اللہ تعالیٰ نے نئی زندگی دی ہے ورنہ ہم تو مایوس ہوگئے تھے،مہدی شمسی

اللہ تعالیٰ نے نئی زندگی دی ہے ورنہ ہم تو مایوس ہوگئے تھے،مہدی شمسی

کراچی(آن لائن)مارننگ گلوری جہاز کے سیکنڈ آفیسر مہدی شمسی نے کہا ہے کہ ہمیںاللہ تعالیٰ نے نئی زندگی دی ہے ورنہ ہم تو مایوس ہوگئے تھے،نیٹو کے جہازوں کوہمارا پیغام بروقت نہ ملتا تو ہمارا جہاز تباہ کر دیا جاتا، مقامی لوگ اپنے مشن کیلئے ہمیں استعمال کرنا چاہتے تھے۔قزاقوں سے رہائی کے بعد گذشتہ روز وطن واپس پہنچنے کے بعد اتوار کو ایک نجی ٹی وی چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیپٹن نعمان کے اصرار پر انہوں نے آپریشن میں حصہ لیا تھا جبکہ ان کی ڈیوٹی ختم ہوچکی تھی لیکن کیپٹن کے مجبور کرنے پر دوبارہ فیملیز کو اطلاع کی اور والدہ کو اطلاع دی کہ لیبیاءمیں ہمارے ساتھ سانحہ ہوگیا ہے۔ والد دل کے مریض ہیں انہیں بتانا مناسب نہیں سمجھا لیکن چھوٹے بھائی نے والد کو بتادیا جس پر انہیں دوبارہ ہسپتال لے جانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہماری پوری ٹیم کی کوشش تھی کہ آپریشن نہ کیا جائے لیکن اس وقت وہاں کے وزیر تیل بیس افراد کیساتھ آئے اور کہا کہ آپ کو مارنا کوئی بڑی بات نہیں لہٰذا بہتر یہی ہے کہ ہمارے ساتھ تعاون کرو۔ شمسی مہدی نے کہا کہ ان کا ایک مشن تھا جس میں وہ ہمارا ساتھ چاہتے تھے لیکن ہم اس وقت لاچار تھے اور اس میں شرکت نہیں کرنا چاہ رہے تھے کیونکہ وہ ہمارے ملک کی جنگ نہیں تھی لیکن بعدازاں ہمیں مجبوراً اس آپریشن کا حصہ بننا پڑا۔ مہدی شمسی نے کہا کہ انہوں نے کارگو کو لوڈ کرایا اور پھر دوسری طرف ہمیں انتظار کرایا۔ اس دوران ان کی کشتیوں کو مسلح افراد نے گھیرے میں لے رکھا تھا اس کے بعد لیبیاءکی حکومت کی گن بوٹس ہمارے جہاز کی طرف آئیں تو پھر دونوں کے درمیان آپس میں بمباری اور مسلح تصادم ہوا لیکن قزاقوں کے افراد جہاز پر سوار تھے اور وہ جہاز کو رات کے اندھیرے میں نکالنا چاہتے تھے اور رات کو پھر ان کے کہنے پر ہم جہاز کو وہاں سے لے گئے لیکن اگلے دن گیارہ بجے ایک گن بوٹ نے ہمارے جہاز پر بمباری کی اس دوران کپتان نے جہاز کو بچانے کی بہت کوشش کی لیکن اس سے ہمارے جہاز میں آگ لگ گئی اور ایسا لگ رہا تھا کہ کچھ سیکنڈوں میں ہی ہم سب مارے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس دوران ایک نیٹو شپ کو بھی مدد کیلئے پیغام بھیجا ہوا تھا اور اس دوران ایک معجزہ رونماءہوا جس جہاز کو مدد کیلئے پیغام بھیجا گیا تھا وہ ہمارے بالکل قریب تھا جس نے فوری طور پر مسلح بوٹ کے افراد کو خبردار کیا کہ اس جہاز پر حملہ نہ کریں اس طرح نیٹو جہاز ہمیں اس ڈینجر زون سے نکال کر آگے اپنی سائیڈ پر چلا گیا۔ مہدی شمسی نے کہا کہ اس کنٹریکٹ کے بعد شادی کا ارادہ بھی تھا اور 30 جنوری کو ان کی منگنی بھی ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد بھی میں گھبرانے والوں میں سے نہیں ہوں اور دوبارہ واپس جاﺅں گا۔

مزید : صفحہ آخر