پولیس کا لبریشن فرنٹ کے کاررواںپر حملہ، یاسین ملک و دیگر زخمی

پولیس کا لبریشن فرنٹ کے کاررواںپر حملہ، یاسین ملک و دیگر زخمی

سرینگر(اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس نے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک اور تنظیم کے دیگر رہنماﺅں کو پٹن کے علاقے پلہالن کے نزدیک وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جس کے باعث وہ زخمی ہو گئے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے ترجمان نے سرینگر میںجاری ایک بیان میں کہا کہ بھارتی پولیس نے محمد یاسین ملک اور پارٹی کے دیگر رہنماﺅں کو پلہالن کے نزدیک اس وقت روکا جب وہ انتخابی بائیکاٹ مہم کے سلسلے میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کےلئے بارہمولہ جا رہے تھے۔ انہوںنے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے لبریشن فرنٹ کے کاروان پر لاٹھیوں اور ڈنڈوںسےحملہ کیا جس سے محمد یاسین ملک سمیت درجن سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ ترجمان کے مطابق پولیس نے بعد میںیاسین ملک، مشتاق اجمل، شمیم حسین،شاہد مکایا، محمد عرفان خان، محمد حبیب اللہ اور یاسر مقبول کوگرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔پولیس کارروائی میں تنظیم کے کئی رہنما اور کارکن زخمی ہو گئے جن میں سے متعددکو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ محمد یاسین ملک کے علاوہ زخمیوں میں امتیاز احمد، شوکت احمد ڈار، اشفاق حسین، سلمان احمد، محمد عرفان خان، شاہد مکایا، ارشاد احمد، اویس احمد خان، عادل احمد اور محمد ہارون شامل ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ پولیس نے کارروان میں شامل کئی گاڑیوںکو بھی نقصان پہنچایا۔ انہوںنے کہا کہ واقعہ کی اطلاع جونہی بارہمولہ پہنچی تولوگوں کی ایک بڑی تعداد نے سڑکوںپر آکر احتجاجی مظاہرے شروع کر دیئے۔ ترجمان کے مطابق مظاہرین نے بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں فلک شگاف نعرے بلند کرتے ہوئے توحید گنج سے بس سٹینڈ تک مارچ کیا۔

ترجمان نے کہا کہ لبریشن فرنٹ کے رہنماشوکت احمد بخشی، شیخ عبدالرشید، میر سراج الدین داﺅد، پروفیسر جاوید اور بشیر احمد کشمیری نے اس موقع پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی رہنماﺅںکی مارپیٹ اور گرفتاری کی مذمت کی۔ انہوںنے لوگوںپر زور دیا کہ وہ نام نہاد انتخابات سے دور رہیں کیوں کہ ان کا مقصد کشمیر پر بھارتی قبضے کو طول دینا ہے۔اا

مزید : عالمی منظر