گنگارام ہسپتال میں کروڑوں روپے کے گھپلوں کا انکشاف

گنگارام ہسپتال میں کروڑوں روپے کے گھپلوں کا انکشاف
گنگارام ہسپتال میں کروڑوں روپے کے گھپلوں کا انکشاف

  

لاہور(ج الف/ جنرل رپورٹر) گنگارام ہسپتال میں ادویات، سرجیکل اور ڈسپوزیبل آلات کی خریداری میں کروڑوں روپے کے گھپلوں کا انکشاف ہوا ہے جس میں پرچیز سیل کے انچارج نے من پسند کمپنیوں کو نواز کر لمبے چوڑے فوائد حاصل کرنے کے لئے ہسپتال کو سیاست کے اکھاڑے میں تبدیل کر دیا ہے

نشاندہی کرنے والی چیف فارماسسٹ اور دیگر فارماسسٹ خواتین کے خلاف محاذ آرائی شروع کر دی ہے جس کے خلاف چیف فارماسسٹ اور دیگر فارماسسٹوں نے پرنسپل فخرامام اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عمر فاروق بلوچ کو شکایت کر دی ہے اور انہیں پرچیز سیل کے انچاج ڈاکٹر خالد محمود کی کارستانیوں سے آگاہ کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اے ایم ایس ڈیپوٹیشن پر سوشل سکیورٹی سے آیا وہاں سے میڈیکل آفیسر تھا آتے ہی اے ایم ایس پرچیز بن گیا اور من پسند کمپنیوں سے بھاری ’’نذرانے‘‘ لئے اور غیر معیاری سرنجیں لاکھوں کی تعداد میں خرید لیں اس طرح پیشاب کی نالی فوس سرجیکل کی رجسٹرڈ آیٹم میں ایک کمپنی سے لاکھوں کی تعداد میں خرید لی اورخواتین کے مطابق ’’فوس‘‘ نامی سرجیکل نامی کو تصدیق کے لئے ڈرگ ٹینگ لیبارٹری نے بھجوایا جب انہیں کہا گیا کہ اس کو مریضوں پر استعمال کرنے سے قبل اس کی ڈی ٹی ایل رپورٹ ضروری ہے تو اے ایم ایس نے چیف فارماسسٹ سمیت دیگر متعلقہ فارماسسٹوں کے خلاف محاذ آرائی شروع کر دی جب اس پر خواتین نے احتجاج کیا تو اے ایم ایس نے انہیں الو کی پھٹیاں جیسی غلیظ گالیاں دیں۔شکایت میں کہا گیا ہے کہ ایم ایم ایس نے ہسپتال میں اپنا گروپ بنانے کے لئے ایک بلال انٹرپرائزز نامی معمولی کمپنی کو صفائی کا ٹھیکہ دلانے کے لئے کمپنی کی فنانشل کاغذات تبدیل کر دیئے بتایا گیا ہے کہ گنگارام ہسپتال میں پرچیز بل میں ادویات اور سرجیکل آلات کی خریداری میں اے ایم ایس ڈاکٹر خالد کی من مانیاں علاج پر پہنچ گئی ہیں من مانیوں کے سامنے دیوار بننے والے ملازمین کے خلاف محاذ آرائی شروع کر دیتا ہے ملازمین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر خالد محمود سوشل سکیورٹی میں میڈیکل آفیسر تھے اور وہاں پرچیز سیل کے انچارج تھے سستی اشیاء مہنگے داموں خریدنے پر انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا بعدازاں گنگارام ہسپتال میں اپنے دست راست ڈاکٹر پروفیسر امتیاز جو کہ پرنسپل کے کلاس فیلو تھے ان کی مدد سے ڈیپوٹیشن پر گنگارام آ گئے اور جہاں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عمر فاروق کے خلاف ڈاکٹر پرویز امتیاز کی مدد سے لابنگ کرتے رہے جس کا مقصد عمر فاروق بلوچ کی جگہ پرنسپل کی مدد سے ڈاکٹر پرویز امتیاز کو ایم ایس لگانے کی کوشش کیں کوششیں ناکام ہونے پر جنرل ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر پرویز امتیاز کی مدد سے پرچیز بل بنوا لیا جہاں ایم ایس کے حامیوں کو آڑے ہاتھوں لیا جس کا مقصد وہاں سیاہ سفید کا مالک بننا تھا اس دوران چیف فارماسسٹ ناز سامنے آتی تو اس کے خلاف انکوائریاں شروع کر دیں اور من پسند کمپنیوں سے انتہائی غیر معیاری سرنجیں اور دیگر سامان کی خریداری کی ’’فولی‘‘ نامی ٹیوب خرید کر مبینہ طور پر بھاری نذرانے لئے اور چیف فارماسسٹ نے ’’فولی‘‘ کے معیار کو ڈی ٹی ایل بھجوانے سے منع کر دیا انہو ں نے اقرار کیا تو ان کے خلاف محاذ آرائی شروع کر دی ان کو غلیظ گالیاں دیں ۔معاملہ پرنسپل کے پاس گیا تو اسے پرنسپل نے اپنے دست راست کو بچانے کے لئے دبا دیا اس حوالے سے ڈاکٹر خالد محمود اے ایم ایس سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے ماضی کی غلطیوں کو درست کر رہا ہوں چیف مارماسسٹ کو گالیاں نہیں دیں بد انتظامی درست کی تو میرے خلاف محاذ گرم ہو گیا اس حوالے سے چیف فارماسسٹ ناز سے بات کی گئی تو انہو نے کہا کہ ایم ایم ایس سوشل سکیورٹی میں بھی ایسی ہی غلط کاریوں کی وجہ سے پرچیز سے ہٹائے گئے تھے اب گنگارام ہسپتال جو ایک مثالی ہسپتال ہے اس میں لوٹ مار کا بازار گرم کرنا چاہتے ہیں میں آڑے آئی تو میرے خلاف ہو گیا فارماسسٹوں کو الو کی پٹھی کہہ کر مخاطب کرنا ہے اس حوالے سے ایم ایس ڈاکٹر عمر فاروق بلوچ سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ معاملے کو حل کر لیں گے جو بھی بات یا بدانتظامی یا کرپشن میں ملوث ہوا قانون کے مطابق کارروائی کرینگے۔

مزید : تعلیم و صحت