پنجاب یونیورسٹی کا کتاب میلہ

پنجاب یونیورسٹی کا کتاب میلہ

پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ کے زیر اہتمام ساتویں کتاب میلہ میں تین دنوں کے دوران ڈیڑھ لاکھ سے زائد کتب فروخت ہوئی ہیں- اس موقع پر ایک سو ساٹھ پبلشرز نے اپنی کتب کے سٹال لگائے - کتاب میلے میں معروف ادیبوں، صحافیوں ، ڈاکٹروں ، سکالرز اور سائنسدانوں کے علاوہ ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد اور طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی- عوام کی اکثریت نے یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے میلے کے انتظامات کی تحسین کی اور اس موقع پر پبلشرز کی طرف سے کتب کی قیمتوں میں دی جانے والی رعایت کو سراہا- کتب میں قارئین کی طرف سے گہری دلچسپی سے یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ انٹرنیٹ اور آئی ٹی کی سہولتوں کے باوجود عوام اپنے علم و شعور میں اضافے کے لئے کتب پر انحصار کرتے ہیں اور کتب بینی کا ذوق کم ہونے کے بجائے بڑھ رہا ہے- اس موقع پر وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران نے کہا کہ کتب بینی کے مزاج کو فروغ دینے کے لئے عوام اور طلبہ کو سستی کتب فراہم کی جانی چاہئیں-

کتب دوسروں کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کا بہترین ذریعہ ہیں ، ان کے ذریعے ہم تک ہر شعبہ کے ماہرین اور بڑے اذہان کے مالک سکالرز اور فلسفیوں کے خیالات پہنچتے ہیں - کتب ہمارے ذہن و فکر کو جلاءبخشتی ہیں،ہمیں تنگ نظری کے اندھیروں سے نکال کر حقیقت پسندی کی روشنی میں لاتی ہیں- پاکستان میں نیشنل بک کونسل جیسے اداروں کو معیاری کتب کی تیاری اور اشاعت اور حوصلہ افزائی کی ذمہ داری سونپی گئی تھی- بہت سے دوسرے ادارے بھی اچھی کتب کی حوصلہ افزائی کے لئے کام کررہے ہیں، لیکن عوام میں اچھی کتب پڑھنے کا ذوق پیدا کرنے کا جو کام کتب کی نمائش کرتی ہے وہ کسی اور طریقے سے نہیں ہوسکتا- اس طرح کی نمائشوں میں بیسیوں پبلشرز کی کتب ایک چھت کے نیچے ڈس پلے کی جاتی ہیں اور قارئین کو خصوصی قیمت کی رعایت دی جاتی ہے- جس وجہ سے ایسی نمائشوں میں کتب کے شائقین کی دلچپی بڑھتی ہے - پنجاب یونیورسٹی اس لحاظ سے قابل ستائش ہے کہ ملک بھر میں اس کی نمائش کتب نہ صرف سب سے بڑی بلکہ کتب کی فروخت کے حساب سے بھی اہم ترین ہوتی ہے- پنجاب یونیورسٹی کی مین لائبریری پاکستان کی سب سے بڑی لائبریری ہے، اور اس کے تمام تدریسی شعبوں کی لائبریریاں بھی اپنے اپنے شعبہ کی جدید اور اہم ترین کتب کا خزانہ ہیں-کتب بینی کے سلسلے میں عام لوگوں کی کم دلچسپی کا احساس تعلیمی اداروں کے علاوہ پبلک لائبریریوں کو دیکھ کر بھی ہوتا ہے جو اپنی تمام جدید سہولتوں کے باوجود عام حالات میں بے رونق او ر سنسان رہتی ہیں- اس سلسلے میں ذمہ داری تمام تعلیمی ادارو ں کی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے-امید کرنی چاہئیے کہ دوسرے تعلیمی ادارے بھی اس سلسلے میں پنجاب یونیورسٹی کی تقلید کریں گے-  ٭

مزید : اداریہ