہر کیا جاسکتا ہے-اچھی کارکردگی نہ دکھانے والی حکومت کو رخصت کیا جاسکتا ہے، لیکن آمریت اور طاقت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرنے والی اقلیت سے نجات پانا عوام کے لئے طاقت کا استعمال کئے بغیر ممکن نہیں ہوتا- آمرانہ نظام میں کوئی مذہب کا نام استعمال کرے یا کسی اور بہانے سے اقتدار پر قابض رہے ، اس میں جبر اور ہر طرح کی آزادیوں کو ختم کرنے پر زور ہوتا ہے، آزادانہ تنقید اور آزادی اظہار کا حق چھین لیا جاتا ہے، حکومت میں موجود چند لوگوں کی خواہش و تمنا ہی ملک کا اصول بن کر رہ جاتی ہے- بدترین مظالم کے خلاف بھی آواز بلند کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی- عوام کو اپنا گلاگھونٹنے کا احساس رہتا ہے ، فکری ارتقاءرک جاتا ہے، تخلیق اور ایجادات کی راہیں بند کردی جاتی ہیں ، پورا معاشرہ گھٹن اور دقیانوسیت کی لپیٹ میں آجاتا ہے- آمر حکمران خود کو عقل کل سمجھنے لگتے ہیں، جبکہ پوری دنیا کے سکالرز اس بات پر متفق ہیں کہ جس نے جس لمحے خود کو عقل کل سمجھ لیا وہ گویا اسی لمحے ذہنی طور پر وفات پاگیا- فکر و خیال کی رنگا رنگی اور اظہار و ابلاغ کی آزادی ہی نے انسانی فکر کے راستے کھولے اور انسانی تہذیب کو جلاءبخشی ہے- انسانی ترقی اور عروج کا سفر فکری آزادی اور ایجاد واختراع کا مرہون منت ہے، اسی لئے دور حاضر کا انسان جمہوریت ، بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری اور آزادی افکار کو انسانیت کی معراج خیال کرتا ہے اور ان اقدار سے کسی طور بھی دستبردار ہونے کو تیار نہیں- جس قدر طالبان بزعم خود اپنے نظریات کو درست سمجھ رہے ہیں اس سے کہیں بڑھ کر علم و شعور کی روشنی کے زمانے میں بسنے والے لوگ جمہوری اقدار پر ایمان رکھتے ہیں-اس زمانے میں طاقت کے بل بوتے پر اقتدار چھننے والوں کو بھی اپنے جمہوریت کے طرفدار ہونے کا ڈھونگ رچانا پڑتا ہے- طاقت سے اقتدار میں آنے والی اقلیت کو اکثریت زیادہ دیر تک تسلیم نہیں کرتی-

طالبان نے انتخابات کو مسترد کرنے کے سلسلے میں یہ بہا نہ تراشا ہے کہ غیر ملکی افواج کی موجودگی میں الیکشن کی کوئی حیثیت نہیں- جبکہ کسی ملک کی حکومت کی غیر جانبدارانہ حیثیت پر اپوزیشن کو اعتماد نہ ہو تو اس کی طرف سے اقوم متحدہ یا کسی دوسری طاقت کی نگرانی میںانتخابات یا ریفرنڈم کرانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے- یہ انتخابات اگر غیر ملکی افواج کی نگرانی میں بھی ہوتے تو اس میں کسی کے جانیداری کا شبہ کرنے کی گنجائش نہ ہوتی - اصل بات تو یہ ہے کہ طالبان اپنے عقائد کے مطابق انتخابات اور جمہوریت پر یقین ہی نہیں رکھتے- ویسے بھی طالبان کو انتخابات میں کسی خاص حمایت کی توقع ہر گز نہیں تھی ، جن لوگوں کا سب زور ہی طاقت پر ہو اور ایک ہی ڈگر پر چلتے چلتے وسعت نظری اور افہام و تفہیم کی راہیں مسدود کربیٹھے ہوں ، ان کو وسیع تر عوامی تائید و حمایت کی توقع نہیں ہوسکتی- دوسروں کے نقطہ نظر کو سننے اور اختلافی نظریات کی برداشت کا حوصلہ پیدا کئے بغیر انسانی فکر و نظر میں بالیدگی اور کشادگی پیدا نہیں ہوتی - طالبان افغانستان میں انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کے باوجود غیر ملکی افواج افغانستان سے جانے کے بعد منتخب ہونے والی حکومت سے مذاکرات کرنے اور ملک میں امن قائم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنے پر مجبور ہوں گے- اگر وہ صرف طاقت کے زور پر ہی اقتدار پر قبضہ چاہیں گے تو اس کے لئے ان کا مقابلہ اتحادی افواج کی تربیت یافتہ ایک جدید فوج اور سیکورٹی اداروں سے ہوگا- پاکستان پہلے ہی افغانستان کے سلسلے میں مکمل غیر جانبدار رہنے کے عزم کا اظہار رچکا ہے- افغانستان کے طالبان کے علاوہ طالبان پاکستان کے لئے بھی افغان انتخابات میں سامنے آنے و الے عام لوگوں کے جوش و جذبہ میں عبرت و موعظت کے سو سامان موجود ہیں-

مزید : اداریہ