قیدیوں کی رہائی کا طریقہ طے کرنے کیلئے کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ

قیدیوں کی رہائی کا طریقہ طے کرنے کیلئے کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ

 اسلام آباد( خصوصی رپورٹر)حکومت اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹیوں نے ایک خصوصی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیاہے جو قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے میکانزم تیارکرنے میں تعاون کرے گی ۔ نجی ٹی وی کے مطابق حکومتی اور طالبان مذاکراتی کمیٹیوں کا اپنے اپنے قیدیوں کی رہائی کیلئے خصوصی کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق ہوا ہے یہ خصوصی کمیٹی قیدیوں کے حوالے سے نہ صرف میکانزم تیارکرنے کے لئے تعاون کرے گی بلکہ دونوں اطراف کی طرف سے فراہم کی جانیوالی فہرستوں میں ناموں کی تصدیق بھی کرے گی کہ قیدیوں کی نوعیت کیا ہے اور وہ کس جرم میں قید ہیں ،دوسری جانب حکومتی کمیٹی کے طالبان سے براہ راست مذاکرات کا دوسرا دور اگلے دو تین دن میں متوقع ہے ، حکومت پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ دوسرے دور سے پہلے طالبان کے 13 کمانڈر رہا کردیئے جائیں گے ۔ گزشتہ روز حکومتی اور طالبان رابطہ کار کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کے بعد چودھری نثار نے طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ بھی غیر عسکری اور بے گناہ قیدیوں کو رہا کردیں۔ کمیٹیوں کی ملاقات میں جنگ بندی اور غیرعسکری قیدیوں کی رہائی پر بات چیت ہوئی۔ حکومتی موقف طالبان شوریٰ تک پہنچانے کیلیے وفد دو تین روز میں روانہ ہوگا۔اس نئی ملاقات کے بارے میں پروفیسر ابراہیم پر امید ہیں کہ طالبان بھی پیش رفت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اعتماد سازی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ مذاکرات کامیاب ہونے سے عوام کا امن کا خواب پورا ہوجائے گا،اتوارکو میڈیا سے بات چیت میں پروفیسر ابراہیم نے کہا ہے کہ آنے والے چند دنوں میں طالبان شوریٰ سے ملاقات کیلئے روانہ ہوجائیں گے ، انہوں نے مزید کہا کہ دونوں کمیٹیاں اعتمادسازی کے بعد خوشگوار ماحول میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی کافی حد تک کامیابی کی امید ہے اور مذاکرات کی کامیابی کے بعد عوام کا امن کا خواب پورا ہوجائے گا۔ ادھر مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ حکومت خیر سگالی کے اقدامات کر رہی ہے ، اب طالبان سے بھی کہیں گے کہ وہ مکمل جنگ بندی کر دیں۔ اصل میں مذاکرات ابھی شروع نہیں ہوئے،باقاعدہ مذاکرات کیلیے بہتر فضا بن گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے 19 طالبان کی رہائی کے بعد جمعہ کو طالبان نے جنگ بندی میں دس روز کی توسیع کا اعلان کیا تھا۔

مزید : صفحہ اول