ٹی 20کا عالمی میلہ اور پاکستانی کرکٹ

ٹی 20کا عالمی میلہ اور پاکستانی کرکٹ
ٹی 20کا عالمی میلہ اور پاکستانی کرکٹ

  

ٹی 20 کا عالمی میلہ ختم ہو گیا۔سری لنکا نے پہلی بار ٹی ٹونٹی کی بادشاہت کا تاج اپنے سر پر سجا لےا۔ پاکستانی شائقین کی ٹورنامنٹ میں دلچسپی تو ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں آخری لیگ میچ میں گرین شرٹس کی رسوا کن شکست کے بعد ہی ختم ہو گئی تھی۔ پاکستانی ٹیم کی میگا ایونٹ میں ناقص کارکردگی پر شائقین اور سابق کرکٹرز نے اپنا غصہ، کھلاڑیوں، بورڈ اور ٹیم مینجمنٹ کو بُرا بھلا کہہ کر نکال لیا۔ ٹی وی پر بیٹھے کچھ ماہرین کرکٹ نے ٹیم کی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں شکست پراپنے قیمتی اور مفید مشوروں کا مفت میں خوب اظہار کیا۔ ےہ سب کچھ پہلی بارنہےں ہواٹےم کی ہر شکست پراےسا ہی ہوتا ہے ، تاہم اس بار چیئرمین پی سی بی نے پاکستانی ٹیم کی میگاایونٹ میں مایوس کن کارکردگی پر کھلاڑیوں کے احتساب کا نعرہ بلند کیا۔ کھلاڑیوں کا احتساب کیا ہونا تھا یہاں تو بڑے بڑے لٹیروں کو کوئی نہیں پوچھتا، کھلاڑی تو ایک میچ میں زیرو ہوتے ہیں تو اگلے میچ میں قوم کے ہیرو بن جاتے ہیں۔ چیئرمین پی سی بی کے احتساب والے اعلان پر ہی کچھ سیانوں نے کہہ دیا تھا کہ اب کسی کو قربانی کا بکرا بنا کر اس شکست کا کفارہ ادا کیا جائے گا اور وہ بنا دیا گیا، ”پروفیسر“ کو۔ پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار کسی کپتان نے ٹیم کی ناکامی کی ذمہ داری اپنے سر لے کر قیادت سے استعفیٰ دے دیا اگر تو محمدحفیظ نے بغیر کسی دباﺅ کے اپنی مرضی سے کپتانی چھوڑی ہے تو واقعی یہ بڑی بہادری ہے مگر ایسا معلوم نہیںہوتا، کیونکہ استعفیٰ والی پریس کانفرنس کے بعد پروفیسر صاحب حقیقت پر پردہ ڈالنے میں ناکام رہے اور محمد حفیظ ”پروفیسر“کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تھے۔

خیر اگر نجم سیٹھی صاحب نے اس لئے حفیظ کو کپتان سے ہٹایا ہے کہ اِس سے کرکٹ کے مسائل حل ہو جائیں گے تو یہ درست نہیں۔ پاکستان کرکٹ کے ”کرونک“ مسائل تو پوری ٹیم بھی تبدیل کرنے سے ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ کرکٹ کی بہتری کے لئے سسٹم کو ٹھیک کرنا ہو گا۔ ملک کے دوسرے اداروں اور محکموں کی طرح کرکٹ بورڈ میں بھی کرپشن، سفارش اور پرچی کا استعمال ہوتا ہے۔ آﺅٹ آف فارم اور اَن فٹ کھلاڑی خودبخود ٹیم میںشامل نہیں ہو جاتے، بلکہ اس کی براہ راست ذمہ دار سلیکشن کمیٹی ہوتی ہے۔ چلے ہوئے کارتوسوں کی ٹیم میں بار بار یاترا بھی سلیکشن کمیٹی کی ہی مہربانی سے ممکن ہوتی ہے۔ اس لئے سب سے پہلے کھلاڑیوں کے انتخاب کے عمل سے سفارش اور پرچی کا مکمل خاتمہ کیا جانا چاہئے تاکہ قابل اور نوجوان کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل ہونے کا موقع مل سکے۔ شفاف سلیکشن سے ہی عمدہ ٹیم کا انتخاب ممکن ہے۔ پاکستان کے کچھ مسائل بہت پرانے ہیں۔ قومی ٹیم کی فیلڈنگ برسوں سے خراب چلی آ رہی ہے، کھلاڑیوں کی کارکردگی میں عدم تسلسل بھی نیا مسئلہ نہیں، یہ مسائل کھلاڑیوں کے احتساب یا مہنگے غیر ملکی کوچ رکھنے سے ٹھیک نہیں ہوں گے، بلکہ ان مسائل کے لئے ہمیں ڈومیسٹک کرکٹ کے نظام کو ٹھیک کرنا ہو گا۔ اکیڈمی کرکٹ میں تربیت کے نظام کا ازسر نو جائزہ لینا ہو گا۔ کم عمر میں کھلاڑیوں کے لئے سیکھنا آسان ہوتا ہے۔ قومی ٹیم میں پہنچ جانے کے بعد لڑکوں میں سیکھنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں اس لئے کھلاڑیوں میں مستقل طور پر سامنے آنے والی خامیوں کو ڈومیسٹک کرکٹ میں ٹھیک کرنے کے لئے کام کیا جانا چاہئے۔ پاکستان کے نئے نوجوان کھلاڑی عالمی سطح پر معیار سے ہم آہنگ نہیں، جس کی ایک وجہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کا نہ ہونا ہے اس لئے نوجوان کھلاڑیوں کو کاونٹی کرکٹ کھیلنے کی اجازت دینی چاہئے بلکہ بورڈ کو اس کا اہتمام کرنا چاہئے جس سے پاکستان کے کھیل میں بہتری آ سکتی ہے۔ چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی صاحب نے بھی قوم کو ملکی کرکٹ میں بہتری کی امید تو دلائی ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ چیئرمین پی سی بی کا وعدہ وعدہہی رہ جاتا ہے ےاکہ واقعی بہتری کے لئے عملی اقدامات کئے جاتے ہیں۔

٭٭٭

مزید : کھیل اور کھلاڑی